بلوچستان میں مصالحت ؟

اداریہ
04 مارچ ، 2024

قدرتی وسائل سے مالا مال اور رقبے کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پون صدی بعد بھی ملک کا سب سے پسماندہ خطہ کیوں ہے، بلوچ عوام کے مسائل کیا ہیں، یہاں عشروں سے مسلح مزاحمت کی تحریکیں کن اسباب کی بنا پر سرگرم ہیں، تشدد کا راستہ اختیار کرلینے والے بلوچ نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں نئی منتخب صوبائی حکومت جن کا درست جواب تلاش کرکے اور ان کے مطابق اقدامات عمل میں لاکر بلوچستان کو سالہا سال سے جاری دہشت گردی سے نجات دلاسکتی اور امن و ترقی کی راہ پر گام زن کرسکتی ہے۔ صوبے کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے والے میر سرفراز بگٹی نے 65 ارکان کے ایوان میں 41 ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ اسمبلی میں چار نشستیں رکھنے والی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی نے الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ این پی نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا بھی بائیکاٹ کیا اور اعلان کیا تھا کہ ان کے قانون ساز اپوزیشن بنچوں پر بیٹھیں گے۔ جے یو آئی (ف)، جس کے ارکان کی تعداد 10 ہے، وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کے دوران ایوان سے غیر حاضر رہی۔ تاہم جماعت اسلامی کے ایم پی اے عبدالمجید بادینی اور حق دو تحریک کے رہنما مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے صوبے کی سربراہی کے لیے پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مشترکہ امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے بھی جس کے اسمبلی میں تین ارکان ہیں ، سرفراز بگٹی کی حمایت کی۔اس تفصیل سے واضح ہے کہ بلوچستان کے نئے وزیر اعلیٰ صوبائی اسمبلی کے ارکان کی بھاری اکثریت کی حمایت رکھتے ہیں ۔ تاہم ان کی حمایت نہ کرنے والی جماعتوں کو بھی مخالفت برائے مخالفت کے بجائے صوبے کو درپیش مسائل کے حل میں تعاون کرنا چاہیے اور حکومتی اقدامات سے اختلاف کی صورت میں تعمیری تنقید کے ذریعے ان کی خامیوں کی نشان دہی کرکے اپنا کردار مثبت طور پر ادا کرنا چاہیے کہ یہی حقیقی جمہوری روایات کا تقاضا ہے۔ بلوچستان اسمبلی میں وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کے پہلے خطاب سے واضح ہے کہ وہ اپنی حکومت کو درپیش چیلنجوں کا پورا شعور رکھتے ہیں ۔ ہفتے کو ایوان کے فلور پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے بلوچ مزاحمت کاروں پر زور دیا کہ وہ مسلح جدوجہد ترک کر کے عوامی حقوق کے حصول کے لیے قومی دھارے کی سیاست میں شامل ہوں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ تمام مسائل کے حل کے لیے بات چیت ہی صحیح راستہ ہے اور ان کی جماعت بات چیت اور مفاہمت پر یقین رکھتی ہے اور چاہتی ہے کہ پہاڑوں پر بیٹھے باغی نیچے آئیں، قومی دھارے میں شامل ہوں اور پاکستان بالخصوص صوبے کی ترقی میں حصہ لیں۔ وزیر اعلیٰ نے مزاحمت کاروں کو یقین دلایا کہ ان حکومت آئین میں متعین ان کے حقوق کے حصول کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی لیکن تشدد ترک کرنے کی بار بار کی اپیل کے باوجود، اگر ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا جاتا رہا تو حکومت قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنے کی خاطر اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے گریز نہیں کرے گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دی جائے گی۔ دیگر مسائل کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت صوبے میں گورننس، تعلیم اور صحت کے مسائل کے حل کی خاطر تمام ممکنہ اقدامات کرے گی۔بلوچستان کی نئی حکومت وفاق میں حکومت بنانے والی ملک کی دو بڑی پارٹیوں کی حمایت یافتہ ہونے کی بنا پر بلوچ عوام کے مسائل کے حل میں یقینا بہتر پیش رفت کی صلاحیت رکھتی ہے لہٰذا ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے کہ نیا جمہوری دور بلوچستان کے عوام کی تمام حق تلفیوں کے ازالے اور ترقی و خوشحالی کا نقیب ثابت ہوجبکہ مزاحمت کاروں کو بھی وزیر اعلیٰ کی پیشکش کا مثبت جواب دیتے ہوئے بندوق کے بجائے بات چیت کا راستہ اپنانا چاہئے۔