کراچی (ٹی وی رپورٹ)صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے کیس کو چھ ججوں کے خط سے نہیں ملایا جاسکتا، اس وقت جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس تھے جبکہ ان چھ ججوں کیخلاف کوئی ریفرنس نہیں ہے، ان الزامات کی تحقیقات ہونا چاہیے،مسلم لیگ ن کے طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ چھ ججوں کا لکھا گیا خط مبہم ہے ، ریاست، فوج، انٹیلی جنس ادارے، عدلیہ اور انتظامیہ ایک ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تو کبھی اس دلدل سے باہر نہیں نکل سکتے سپریم جوڈیشل کونسل ایجنسیوں کے نہیں عدلیہ کے محاسبے کا فورم ہے،ان خیالات کا اظہار دونوں رہنمائوں نے جیو نیوز کے پروگرام’ کیپٹل ٹاک ‘ میں میزبان حامدمیر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اسلام آباد دورہ چین، وزیر اعظم شہباز شریف بیجنگ سے قبل ہانگ ژو جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان اور چین کے...
اسلام آباد حکومت نے مٹی کی تیل کی قیمت میں 7 روپے 23 پیسے کمی کر دی، پٹرول پر لیوی کم کر دی جبکہ ڈیزل پر لیوی...
کراچی عمان ہرمز معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان کشمکش میں پھنس گیا۔ مسقط کی پوزیشن غیر واضح،ہرمز میں...
اسلام آ باد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ5G اسپیکٹرم کی کامیاب اور شفاف نیلامی بلا شبہ "ڈیجیٹل...
کراچیوزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کی بھارت کے شہر احمد آباد میں ہونے والی میٹنگ میں...
لاہور پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے ہدایت کی ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف...
تائی پے — تائیوان نے ہفتے کے روز خود کو ایک “خودمختار اور آزاد” ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عوامی...
کراچی ایران جنگ تیل بحران،کچھ ممالک کی اربوں ڈالر کما ئی، کچھ کو شدید نقصان، امریکا، ناروے اور برازیل کو...