فارم 45 کی جوڈیشنل انکوائری کرائی جائے، وزیر اعظم کا الیکشن غیر قانونی ، شہباز کے پاس ملک چلانے کا کوئی پلان نہیں ، PTI

04 مارچ ، 2024

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے جنرل سیکرٹری عمرایوب نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا الیکشن غیرقانونی ہے، آج ہم پھر کہتے ہیں شہباز شریف فارم 47کی پیداوارہیں،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا الیکشن بھی غیر قانونی تھا۔ وزارت عظمیٰ کے انتخاب کے بعد عمر ایوب کا قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ الیکشن میں لوگوں نے عمران خان کے امیدواروں کے نشان ڈھونڈ ڈھونڈ کر ووٹ دیا، آج حکمران اتحاد کے چہرے اترے ہوئے ہیں، لگتا ہے جیسے جنازے پر آئے ہوئے ہوں، جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں انہیں پتہ ہےکہ انہوں نے مینڈیٹ چوری کیا ہے، یہاں بیٹھے ایم کیو ایم کے ارکان بھی فارم 47 کی پیداوار ہیں۔سنی اتحاد کونسل کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہ حکومت پی ڈی ایم کی حکومت کا تسلسل ہے، فارم 45 کے ایم این اے آتے تو آج ان کےارکان کی تعداد 180 ہوتی، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر اور آج وزیراعظم کا الیکشن غیرقانونی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج جعلی وزیراعظم نے تقریر کی، جس دن حلف برداری تھی ہم نے یہ پوائنٹ اٹھایایہ ایوان میں اجنبی ہیں، شہباز شریف اس ہاؤس کے ممبر نہیں ہو سکتے، شہباز شریف کی تقریر سے ظاہر ہے ان کے پاس ملک چلانے کے لیےکوئی پلان نہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ سانحہ 9 مئی پر غیر جانبدارانہ عدالتی انکوائری کی جائے، جی ایچ کیو اورکورکمانڈر ہاؤس کی فوٹیج موجود ہیں، پی ٹی آئی کے شہدا کے نام پیش کر رہا ہوں، بتائیں ان کا قاتل کون ہے؟عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان تحریک انصاف سے رابطہ کیا، بانی پی ٹی آئی کو کہا کہ آپ معاہدے کو سپورٹ کریں، بانی پی ٹی آئی نےکہا پاکستان میں شفاف انتخابات ہونے چاہئیں، اس حکومت کے پاس ریفارمز کا مینڈیٹ ہی نہیں ۔ پاکستان پر قرضہ ان افراد کی شاہ خرچیوں کی وجہ سے ہے، جو قرضہ مل رہا ہے اسے پاکستان کے عوام کے مفاد کے لیے استعمال کیا جائے، لوگوں میں احساس محرومی ہے اور یہ ڈیلیور نہیں کر سکتے۔جنرل سیکرٹری عمر ایوب کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے، ہماری ڈیمانڈ ہے فارم 45 سے متعلق جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے، الیکٹرانک مشین پرکام ہوناچاہیے، اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیاجائے۔ اجلاس کے دوران شور شرابا جاری رہا، ارکان کے ’مینڈیٹ چور‘، ’مریم کے پاپا چور ہیں‘، ’گھڑی چور‘ اور ’دیکھو دیکھو کون آیا‘ تو کبھی ’شیر آیا شیر آیا‘ کے نعروں میں شدت آجاتی اور کبھی ’چور چور آیا‘ کے نعروں سے ایوان گونج اٹھتا۔