طالبان حکومت کا ٹی ٹی پی کو پاکستان میں حملوں کیلئے سخت انتباہ

02 مارچ ، 2024

اسلام آباد (عمر چیمہ) حال ہی میں کابل کا دورہ کرنے والے جمعیت علمائے اسلام (سمیع) کے وفد کے ایک رکن نے بتایا ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت نے تحریک طالبان پاکستان کی قیادت کو پاکستان کے اندر حملوں کیلئے افغان سرزمین استعمال کرنے کیخلاف سختی سے خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی کارروائیوں سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کمزور ہوئے ہیں۔ وفد نے مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق کی زیر قیادت یہ دورہ کیا جس کا انتظام انٹرنیشنل ریسرچ کونسل برائے مذہبی امور کے سربراہ اسرار مدنی نے کیا تھا۔ یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو اسلامی تحریک پر تحقیق کر رہی ہے۔ جنوری میں مولانا فضل الرحمان کے دورۂ کابل کے بعد یہ کسی بھی پاکستانی وفد کا دوسرا ہائی پروفائل دورہ ہے۔ اسرار مدنی نے طالبان حکومت کے عہدیداروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالات سابقہ میٹنگ کے بعد سے بہتر ہوئے ہیں۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور بالخصوص حقانی نیٹ ورک والوں کا خیال ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات کی بحالی سے حالات مزید بہتر ہوں گے۔ پاکستانی حکام کی سوچ اس رائے کے برعکس ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی نے ماضی میں مراعات حاصل کیں، اپنے قیدیوں کو پاکستانی جیلوں سے رہا کرایا اور اپنے اپنے علاقوں کو چلے گئے لیکن یہ لوگ پر امن نہیں رہے۔ مدنی کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت کو افغان پناہ گزینوں کی پاکستان سے جلد بازی میں واپسی کے معاملے پر تشویش ہے۔ جو لوگ 20؍ تا 40؍ برسوں بعد لوٹ رہے ہیں وہ اپنے آبائی علاقوں میں بھی اجنبی ہیں۔ کئی پناہ گزینوں کیلئے پورا منظر نامہ ہی تبدیل ہو چکا ہے اور یہ لوگ واپسی کے بعد ان علاقوں میں سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مدنی نے واضح کیا کہ طالبان حکومت کہتی ہے کہ پاکستان دہائیوں سے ان پناہ گزینوں کا میزبان رہا ہے، اسے چاہئے تھا کہ تھوڑا اور انتظار کرلیتا یا پھر افغان حکومت کو اعتماد میں لے کر ان پناہ گزینوں کی واپسی کا کوئی فیصلہ کرتا۔ طالبان قیادت میں کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو دہائیوں سے پاکستان میں پناہ گزین تھے۔ افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملاّ ہیبت اللہ نے کچلاک (کوئٹہ) کے ایک مدرسے میں 15؍ سال گزارے جہاں وہ شیخ الحدیث کے طور پر معلم تھے۔ مولانا عبدالحکیم حقانی (چیف جسٹس افغانستان) پشتون آباد (کوئٹہ) کے ایک مدرسے میں معلم تھے۔ افغان وزیر خارجہ عامر خان متقی کوئٹہ میں مقیم تھے، وزیر برائے پناہ گزین خلیل الرحمان حقانی پشاور میں رہتے تھے۔پاکستان کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کی پالیسی کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔ حکام نے وضاحت کی ہے کہ افغان شہری حکومت اور فوج کے خلاف حملوں میں ملوث پائے گئے، جن میں اس سال کے 24 خودکش بم حملوں میں سے 14 شامل ہیں۔ نگراںوزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے نومبر 2023 میں کہا تھا، "مجرمانہ اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث افراد کا ایک بڑا حصہ ان غیر قانونی تارکین میں شامل ہے۔"