تاریخ بدلنی ہے ، مل کر چیلنجز سے نمٹیں گے، پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلوائیں گے، شہباز شریف،201 ووٹ لے کر 24 ویں وزیر اعظم منتخب سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کو 92 ووٹ ملے

04 مارچ ، 2024

کراچی (جنگ نیوز) پاکستان کے نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ تاریخ بدلنی ہے، پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلوائیں گے، ملکرچیلنجز سے نمٹیں گے۔ کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، ہم مل کر پاکستان کو عظیم بنائیں گے،بجلی اور ٹیکس چوری کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، کسی گریٹ گیم کا حصہ نہیں بنیں گے، بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی میں قائد منتخب ہونے کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ قومی اسمبلی نے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو ملک کا 24 واں (نگران وزیراعظموں کو ملا کر مجموعی طور پر33واں) وزیراعظم منتخب کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی میں وزیراعظم کے لیے ہونے والے انتخاب کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف 201 ووٹ لیکر وزیراعظم پاکستان منتخب ہو گئے جبکہ ان کے مد مقابل امیدوار عمر ایوب خان نے 92 ووٹ حاصل کیے۔قبل ازیں اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوتے ہی سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے اسپیکر کی ڈائس کے سامنے احتجاج شروع کر دیا تاہم بعد ازاں اپنی نشستوں پر چلے گئے۔ نئے قائد ایوان کے انتخاب کے عمل سے قبل اسپیکر کے حکم پر5 منٹ تک گھنٹیاں بجائی گئیں، گھنٹیاں بجائے جانے کے بعد ایوان کے دروازے بند کر دیے گئے اور اسپیکر کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ شہباز شریف کے حق میں جو اراکین ہیں لابی اے کی طرف چلے جائیں جبکہ عمر ایوب کے حق میں اراکین لابی بی میں چلے جائیں۔ جے یو آئی ف نے قائد ایوان کے انتخاب کا بائیکاٹ کیا اور ووٹنگ کے دوران ایوان سے باہر چلے گئے جبکہ اختر مینگل موجود تو رہے لیکن کسی کو ووٹ نہیں دیا۔ووٹنگ کے نتیجے میں مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں کے مشترکہ امیدوار شہباز شریف قائد ایوان منتخب ہوگئے۔ انہیں 201 ووٹ ملے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب نے 92 ووٹ حاصل کیے۔نتائج کا اعلان ہونے کے بعد شہباز شریف ،نواز شریف اور آصف علی زرداری سے جاکر گلے ملے۔مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی، مسلم لیگ ق نے شہباز شریف کی حمایت کی۔پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سنی اتحاد کونسل کے امیدوار عمر ایوب کی بلوچستان نیشنل پارٹی نے حمایت کی۔ وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنے پہلے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مل کر فیصلہ کرلیں کہ پاکستان کی تاریخ بدلنی ہے، ہم ہمالیہ نما چیلنجز کو عبور کریں گے۔ ملک کی ترقی پر نواز شریف کی تختیاں لگی ہیں، ان کی حکومت کا تین بار تختہ الٹا گیا، مقدمے بنائے گئے اور جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔ نہ نواز شریف، نہ آصف زرداری، نہ بلاول بھٹو نے پاکستان کے مفاد کے خلاف بات کی اور نہ ہی اس طرح سوچا، جب بےنظیر بھٹو شہید ہوئیں تو آصف علی زرداری نے پاکستان کھپے کہا، ہم نے صبر و تحمل سے کام لیا کبھی بدلے کی سیاست کا نہیں سوچا۔شہباز شریف نے اپوزیشن کے حوالے سے کہا کہ جب اُن کی باری آئی تو اُنہوں نے اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا، پاکستان اور افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلا، دو صوبوں کے وزیروں کو کہا گیا کہ آئی ایم ایف سے کہو پاکستان کی مدد نہ کرے، 9 مئی کو اداروں اور جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا۔وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا کہ نواز شریف، آصف زرداری، بلاول بھٹو زرداری، خالد مگسی نے کہا کہ سیاست قربان ہو لیکن ہم اپنا کردار ادا کریں گے، پاکستان کو اس کا صحیح مقام دلوائیں گے، کام مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، ہم مل کر پاکستان کو عظیم بنائیں گے۔