اسلام آباد( مہتاب حیدر) حکومت آئندہ بجٹ 2024-25 میں کاربن ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے تاکہ معدنی تیل کی طلب کی روک تھام کی جاسکے نیز ٹیکس میں صوبائی شیئر سے جان چھڑائی جاسکے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کے بجائے پاکستانی حکام نے 2024-25 کےلیے ’ کاربن لیوی کی شکل میں ایک نیا تصور پیش کیا ہے جس سے پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ کاربن کا اخراج کرنے والی ہرچیز پر ٹیکس لگایاجائےگاتاکہ ان کی طلب کم ہوسکے۔ اس پرحکومت نے 20 سے 30 فیصد کاربن ٹیکس لگانے کا متبادل تصور ، آئندہ بجٹ دستاویز میں ٹیکس لگانے کا اختیارلیاجائیگا۔ واضح رہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر مارچ 2022 سے پہلے بھی سیلز ٹیکس عائد تھا جسے اس وقت کی حکومت نے ختم کردیا تھا۔اعلیٰ ذرائع نے بدھ کو دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’’کاربن ٹیکس پٹرولیم مصنوعات اور معنی تیل کی درآمد کے مرحلےپر لگائے جانے کا امکان ہے۔
اسلام آباد بجلی صارفین سے تقریباً 9 روپے فی یونٹ تک اضافی ٹیکس وصولی کا انکشاف ،فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی...
کراچی چیئرمین پاک چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔...
اسلام آباد ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مزید 20 اپارٹمنٹ سب لیز ہولڈرز کی انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت آج اسلام...
کراچی اسرائیل کی جانب سے گزشتہ برس ایران جنگ سے قبل بھی عراق میں ایک خفیہ فوجی اڈا قائم کیے جانے کا انکشاف ہوا...
اسلام آباد پاکستان کے گیس گردشی قرضہ پلان پر آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کردیا، منظوری کی رپورٹیں غلط...
اسلام آ باد وفاقی حکومت نےسرکلرڈیٹ کوکم کرنےکےاقدامات کےتحت کے الیکٹرک کےساتھ قانونی تنازع ختم اور تمام...
اسلام آباد پاکستان کی ثالثی کوششیں، ایران اور امریکہ کے درمیان نئی تجاویز کا تبادلہ نہیں ہوا۔ ایران نے...
کراچی وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہےکہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور اور...