ججز کا خط، فل کورٹ اجلاس، چیف جسٹس کی صدارت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر غور، آئینی و قانونی حیثیت کا جائزہ

28 مارچ ، 2024

اسلام آباد، لاہور (رپورٹ:رانامسعود حسین،کورٹ رپورٹر، ایجنسیاں) اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا،جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط پر غوراور اسکے آئینی و قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا، علاوہ ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ کےججز کے خط پر انکوائری کمیشن تشکیل دینے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے خط طے شدہ منصوبہ لگتا ہے اور بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اشارے پر لکھا گیاہے،خط منظر عام پر آتے ہی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف سوشل میڈیا پر ایک مذموم مہم شروع کردی گئی تھی، دریں اثناء ملک کے پانچوں ہائیکورٹس بار اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشنز نے خط کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان سے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی آزادی کیخلاف کوئی ایکشن برداشت نہیں کرینگے، خیبر پختونخوا اور بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی مداخلت قابل مذمت ہے، سپریم کورٹ بار،لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشنز نے کہا ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کی جائے، دوسری جانب سابق جج شوکت صدیقی کا کہنا ہے کہ میں نے تن تنہا یہ جنگ لڑی اور جیتی اللہ کا شکر ہے میں سرخرو ہوا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کا خط میری باتوں کی توثیق کررہا ہے، چھ ججوں کے جوڈیشل کنونشن بلانے کے مطالبے کی حمایت کرتا ہوں۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججز کے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط کے معاملے پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس ہوا فل کورٹ اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ،جسٹس منیب اختر اور جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس امین الدین، جسٹس شاہد وحید، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس عرفان سعادت، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی، جسٹس عائشہ صدیقی اور جسٹس نعیم اختر افغان بھی موجود تھے۔ ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس تقریباً ڈھائی گھنٹے تک جاری رہا۔ ذرائع کے مطابق فل کورٹ اجلاس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے خط پر غور کیا گیا اور ججز کے خط کی آئینی و قانونی حیثیت کا جائزہ لیا گیا۔چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا فل کورٹ اجلاس ججز کمیٹی روم دوگھنٹے تک جاری رہنے کے بعد ختم ہوگیا، اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔دریں اثناء سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ایک آئینی درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6حاضر سروس ججوں کی جانب سے عدلیہ کے معاملات میں خفیہ ادارے کے اہلکاروں کی مبینہ مداخلت،من مرضی کے بنچوں کی تشکیل اور من مرضی کے مقدمات کو سماعت کیلئے مقرر کروانے ،ججوں پردبائو ڈالنے، دھمکیاںدینے اور ہراساںکرنے کے الزامات کے حوالے سے سپریم جودیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں عائد الزامات کی صاف ،شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے ایک ’’اعلیٰ سطح کا تحقیقاتی کمیشن‘‘ تشکیل دینے کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 6 ججوں کا لکھا گیا یہ خط ایک ڈیزائن شدہ اقدام لگتا ہے۔ درخواست گزار میاں دائود ایڈوکیٹ نے بدھ کے روز آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت دائر کی گئی درخواست میں وفاق پاکستان کو سیکرٹری ہائے، وزارت قانون و انصاف، سیکرٹری دفاع اورسیکرٹری وزارت داخلہ، اسلام آباد ہائی کورٹ کو اسکے رجسٹرار کے ذریعے،جبکہ جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری ،جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس محترمہ ثمن رفعت امتیاز کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں عمومی نوعیت کے الزامات لگائے گئے ہیںجن سے یہ تاثر ابھرتاہے کہ خفیہ ادارے پورے ملک کے عدالتی نظام کو کنٹرول کر رہی ہے، درخواست گزار کے مطابق فاضل ججوں کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے ذریعے عدلیہ کی آزادی اور عوامی اعتماد کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،خط میں صرف ایک کیس کا حوالہ دیا گیاہے جبکہ تاثر یہ دیا گیا کہ خفیہ ادارے اور انتظامیہ پاکستان تحریک انصاف کے مقدمات پر اثر انداز ہو رہی ہے، درخواست گزار کے مطابق خفیہ ادارے کی عدالتی کارروائی میں مداخلت کیخلاف ان6 ججوںکے سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے کے عمل نے ہی اس سارے معاملہ کو ہی مشکوک کر دیا ہے، کیونکہ نظام عدل سے وابستہ عام شخص بھی جانتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایسے تنازعات کی تحقیقات سے متعلق ادارہ ہی نہیں ہے۔ درخواست گزارکے مطابق چھ ججوں نے اپنے خط میںملزم عمران خان کے صرف ایک مقدمہ کی مثال پیش کی ہے،اس کے علاوہ انہوںنے اپنے خط میں ایک بھی مقدمہ کا واضح حوالہ اور ثبوت نہیں دیاہے، درخواست گزار کے مطابق ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے کئی مرتبہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے متعدد ملزمان کو ریلیف دیاہے۔درخواست گزار کے مطابق ملزم عمران خان کی حمایت میں مسلسل فیصلے دینے کے بعد بھی خفیہ ادارے پر عدالتی معاملات میں مداخلت کا الزام لگانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ دریں اثناء سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ اکیس جولائی 2018ء کو میری تقریر کے بعد ساتھی ججوں کے رویے میں اجنبیت آگئی تھی، اس وقت اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آبادبار کونسل نے میرے حق میں کوئی آواز بلند نہیں کی، میں نے تن تنہا یہ جنگ لڑی اور جیتی اللہ کا شکر ہے میں سرخرو ہوا۔جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججوں کا خط میری باتوں کی توثیق کررہا ہے، چھ ججوں کے جیوڈیشل کنونشن بلانے کے مطالبہ کی حمایت کرتا ہوں، میری رائے میں اگر یہ خط براہ راست چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم کورٹ کے باقی ججوں کو بھیجا جاتا تو بہتر ہوتا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنا میرے لیے بھی حیران کن بات ہے، سپریم جوڈیشل کونسل میں یہ معاملہ بھیج کر اسکوپ کم کیا گیا ہے، چیف جسٹس کے نوٹس میں معاملہ آگیا ہے ممکن ہے اس پر فل کورٹ بیٹھ جائے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد با ر ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی جانب سے اعلیٰ عدلیہ کی آزادی، خود مختاری کے منافی اقدامات اور مداخلت کے حوالے سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ صدر راجہ محمد شکیل عباسی کی زیرصدارت بار ایسوسی ایشن کی کابینہ کا گذشتہ روز ہنگامی اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ نظام عدل و انصاف پہ عوام الناس کا اعتمادہی عدلیہ کی آزادی اور خود مختاری سے وابستہ ہے ۔ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بار عدلیہ کی آزادی کو بری طرح متاثر کرنے والی خفیہ ایجنسیوں کو بے نقاب کرنے پر ججز کو سلام پیش کرتی ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا کہ ہم خفیہ اداروں کی اپنی پسند فیصلے حاصل کرنے کیلئے مداخلت کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ بلوچستان بار کونسل نے کہا ہے کہ اسلام آبادہائی کورٹ کے ججز کا خط تشویشناک عمل ہے، عدالتی امور میں مداخلت قابل مذمت ہے جو کسی صورت قبول نہیں ہے۔ خیبرپختونخوا بار کونسل نے ججز کے خط میں اداروں کی مبینہ مداخلت پر تحفظات اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی امور میں مداخلت قابل مذمت ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار کے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ سندھ ہائی کورٹ بار آئین و قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے اور یہ مانتی ہے کہ عدلیہ کی آزادی آئینی حقوق کی حفاظت کیلئے اہم ہے، تاہم حالیہ ہونے والے انکشاف نے ججوں کی ساکھ، کارکردی کو متاثر کردیا ہے۔ بتایا گیا کہ اداروں کی جانب سے عدلیہ کے ججوں خاندان کے ذریعے یا براہ راست دباؤ ڈالنے کا عمل ججوں کی پرائیوسی میں مداخلت کی بدترین مثال ہے۔سپریم کورٹ بار کے صدر شہزاد شوکت او رسیکرٹری سید علی عمران کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیہ میں اسلام آباد ہائی کورٹ ججوں کے خط سے پیدا صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ عدلیہ اور ججوں کی نجی زندگی میں مداخلت کی نہ صرف مذمت ہونی چاہیے بلکہ اس کے خلاف کارروائی بھی ہونی چاہئے۔