کیا شہباز حکومت کو ایوان سے باہر پہلی مزاحمت کا سامنا مولانا سے ہوگا ؟

23 فروری ، 2024

اسلام آباد (فاروق اقدس، جائزہ رپورٹ) جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے اس طرح وزیراعظم شہباز شریف کی نئی حکومت کو ممکنہ طور پر پہلی مزاحمت کا سامنا اپنے ماضی کے رفیق خاص کی جانب سے ہوسکتا ہے تجزیہ نگاروں اور مبصرین کہہ رہے ہیں کہ قصر صدارت کا مکیں ہونا انکی دیرینہ خواہش ،تاحال تشنہ ہے ,مایوسی کے شکار مولانا نے اپنی سیاست پر خودکش حملہ کیا ہے دیکھنا ہے مولانا کا سنجیدہ اقدام کب اور کیا ہوگا ، انتظار کیا جارہا ہے کہ انکی مفاہمت یا ان سے مفاہمت کا اونٹ جلد ہی کس کروٹ بیٹھے گا اس سے قبل مولانا فضل الرحمٰن ایک ٹی وی انٹرویو میں عدم اعتماد کی تحریک کے حوالے سے انکشافات بھی کر چکے ہیں جس کے بعد واضح ہو گیا تھا کہ مولانا نے پی ڈی ایم رفقاء اورانکی بننے والی حکومت سے راستے جدا کر لئے ہیں بلکہ تحریک انصاف سے سیاسی رابطے استوار کرنے کے اشارےدیئےہیں، پارلیمانی سیاست سے بھی لاتعلق رہنے کا عندیہ دیا ہے قومی اسمبلی میں اسوقت انکی چھ نشستیں ہیں کے پی میں 2 اور بلوچستان اسمبلی میں 10، ہو سکتا ہے انکے ارکان حاضری لگانے کی حد تک ایوان میں جائیں لیکن مولانا ایوان میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ انہوں نےایک تقریب میں اسٹیبلشمنٹ کیخلاف حالیہ انتخابات میں کرپشن کے الزامات عدلیہ کو بے بس ادارہ، آئین کو محض چند اوراق سے تعبیر کرتے ہوئے پارلیمان پر بھی شدید نکتہ چینی کی اور اسکے کردار کو بے مقصد قرار دیاانکے ان فیصلوں اور جارحانہ طرزعمل کو بعض تجزیہ نگار مایوسی کی انتہا اور ردعمل کو احساس محرومی اورفرسٹریشن قرار دیتے ہیں تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخرکار مولانا کے اس انتہا تک پہنچنے کے عوامل اور محرکات کیا ہیں جن کے ردعمل نے انکے دل میں سیاست میں سب سے بدترین حریف عمران خان کیلئے بھی نرم گوشہ پیدا کیا ہے جسے وہ ہمیشہ یہودی ایجنٹ اور مغرب کی جانب سے معیشت اور اخلاقی اقدار کی تباہی کیلئے پاکستان بھیجے جانے کے الزامات لگایا کرتے تھے اس پس منظر کے ایک مختصر جائزے سے تفصیلی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، تجزیہ نگاروں اور مبصرین کے ان تبصروں کا بھی جن میں آج بھی وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر سیاستدانوں کے پاس مولانا کو دینے کیلئے کچھ نہیں تو اسٹیبلشمنٹ کے پاس بہت کچھ ہے، ستمبر2022 میں 11 جماعتی اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے وجود میں آیا تو اسکا ون پوائنٹ ایجنڈا عمران خان کی حکومت کو ختم کرنا تھا اتحاد کا سربراہ فضل الرحمان کو بنایا گیا تھا اسلئے انہیں اپوزیشن کی سیاست میں وہی پوزیشن حاصل ہوئی جو ماضی میں ایسے اتحادوں میں نوابزادہ نصراللہ خان کو ہوتی تھی، عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں جب پی ٹی آئی کی حکومت ختم ہوئی تو اتحادی حکومت میں انہیں خیبرپختونخوا کی گورنر شپ کے علاوہ صاحبزادے سمیت کئی قریبی رشتہ داروں کو بھی وزارتوں سے نوازا گیا تھا حالیہ انتخابات کے نتیجے میں بھی بننے والی حکومت میں وہ پی ڈی ایم کے رفقاء سے ایسی ہی توقعات رکھ رہے تھے لیکن تقسیم کے بٹوارے میں وہ شاید اسلئے بھی محروم رہے کیونکہ اس مرتبہ پہلے سے ہی بہت کچھ طے ہوچکا تھا اور آنیوالے حالات میں بھی مولانا کو اپنے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی تھی اور صورتحال کو بھانپتے ہوئے انہوں نے خود کو بھی اسی فہرست میں شامل کر لیا جس میں وہ لوگ سراپا احتجاج تھے جن کا دعویٰ تھا کہ انکے امیدواروں کو دانستہ ہرایا گیا ہے، یہ بات درست ہے کہ مولانا ہر انتخاب میں کامیابی کے بعد اپنی شاپنگ لسٹ بہت بڑی رکھتے ہیں اورحصہ بقدر جثہ سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں بہرحال سیاست میں اقتدار کا زیادہ سے زیادہ حصہ اور اعلیٰ مناصب کی خواہش سیاستدانوں کا استحقاق اور خواب ہوتا ہے،بہرحال ایوان صدر میں پانچ سالہ سکونت حضرت صاحب کی دیرینہ خواہش رہی ہے اور اس مرتبہ آصف علی زرداری انکی اس خواہش میں مزاحم ہوئے ہیں اور مولانا کی مایوسی اور فرسٹریشن کا سبب بھی، گوکہ مولانا بدستور جارحانہ طرزعمل اختیار کئے ہوئے ہیں جو عمومی طور پر انکا مزاج نہیں ہے اسلئے اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کا سنجیدہ اقدام کب اور کیا ہوگا تجزیہ نگاروں کی رائے ہے کہ مولانا نے اپنی سیاست پر خودکش حملہ کیا ہے لیکن یہ صورتحال زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہے گی مولانا کو جلد ہی اپنے مجموعی طرزعمل نظرثانی کرنا ہوگی اسلئے انتظار کیا جارہا ہے کہ مولانا کی مفاہمت یا ان سے مفاہمت کا اونٹ جلد ہی کس کروٹ بیٹھے گا۔