وزیراعظم نے اسمبلی اجلاس بلانے کیلئے صدر کو دوبارہ ایڈوائس بھیج دی،عارف علوی پر آئین شکنی کے دو مقدمات ہونگے،بلاول بھٹو

28 فروری ، 2024

ڪاسلام آباد(جنگ نیوز)16ویں قومی اسمبلی کا افتتاحی سیشن بلانے میں صدر مملکت کے اعتراض پر نگراں وزیر اعظم نے صدر کو دوبارہ ایڈوائس ارسال کردی ،ساتھ ہی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو اجلاس طلب کرنے کا اختیار دے دیا۔ جبکہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عارف علوی پر دو مقدمات ہوں گے، ان پر ایک مقدمہ عدم اعتماد کے وقت اسمبلی توڑنے کا ہوگا اور دوسرامقدمہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانےکاہوگا۔ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو بجھوائی گئی سفارشات میں آئین کے تحت اسمبلی کا اجلاس بلانے کی تجویز دی ہے اور کہا ہے کہ آئین کے تحت انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس طلب کرنا آئینی ڈیڈ لائن ہے، صدر مملکت آئین میں درج ڈیڈ لائن کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلائیں۔دریں اثنا صدر مملکت کی جانب سے اجلاس نہ بلانے پر قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کے متبادل انتظامات مکمل کرلیے گئے، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھی نگراں وزیر اعظم کو سمری ارسال کی ہے جو کہ وزارت پارلیمانی امور کے دی گئی ہے تاہم یہ سمری واپس سیکرٹریٹ کو موصول ہوگئی۔ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ عارف علوی پر دو مقدمات ہوں گے، ان پر ایک مقدمہ عدم اعتماد کے وقت اسمبلی توڑنے کا ہوگا اور دوسرامقدمہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانےکاہوگا۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا مؤقف ہے کہ ادارے آئینی دائرے میں رہ کر کام کریں، سیاستدانوں کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنے دائرے میں رہ کر سیاست کریں، انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک دوسرے کی عزت کریں، سیاستدان ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے تو امید نہ رکھیں کہ کوئی ادارہ کرے گا، اگر ایسا ہی رہا تو اگلی تین نسلوں تک بھی یہی تماشہ چلتا رہے گا۔ عارف علوی پر دو مقدمات ہوں گے، ان پر ایک مقدمہ عدم اعتماد کے وقت اسمبلی توڑنے کا ہوگا اور دوسرامقدمہ آئین کے مطابق قومی اسمبلی اجلاس نہ بلانےکاہوگا، صدارت عارف علوی کے بس کی بات نہیں، مواخذےکےبجائے انتخابی عمل کے ذریعےعارف علوی کی جگہ دوسرا صدرلائیں گے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ شروع تو وہاں سے ہوں گے کہ علوی صاحب نے آئین توڑا، عارف علوی آئین کو توڑتے ہوئے اپنا فرض نہیں نبھا رہے، صدر آئینی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تو اسپیکر پوری کردیں گے کیونکہ آئین میں لکھا ہے ہر حال میں 29 فروری کو اسمبلی اجلاس بلاناہے۔ ہمارے پاس ووٹ مانگنے نہیں آئے تو کسی اور کی حکومت پر اعتراض کیسا، ہمارے پاس یہی آپشن ہے جو بات کررہے ہیں ان کو موقع دیں، میں نے کہا تھا وزیراعظم بنا تو سیاسی قیدیوں کو رہاکریں گے لیکن افسوس پاکستان کے عوام نے مجھے وہ مینڈیٹ نہیں دیا۔ صدر منتخب ہوکر آصف زرداری اپنےگورنرخودفائنل کریں گے، پیپلز پارٹی اپنے بارے میں سوچتی تو پتا نہیں کیا کیا کردیتے ، میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہوں میرے نمبر ایسے نہیں ، میں کہتا اب (ن) لیگ کے ساتھ کام نہیں کرتا تو عوام کابنیادی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ہم سنی اتحاد کے شکرگزارہیں کہ انہوں نے مریم نواز اور مراد علی شاہ کی مخالفت نہیں کی، سنی اتحاد اور پی ٹی آئی کے شکرگزارہونا چاہیےم شہباز شریف بھی بلامقابلہ وزیراعظم بننے جارہے ہیں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھ کر آگے کا لائحہ عمل طے کیا مگر پی ٹی آئی نہ اپنی غلطی تسلیم کرتی ہے، آئین کو مانتی ہے اور نہ جمہوریت کو، ہم انسان ہیں، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں لیکن سب سے زیادہ غلطیاں اس شخص نے کیں جو اڈیالہ جیل میں ہے۔