دہشتگرد حملے کے پیچھے امریکہ، برطانیہ اور یوکرین کا ہاتھ تھا،روس

28 مارچ ، 2024

کراچی(نیوز ڈیسک)روسی فیڈرل سیکیورٹی سروس کے ڈائریکٹر الیگزینڈر بورتنیکوف نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت ماسکو کے کروکس سٹی کنسرٹ ہال میں جمعے کی شام ہونے والے دہشت گرد حملے کے پیچھے امریکہ، برطانیہ اور یوکرین کا ہاتھ تھا۔الیگزینڈر بوررتنیکوف نے روسی اٹارنی جنرل کے دفتر کے خصوصی اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دی۔روسی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے میں گرفتار تمام افراد تاجکستان کے شہری ہیں۔ تمام گرفتار دہشتگرد تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے کے نواحی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔روسی حکام کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد میں سے فریدونی شمس الدین کا تاجکستان میں گھر سیل کر دیا گیا ہے، بیکری ملازم فریدونی 6 ماہ پہلے روس آیا تھا اور باقاعدگی سے رقم گھر بھیجتا تھا۔ ماسکو میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں امریکہ، برطانیہ اور یوکرین کےملوث ہونے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں الیگزینڈر بورتنیکوف نے کہا کہ ہمارے خیال میں ایسا ہی ہے۔ ہم پہلے ہی ہمارے پاس موجود ثبوتوں کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمومی معلومات ہیں، لیکن اس میں ان کا بھی بڑا فائدہ ہے۔ الیگزینڈربورتنیکوف نے کہا کہ ہمارے پاس بعض معلومات ہیں کہ ان افراد کا یوکرین میں انتظار کیا جا رہا تھا اور ان کا جیالوں کی حیثیت سے استقبال کیا جانا متوقع تھا ۔ تا ہم ، دہشت گرد حملہ کروانے والوں کا فی الحال تعین نہیں کیا جا سکا۔ایف ایس بی کے ڈائریکٹر الیگزینڈربورتنیکوف نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین، مشرق وسطیٰ میں عسکریت پسندوں کو تیار کر کے ان کوتربیت دے رہا ہے، روس مخالف محاذ پر مختلف اقوام کے جنگجووں کی موجودگی اس چیز کی مظہر ہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امریکہ نے ممکنہ دہشت گرد حملے کے بارے میں روس کو معلومات پہنچائی تھیں جن کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا تھا، البتہ یہ معلومات عمومی نوعیت کی تھیں۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ روس، ماسکو میں دہشت گرد حملے کا جواب دے گا، اس حملے میں ملوث تمام افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جائیگا۔ملک میں دہشت گردی کے خطرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے، الیگزینڈر بورتنیکوف نے یاد دلایا کہ یوکرین کی سیکورٹی سروس کے دہشت گردانہ حملوں کی روک تھام جاری ہے ، ایس بی یو کو دہشت گرد تنظیم تسلیم کیا جانا چاہیے۔