پارلیمانی کمیشن کی تجویز

اداریہ
04 مارچ ، 2024

عام انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات لگاکر ملک میں بے چینی کی فضا پیدا کرنا یا ایسا کرنے کی کوشش کرنا ہماری سیاسی تاریخ کا حصہ چلا آیا ہے۔بے شک قومی معاملات پر رائے کا اظہار کرنے کی دیگر مہذب معاشروں کی طرح وطن عزیز میں بھی آزادی ہے لیکن مقام افسوس کہ اختلاف برائے اختلاف کے رجحان نے سیاسی اور معاشرتی اقدار کو پنپنے نہیں دیا جبکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران اخلاقیات کے دیوالیہ پن سے نئی نسل سیاست کی غلط تشریح کی طرف راغب ہوئی۔ دوسری طرف معاشرے میں بد عنوانی کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔پارلیمان میں بد زبانی، دھونس اور افراتفری کا کلچر پروان چڑھا جس سے ان مقتدر ایوانوں کا تقدس پامال ہوا۔ گزشتہ پانچ سالہ پارلیمانی دور کو دیکھتے ہوئے خیال کیا جارہا تھا کہ 8 فروری کے بعد بننے والی قومی اسمبلی میں غیر صحت مندانہ رجحانات کا خاتمہ ہوگا لیکن افتتاحی اجلاس نے پھر سے آئندہ پانچ سال کیلئے پہلے جیسی صورتحال کا نقارہ بجادیا۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نئی پارلیمان اپنی مدت بھی پوری کرے گی اور وہاں شورشرابا بھی چلتا رہے گا لیکن کاش ایسا نہ ہو۔ مسلم لیگ کے سینئر رہنما اور سابق وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے خودمختار کمیشن بنانے پر اپنی رضامندی ظاہر کی ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ ہمیں عدالتی کمیشن بنانے پر بھی کوئی اعتراض نہیں لیکن 2018 میں پی ٹی آئی نے خود پارلیمانی کمیشن بنائے جانے کی تجویز دی تھی۔ رانا ثنااللہ کے مطابق پارلیمانی کمیشن کی تحقیقات سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔اس بیان کی روشنی میں جبکہ قومی اسمبلی کا افتتاحی اجلاس جاری ہے اور تمام سیاسی جماعتیں وہاں موجود ہیں ، معاملے کو افہام و تفہیم کے ساتھ سلجھایا جانا چاہیے ۔ فی الواقع یہ گتھیاں سلجھانے کا مقام بھی پارلیمان ہی ہے، مہذب دنیا میں کسی بھی جگہ یہ فیصلے سڑکوں پر نہیں ہوتے۔