سوشل میڈیا پر پابندی

اداریہ
04 مارچ ، 2024
سینیٹر بہرہ مند تنگی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر پابندی عائد کرنے کی قرارداد سینیٹ میں جمع کرا دی ہے جسے چار مارچ کے اجلاس کے ایجنڈے میںبھی شامل کر لیا گیاہے۔ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور ایکس پر پابندی کی اس قرارداد میں موقف اپنایا گیاہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی سرگرمیوں کے ملک کی نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں ۔یہ ہمارے مذہب و ثقافت کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ مذہب اور زبان کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنے اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا کے ذریعے ملکی مفادات اور پاک فوج کے خلاف ان کا استعمال ہونا باعث تشویش ہے۔یہ پلیٹ فارم جعلی قیادت کو فروغ دے کر نوجوان نسل کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔لہٰذا سینیٹ حکومت پاکستان کو تجویز کرتا ہے کہ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹا گرام، ایکس اور یوٹیوب پر پابندی لگاکر نوجوان نسل کو ان کے منفی اور تباہ کن اثرات سے بچایا جائے۔ تاہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس عہد میں جبکہ پوری دنیا نہ صرف ان سے وابستہ ہے بلکہ اس کے ذریعے کاروباری سرگرمیاں بھی جاری ہیں،ان کی مکمل بندش کی قرارداد بعید از فہم ہے۔بلاشبہ ہمارے ہاں اس ٹیکنالوجی کا منفی استعمال زیادہ ہے لیکن کیا اس وجہ سے اسکے مثبت پہلوئوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟جو شکایات ہمارے ہاں ہیں دنیا کے دیگر ممالک کو بھی پیش آئیں تو انہوں نے اس کا حل نکالا،نہ صرف عرب ریاستوں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں ان کے غلط استعمال کی نگرانی کے ایسے طریقے اختیار کیے گئے ہیں کہ جوں ہی کوئی فرد کوئی ایسی پوسٹ کرتا ہے جو ملک و قوم کے مفادات کے منافی ہو،گرفت میں آجاتا ہے۔ہمارے ہاں بھی ایف آئی اے میں سائیبر کرائم ونگ موجود ہے اس لیے ان ایپس کو بند کرنے کے بجائے وہی طریقہ اپنایا جانا چاہیے جو دیگر ممالک استعمال کر رہے ہیں تاکہ سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جاری رہے اور منفی سرگرمیاں بھی ممکن نہ ہوں۔
اداریہ پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998