چھ جج شوکت صدیقی کے ساتھ اگر پہلے کھڑے ہوتے!

انصار عباسی
28 مارچ ، 2024
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے پاکستان کی سب سے بڑی خفیہ ایجنسی پر بڑے سنگین الزامات عائد کر دیےہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کو لکھے گئے اپنے خط میں ان چھ ججوں نے جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی کے کیس کا حوالہ دے کہ اُن کی طرف سے 2018 میں لگائے گئے الزامات پر تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ بھی ڈیمانڈ کیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل یہ بھی دیکھے کہ ایجنسیوں کی عدالتی معاملات پر مداخلت 2018 کی طرح کیا اب بھی تو جاری نہیں۔ اپنے خط میں ان چھ ججوں نے مختلف واقعات کا ذکر کرتے ہوے لکھا کہ مبینہ طور پر کس طرح ججوں پر خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے اُن پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اُنکے قریبی عزیزوں کوہراساں اور اُن پر تشدد تک کیا گیا، ایک جج کے سرکاری گھر کے بیڈ روم اور ڈرائنگ روم میں ویڈیو ریکارڈنگ کے آلات فکس کیے گئے۔ اس خط نے ایک بھونچال سا پیدا کر دیا ہے۔ اگر ایک طرف تحریک انصاف ان ججوں کو ہیرو بنا پر پیش کر رہی ہے اور یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ چھ ججوں کے خط کے بعد عمران خان کے خلاف دی گئی تمام سزاوں کو کالعدم قرار دیا جائے تو دوسری طرف ن لیگ کے رہنماوں کی طرف سے ان ججوں کو اپنا ماضی یاد کروایا جا رہا ہے جب اُن میں سے کچھ مبینہ طور پرکسی کے دباو پر ن لیگیوں کے خلاف فیصلے دیتے تھے۔ خواجہ سعد رفیق نے یاد کرایا کہ چندسال پہلے جب وہ اور اُن کے بھائی اسلام آباد ہائی کورٹ راہداری ضمانت لینے کے لیے آئے تو اُن کا ججوں نے مذاق اُڑایا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ چلیں اچھا ہوا اب ضمیر جاگ رہے ہیں۔ ن لیگ کے ہی سینٹر عرفان صدیقی نے سوال اُٹھایا کہ ان چھ ججوں نے مبینہ مداخلت پر خود ایکشن لینے اور دباو ڈالنے والوں کا نام لینے کی بجائے کیوں معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل بھیج دیا۔ صدیقی صاحب کا کہنا، ایسے موقع پر جب 9مئی کے مجرموں کو سزائیں دی جانے کی توقع، ان ججوں کے خط نے ایک مخصوص پارٹی کی سہولت کاری کا کام کیا ہے۔ اُنہوں نے ان چھ ججوں میں شامل چند ججوں کو یاد دلایا کہ وہ چند سال پہلے تک کیسے فیصلے کر رہے تھے۔ بار کونسلز کی طرف سے ان ججوں کے خط لکھے جانے کو سراہا جا رہا ہے جبکہ ایک وکیل صاحب نے سپریم کورٹ میں درخواست ڈال دی کہ ان ججوں کے خط کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اس درخواست میں الزام لگایا گیا کہ یہ خط طے شدہ منصوبہ کے تحت لکھا گیا جس نے عدلیہ کو سکینڈیلائز کیا۔ تحریک انصاف سمیت مختلف اطراف سے اس خط پر تحقیقات کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو میری نظر میں ایک بہترین تجویز ہے۔ اس سلسلے میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی طرف سب دیکھ رہے ہیں کہ وہ کب اور کیا فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ایسے معاملہ کے حل کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل شاید موثر ادارہ نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کیا جو الزامات ججوں نے لگائے اُس میں کتنی حقیقت ہے اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ ایجنسیوں کی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت ہے تو اسے روکے جانے کے لیے کیا کیا جائے۔ چھ ججوں نے اپنے خط میں اگرچہ جسٹس ریٹائرڈ شوکت صدیقی کے الزامات اور اُن الزامات کی بنیاد پر سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کا نام لکھ کر تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن خود اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کا ذکر کر کے کسی ایجنسی کے افسر یا اہلکار کا نام نہیں لیا۔ ان ججوں کے خط سے یہ تاثر اُبھرتا ہے کہ اُن کو اپنے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ پر اعتماد نہیں۔ ایک بات جو میں نے محسوس کہ جسٹس شوکت صدیقی کے حوالے سے آج جو بات کی جا رہی ہے وہ ماضی میں ان ججوں اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دوسرے ججوں کی طرف سے کیوں نہیں کی گئی۔ شوکت صدیقی کو اُن کے الزمات پر نوکری سے نکال دیا گیا لیکن کوئی ایک جج بشمول اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کے، نہ بولا۔ صدیقی صاحب نے کوئی پانچ چھ سال بہت مشکلات دیکھیں، اُن کے کیس کو سپریم کورٹ تک میں نہیںسنا جا رہا تھا بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چند ایک جج شوکت صدیقی صاحب کے نام لینے پر چڑ جاتے تھے۔ اگر شوکت صدیقی کے ساتھ اُنکے اسلام آباد ہائی کورٹ کے اپنے ہی جج کھڑے ہو جاتے تو آج شاید بہت کچھ بدل چکا ہوتا، عدلیہ کی حالت میں شاید کچھ بہتری بھی نظر آ رہی ہوتی۔ چلیں دیر آئید درست آئید۔آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے شوکت صدیقی کو ایک قابل تقلید مثال کے طور پر پیش کیا۔ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں ان ججوں کے خط پر اپنے اپنے مفادات کے مطابق سیاست کریں گے لیکن اہم بات یہ کہ جو اُنہوں نے ایجنسیوں پر الزمات لگائے اُس پر فوری تحقیقات کی جائیں اور اس کیلئے قاضی فائز عیسیٰ کو فوری فیصلہ کرنا ہو گا۔
(کالم نگار کے نام کے ساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)