ٹیکسز میں صوبائی شیئر سے جان چھڑانے کیلئےوفاق کا ’’کاربن لیوی ‘‘ کا تصور

28 مارچ ، 2024

اسلام آباد( مہتاب حیدر) حکومت آئندہ بجٹ 2024-25 میں کاربن ٹیکس لگانے پر غور کر رہی ہے تاکہ معدنی تیل کی طلب کی روک تھام کی جاسکے نیز ٹیکس میں صوبائی شیئر سے جان چھڑائی جاسکے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانے کے بجائے پاکستانی حکام نے 2024-25 کےلیے ’ کاربن لیوی کی شکل میں ایک نیا تصور پیش کیا ہے جس سے پٹرولیم مصنوعات ہی نہیں بلکہ کاربن کا اخراج کرنے والی ہرچیز پر ٹیکس لگایاجائےگاتاکہ ان کی طلب کم ہوسکے۔ اس پرحکومت نے 20 سے 30 فیصد کاربن ٹیکس لگانے کا متبادل تصور ، آئندہ بجٹ دستاویز میں ٹیکس لگانے کا اختیارلیاجائیگا۔ واضح رہے کہ پٹرولیم مصنوعات پر مارچ 2022 سے پہلے بھی سیلز ٹیکس عائد تھا جسے اس وقت کی حکومت نے ختم کردیا تھا۔اعلیٰ ذرائع نے بدھ کو دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ ’’کاربن ٹیکس پٹرولیم مصنوعات اور معنی تیل کی درآمد کے مرحلےپر لگائے جانے کا امکان ہے۔