پشاور(ارشدعزیز ملک ) پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ کے جے وی کنٹریکٹرز نے آخر کار معاہدے کی دفعات کے تحت بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کرلیا ہے تاکہ انہیں 57 ارب روپے کی بقایا متنازعہ رقم ادا کی جائے۔اگر دعویٰ مان لیا گیا تو بی آر ٹی پشاور کی کل لاگت 120 ارب روپے سے تجاوز کر جائے گی۔کنٹریکٹر نے پراجیکٹ کا دائرہ بڑھانے، ڈیزائن میں بار بار تبدیلی، اضافہ اور قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ، ادائیگیوں میں تاخیر، مالیاتی چارجز اور اپنی بقایا رقم پر سود کے لیے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔پی ڈی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کو بتایا کہ نیب کی انکوائریوں کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازعہ خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوسکا ۔چینی اور پاکستانی کمپنیوں کی مشترکہ کمپنی نے بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس پیرس، فرانس کو ثالثی کے لئے ایک خط بھیجا ہے۔خط میں کہا گیا کہ کنٹریکٹ کی ذیلی شق 20.5کے تحت پی ڈی اے کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات بشمول ثالثی بورڈ کی طرف سے ہمارے حق میں فیصلہ کیے گئے تنازعات پرخوش اسلوبی سے تصفیہ کے لیے کئی سنجیدہ کوششیں کی گئیںلیکن تمام کوششیں ناکا م ہوگئیں ۔خط میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی اے نے پشاور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کا تصور دیا اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قرضہ لے کر پشاور کے شہریوں کی سہولت کے لیے منصوبہ شروع کیا۔ تقریباً 26 کلومیٹر طویل ٹریک کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کے بعد پی ڈی اے نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ ایک شفاف بین الاقوامی مسابقتی بولی کے عمل کے بعد، JV کو پروجیکٹ کے لیے سول ورکس کا ٹھیکہ دیا گیا۔خط میں کہا گیا کہ ڈیزائن میں بار بار تبدیلیوں کے باعث کام کو کئی بار معطل کیا گیا ۔ نتیجے کے طور پر، ٹھیکیداروں کو مشینری اور ان کے دیگر متحرک وسائل کو سست کرنے اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑا۔ ٹھیکیداروں کی طرف سے ڈیزائن میں کچھ سنگین خامیوں کی نشاندہی بھی کی گئی۔معاہدے کی ذیلی شق 20.2میں کہا گیا ہے کہ ڈسپیوٹ بورڈ کو پروجیکٹ کے آغاز کے 28 دنوں کے اندر تشکیل دیا جانا تھا۔ تاہم، PDA نے 343 دنوں کے بعد بورڈکو تشکیل دیا ۔بورڈ کی تشکیل میں تاخیر کے باعث تنازعات کا فیصلہ نہ ہوسکا جس کے نتیجے میں ٹھیکیداروں کے لیے مالی مشکلات پیدا ہوئیں اورپراجیکٹ کی پیش رفت کو بھی متاثر ہوئی۔بورڈ کو 77 تنازعات بھیجے گئے جن میں سے صرف 23 تنازعات کا بورڈ نے فیصلہ سنایا۔ پی ڈی اے کی جانب سےبورڈ ممبران کو عدم ادائیگی کی وجہ سے چیئرمین بورڈ نے 24 اگست 2022 کو استعفیٰ دے دیا ہے اور بورڈ اب کام نہیں کر رہا ہے۔پی ڈی اے نے آج تک ٹھیکیداروں کے حق میں طے شدہ بلز میں سے کوئی رقم ادا نہیں کی اور پی ڈی اےکے پاس بھاری ادائیگیاں زیر التواء ہیں۔ معاہدے کی ذیلی شق20.6بین الاقوامی ثالثی کا آپشن فراہم کرتی ہے ۔ٹھیکیدار نے خط میں مزید کہا کہ ہمارے پاس ذیلی شق 20.6اور20.8کے مطابق بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا ۔خط میں کہا گیا کہ ریچ ون میں پی ڈی اے کے پاس متنازعہ رقم 11 ارب 17کروڑ روپے کے لگ بھگ ہے جبکہ ڈی بی نے 22کروڑ روپے کا فیصلہ کنٹریکٹر کے حق میں کیا جب کہ 11ارب روپے کا فیصلہ باقی ہے ۔اسی طرح ریچ ٹو میں 16ارب 65کروڑ روپے کے متنازعہ بلززیر التواء تھے جبکہ بورڈ نے 25کروڑ روپے کا فیصلہ ٹھیکیدار کے حق میں کیا جبکہ ریچ II میں 16ارب 90کروڑ وپے اب بھی زیر التوا ہیں۔. اسی طرح ریچ تھری کنٹریکٹ میں22ارب روپے سے زائد کے متنازعہ بلز موجود ہیں جن میں پی ڈی اے نے 2ارب 37کروڑ روپے کا فیصلہ ٹھیکیدار کےحق میں کیااور تاحال 19ارب 98کروڑ روپے کی رقم ابھی باقی ہے۔ٹھیکیدار نے کل 57ارب کے بلز جمع کرائے جن پر تنازعہ تھا جس میں سے ثالثی بورڈنے 2ارب 85کروڑ روپے کے بلز کا فیصلہ ٹھیکیدار کے حق میںدیا جیکہ اب بھی 55ارب 11کروڑ روپے کے بلز ابھی تک ثالثی کے منتظر ہیں۔علاوہ ازیں2ارب روپے کی ریٹینشن کی رقم بھی روک لی گئی۔
اسلام آ باد وزیرِ اعظم شہباز شریف سے نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے پیر کے روز ملاقات کی ۔ وزیر اعظم آفس سے...
اسلام آ باد سینئر بیورو کر یسی کیلئے اہم خبر ہے کہ وفاقی بیوروکریٹس کی گریڈ 21 سے 22 میں ترقی کیلئے بلائے...
اسلام آبادپاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ حکومت ووٹر سے خوفزدہ ہے، اسلئے...
اسلام آباد سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر آج شوال میں پاک افغان سرحد پے در اندازی کی ناکام کوشش...
اسلام آبادمشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے پیشِ نظر پاکستان نے جون کے مہینے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کے...
واشنگٹنامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پروجیکٹ فریڈم روکا، انہوں...
کراچی 2026 میں مسلسل تین ماہ جنوری ،فروری اور مارچ میں سرپلس رہنے کے بعد اپریل میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ منفی...
کراچی غزہ میں آٹے اور ایندھن کی قلت، روٹی کے لیے طویل قطاریں آٹے کی کمی سے بیکریوں کی پیداوار شدید متاثر ،...