شہباز شریف کا ملک کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ این ایف سی کی صوبوں کو ادائیگی کے بعد 7 ہزار 300 ارب بچتے ہیں، اس میں سود کی ادائیگی 8 ہزار ارب روپے ہے، ہم آج تک 80 ہزار ارب کے بیرونی اور اندرونی قرضے لے چکے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ایک چیلنج بجلی کی قیمتوں میں ہوشرُبا اضافے کا ہے، بجلی کا گردشی قرضہ 2 ہزار 300 ارب روپے ہوگیا ہے، 3 ہزار 800 ارب کی بجلی ترسیل کی جاتی ہے، 2 ہزار 800 ارب روپے کی وصولی ہوتی ہے، بجلی کی پیداوار اور وصولی میں 1000 ارب روپے کا فرق ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا قومی اداروں پر 600 ارب روپے کا خسارہ ہے، بجلی اور ٹیکس چوری قوم کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، اس کا بوجھ غریب پر آتا ہے، بجلی اور ٹیکس چوری کے کینسر کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ارادہ ہے کہ 5 لاکھ نوجوانوں کو خصوصی تربیت دیں، زراعت معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، چھوٹے کسانوں کے لیے ٹیوب ویل پروگرام شروع کریں گے، دنیا سے اعلیٰ بیج منگوا کر کسان کو پہلی مرتبہ مفت بیچ دینے کی کوشش کریں گے، جعلی ادویات اور کھاد کا صوبوں کے ساتھ مل کر خاتمہ کریں گے۔وزیر اعظم نے صحت و تعلیم کے حوالے سے کہا کہ کوشش ہوگی کہ ہر صوبے میں اور وفاق میں جدید اسپتال اور علاج کی سہولتیں دیں، ہونہار بچوں کے لیے بیرون ملک یونیورسٹیوں میں تعلیم کے اخراجات وفاقی حکومت دے گی۔وزیر اعظم نے کہا کہ نظام عدل کی موجودہ شکل تاخیر کا سبب بن گئی ہے، مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا، تجویز ہے کہ سستے اور فوری انصاف کے لیے عدالت عظمیٰ اور ایوان مشورہ کرکے نظام لائے، جیلوں میں قید خواتین اور بچے جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں اور ان کی سزا 2 سال سے کم ہے انہیں رہا کرکے تربیت دیں گے۔دہشت گردی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد ہوگا، پی ٹی آئی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا بیرونی دہشتگردوں کو جیلوں سے چھڑایا گیا جس سے ملک میں دہشت گردی دوبارہ آئی، ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے بلوچستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی محرومی کا مکمل ادراک ہے، بلوچستان کے زعما کی ناراضگی جائز ہے، لاپتا افراد کے مسئلے کو حل کیے بغیر بلوچستان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جاسکتا۔ پہلی فرصت میں بلوچستان کے زعما کے ساتھ بیٹھیں گے اور بات کریں گے، بلوچستان کی ترقی، امن اور خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے۔وزیر اعظم پاکستان نے خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خارجہ پالیسی میں ہم کسی گریٹ گیم کا حصہ نہیں بنیں گے، دوستوں میں اضافہ کریں گے، مخالفین میں کمی لائیں گے، امریکا سے تاریخی تعلقات پہلے ٹھیک کرنے ہیں پھر استوار کرنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یوریی یونین اور خلیجی کونسل سے رابطے مستحکم کریں گے، سعودی عرب نے ہمیشہ ہماری مدد کی ہے، ہم اس کے شکر گزار رہیں گے، کویت، بحرین اور ایران کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، انہیں آگے لے کر جائیں گے۔وزیر اعظم نے کشمیر و فلسطین کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین، غزہ اور کشمیر میں قتل و غارت کا بازار گرم ہے، اسرائیل نے بدترین بمباری اور ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے، دنیا کا کوئی ادارہ اسرائیل کو بدترین قتل و غارت سے روک نہیں سکا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ عالمی برادری تماشائی بنی ہوئی ہے کشمیریوں کا دن رات خون بہایا جا رہا ہے، عالمی برادری کے کشمیر پر لب سلے ہوئے ہیں، اس کی کیا وجوہات ہیں ہم سب جانتے ہیں۔انہوں نے دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کو ویزا فری انٹری دینے، چاروں صوبوں میں ایکسپورٹ زون اور جدید ہسپتال بنانے، ملک بھر میں ٹرانسپورٹس کا جال بچھانے، سولرٹیوب ویل پروگرام لانے اور اعلیٰ ترین بیج منگواکر دینے کا اعلان کیا ہے۔اس کے علاوہ شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 10 روزمیں ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے، کھاد فیکٹریوں کے بجائے سبسڈی براہ راست کسان کو دینے کا اعلان بھی کیا۔شہباز شریف نے نو مئی کے واقعات کو سنگین غداری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملوث افراد کو ہر صورت قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور کسی بے گناہ کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔وزیراعظم نےخواتین کو ہراساں کرنے کا جرم بھی ناقابلِ برداشت قرار دیا۔شہباز شریف نے 9مئی کیس میں گرفتار کسی بےگناہ کو سزا نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 9 مئی کیسز میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، 9 مئی کوملک و قوم سےعظیم غداری کی گئی۔