نواز شریف کی درخواست پرالیکشن کمیشن نے NA15 مانسہرہ کا نتیجہ روک دیا

12 فروری ، 2024

لاہور،اسلام آباد(نمائندگان ،صباح نیوز) الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 15 مانسہرہ سے نواز شریف کی شکست کے بعد ریٹرننگ افسر کو حتمی نتیجہ جاری کرنے سے روک دیا۔چیف الیکشن کمشنرسکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 4رکنی بنچ نے نواز شریف کی نتائج میں مبینہ تبدیلی کی درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت وکیل نواز شریف نے کہا کہ ہمیں 125 پولنگ سٹیشنز کے فارم 45 نہیں ملے، کالا ڈھاکہ کا علاقہ انتہائی پسماندہ اور برفباری والا ہے۔ پریزائیڈنگ افسران نے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا تھا، حلقے میں الیکشن شفاف نہیں ہوئے، فارم 45 کے بغیر فارم 47 جاری نہیں ہوسکتا۔ این اے 15مانسہرہ کا حتمی نوٹیفکیشن روکا جائے ۔دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ریٹرننگ افسر کو این اے 15 مانسہرہ کے حتمی نتیجے سے روک دیا۔ میڈیا گفتگو میں مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن( ر) صفدر نے کہا کہ مانسہرہ سے نواز شریف کامیاب ہوئے ، 45 حلقوں میں نتائج تبدیل کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے 35 پنکچر کا الزام بھی لگایا تھا، الزام سے کچھ نہیں ہوتا نتائج کی تبدیلی ثابت کریں۔واضح رہے کہ فارم 47 کے مطابق این اے 15 مانسہرہ سے آزاد امیدوار گستاسب خان کامیاب ہوئے تھے۔ الیکشن کمیشن نے این اے47 اور 48 میں بھی نتائج میں مبینہ دھاندلی کے خلاف درخواست کی سماعت کے بعد آر اوز کوحتمی نوٹیفکیشن سے روک دیا۔ این اے 47 اور 48 کا آر او کا فیصلہ تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوارں علی بخاری اور شعیب شاہین نے چیلنج کیا تھا۔ اسلام آباد کےدو قومی حلقوں میں مسلم لیگ (ن )اور ایک میں آزاد امیدوار راجہ خرم شہزاد نے میدان مار ا،سیالکوٹ نمائندہ جنگ کے مطابق این اے71کی تحریک انصاف کی حمایت یافتہ ریحانہ امتیاز ڈار نے لاہور ہائی کورٹ میں خواجہ آصف کی کامیابی اور نتیجہ کو چیلنج کردیا۔’’ جنگ‘‘ سے گفتگو میں ریحانہ ڈار نے کہا کہ2018میں میرے بیٹے کی فتح کو چھینا گیااور2024کو انکی جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا مگر میں خواجہ آصف کا مرتے دم تک پیچھا کرونگی، الیکشن کمیشن نے آزاد امیدوار قیصرہ الہٰی کی درخواست پر ریٹرننگ آفیسر کو این اے 64 گجرات 3 کا حتمی نتیجہ بھی جاری کرنے سے روک دیا اور چوہدری سالک حسین کو 15 فروری کو طلب کرلیا، الیکشن کمیشن نے ریٹرننگ آفیسر کو قیصرہ الہٰی یا ان کے وکیل کی موجودگی میں فارم 47 تیار کرنے اور ڈی پی او گجرات کو کوئی رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی ، گجرات نمائندہ جنگ کے مطابق گجرات کے قومی اسمبلی کے تین اور صوبائی اسمبلی کے چار حلقے چیلنج کر دئیے گئے،این اے 63 سے آزاد امیدوار ساجد یوسف چھنی نے ق لیگ کے امیداور چوہدری حسین الٰہی،این اے 65سے آزاد امیدوار وجاہت شاہ نے ن لیگ کے امیدوار نصیر عباس سدھ ،پی پی 31 سے آزادامیدوار مدثر مچھیانہ نے ق لیگ کے امیدوار چوہدری شافع حسین ،پی پی 32سے آزاد امیدوار چوہدری پرویز الٰہی نے ق لیگ کے امیدوار چوہدری سالک حسین ،پی پی 33سے تحریک لبیک کے امیدوار نے ق لیگ کے امیدوار مدد علی شاہ اور پی پی 34 سے آزاد امیدوار سمیرا الٰہی نے ق لیگ کے امیدوار اعجاز رنیاں کی الیکشن میں جیت کو چیلنج کر دیا،الیکشن کمیشن نے ان حلقوں کے نتائج کو روک دیا ہے،خوشاب نمائندہ جنگ کے مطابق خوشاب میں قومی اسمبلی کا واحد حلقہ جس کے 26 پولنگ سٹیشنز پر 15 فروری کو ری پول ہوگا اس میں رائے دہندگان کی کل تعداد 33639ہے ان میں سے 18027مرد اور 15612خواتین ہیں، 8فروری کو ان پولنگ اسٹیشنز پر ن لیگ کے حامی آزاد امیدوار معظم شیر کلو نے 6278ووٹ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار اکرم خان نیازی نے 4460ووٹ آزاد امیدوار ھارون بندیال نے 3062ووٹ اور استحکام پاکستان پارٹی کے گل اصغر بگھور نے 4094ووٹ لئیے جو بیلٹ پیپرز نذر آتش ہو جانے کے سبب منسوخ قرار پائے،ٹوبہ ٹیک سنگھ نمائندہ جنگ کے مطابق قومی اسمبلی حلقہ این اے 106 سے تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار خالد نواز، پی پی 121 سے پی ٹی آئی کے سعید احمد سعیدی اور پی پی 122سے مسلم لیگ(ن) کے ایوب خاں گادھی کی طرف سے ووٹوں کی دوبارہ گنتی کیلئے ریٹرننگ افسران کو درخواستیں دی گئی ہیں۔