بلوچ طلبا بازیابی کیس،کون احمق جبری گمشدگیوں کی وکالت کریگا،نگراں وزیراعظم

29 فروری ، 2024

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں)نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے بلوچ طلبہ بازیابی کیس میں عدالت کی جانب سے طلب کیے جانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی کے دوران بیان دیا ہے کہ کوئی احمق ہی جبری گمشدگیوں کی وکالت کریگا؟ آئے روز ریاست پر الزامات کا سلسلہ رُکنا چاہیے، بلوچستان کے نان اسٹیٹ ایکٹرز میری زندگی کے پیچھے پڑے ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں سے متعلق کیس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔ اٹارنی جنرل منصور اعوان بھی نگران وزیراعظم کے ہمراہ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے، نگران وزیر داخلہ گوہر اعجاز بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوئے، اٹارنی جنرل نے دلائل کا آغاز کیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ پرانی لسٹ کے علاوہ بھی نئے لوگ غائب ہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پرانے 12 میں سے 8 لوگ غائب تھے جن میں ابھی تین رہتے ہیں، 9 افراد محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی حراست میں تھے، 4 افراد کی بازیابی سے متعلق ہمیں مزید وقت درکار ہے، 26 افراد لاپتا تھے، جن میں 2 افراد افغانستان ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری کو ہدایت دی کہ آپ کی لسٹ کے مطابق انہوں نے جو کہا وہ آپ کاؤنٹر چیک کریں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نئی لسٹ جو دی گئی وہ اس وقت ان ٹریس ہیں، جلد ان کو ٹریس کرینگے۔عدالت نے نگران وزیراعظم سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ نگران وزیراعظم! آپ نے ریکارڈ دیکھا ہوگا کتنے لوگ غائب ہیں؟ کیا آپ نے ریکارڈ دیکھا ہے کہ آج 26 ویں سماعت ہے۔ نگران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت آئین اور قانون کے مطابق کام کر رہی ہے، بلوچستان سے تعلق ہونے کی وجہ سے مجھے صوبے میں اس صورتحال کے بارے میں زیادہ علم ہے، وہاں لوگوں کو مسلح مزاحمت کا سامنا ہے، بلوچستان میں غیر ریاستی عناصر کی سرگرمیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو دو دہائیوں سے دہشت گردی کا سامنا ہے ۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔نگران وزیر اعظم نے کہا کہ آئین تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے اور انہیں ریاست کے ساتھ غیر مشروط وفاداری کا مظاہرہ کرنے کا پابند بھی کرتا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے دو برسوں میں لاپتہ افراد کے کیس کی کئی سماعتیں کیں اور نشاندہی کی کہ گرفتاریوں کو ریکارڈ پر لانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کا کریڈٹ حکومت اور متعلقہ اداروں کو جاتا ہے۔اٹارنی جنرل کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا کہ مزید 11 طالب علم بازیاب ہو چکے ہیں۔ انکے خلاف مقدمات درج ہونے کے بعد نو افراد کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی تحویل میں تھے اور دو افراد افغانستان چلے گئے تھے۔عدالت نے حکام کو ہدایت کی کہ سی ٹی ڈی کی تحویل میں موجود افراد کے خلاف مقدمات کی تفصیلات درخواست گزار کو فراہم کی جائیں۔ بعدازاں نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ ہائی کورٹ سے روانہ ہوئے، عدالت نے جبری گمشدگیوں کے حوالے سے دیگر درخواستوں پر سماعت ملتوی کردی، عدالتی عملے کے مطابق آئندہ سماعت کی تاریخ بعد میں دی جائے گی۔