اقوام عالم بھارتی فورسز کو انسانیت کی تذلیل سے باز رکھے،عبدالمجید میر

24 فروری ، 2024

مظفرآباد(نمائندہ جنگ) ڈیموکریٹک فریڈم فرنٹ کے وائس چیئرمین عبدالمجید میر نے کہا ہے کہ دل کو چھیلنی کرنے والا سب سے بڑا واقع ضلع کپواڑہ کے گاوں کنن پوشپورہ میں پیش آیا جب 23 فروری 1991کو بھارتی فوج نے گاوں کا محاصرہ کرکے گھروں سے مردوں کو باہر نکالا گیا ،اس دوران فوج نے خواتین کیساتھ زیادتی کرکے انہیں تاحیات نفسیاتی مریض بنا دیا۔ اس سانحہ نے نہ صرف جموں کشمیر کی تاریخ میں ایک نئے اور تلخ باب کا اضافہ کیا، بلکہ سنہرے سماجی اقدار کو آلودہ اور بھارتی فوج کے کردار کو مسخ کرکے آدمی کی صورت سے درندے کی صورت سامنے لایا۔ انہوں نے کہا سانحہ کنن پوشہ پورہ جس میں عزت کی رداؤں اور عصمت کی قباؤں کو بے رحم ہاتھوں نے رات بھر تار تار کیا، کشمیری قوم کی اُن عزت مآب ماؤں اور بہنوں کی جگرسوز داستان ہے، جن کا سب کچھ اپنے گھر کے اندر ہی لُٹ گیا اور جن کی حالت پر رات کے تارے تادمِ سحر تک اشک باری کرتے رہے۔ سانحہ کنن پوشہ پورہ کو انجام دینے والے شیطان صفت ابھی آزادی کے ساتھ گھوم کر کشمیریوں کے زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کر ہی رہی ہیں اور انصاف کے قاضی ابھی شواہد اور ثبوت ہی اکٹھا کر رہے ہیں۔