پشاور BTR پراجیکٹ کا کنٹریکٹر عالمی ثالثی عدالت پہنچ گیا، 57 ارب کا دعویٰ دائر

28 مارچ ، 2024

پشاور(ارشدعزیز ملک ) پشاور بی آر ٹی پراجیکٹ کے جے وی کنٹریکٹرز نے آخر کار معاہدے کی دفعات کے تحت بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کرلیا ہے تاکہ انہیں 57 ارب روپے کی بقایا متنازعہ رقم ادا کی جائے۔اگر دعویٰ مان لیا گیا تو بی آر ٹی پشاور کی کل لاگت 120 ارب روپے سے تجاوز کر جائیگی۔کنٹریکٹر نے پراجیکٹ کا دائرہ کار بڑھانے، ڈیزائن میں بار بار تبدیلی، اضافہ،قیمتوں میں ایڈجسٹمنٹ، ادائیگیوں میں تاخیر، مالیاتی چارجز اور اپنی بقایا رقم پر سود کیلئے رقم کا مطالبہ کیا ہے۔پی ڈی اے کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس نمائندے کو بتایا کہ نیب کی انکوائریوں کی وجہ سے دونوں فریقوں کے درمیان تنازع خوش اسلوبی سے حل نہیں ہوسکا ۔چینی اور پاکستانی کمپنیوں کی مشترکہ کمپنی M/S SGEC-MAQBOOL-CALSONS نے بین الاقوامی عدالت برائے ثالثی، انٹرنیشنل چیمبر آف کامرس پیرس، فرانس کو ثالثی کیلئے ایک خط بھیجا ہے، جس میں کہا گیا کہ کنٹریکٹ کی ذیلی شق 20.5کے تحت پی ڈی اے کے ساتھ تمام متنازعہ معاملات بشمول ثالثی بورڈ کی طرف سے ہمارے حق میں فیصلہ کیے گئے تنازعات پرخوش اسلوبی سے تصفیہ کے لیے کئی سنجیدہ کوششیں کی گئیں تاہم یہ تمام کوششیں ناکا م ہوگئیں ۔خط میں کہا گیا کہ پی ڈی اے نے پشاور بس ریپڈ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کا تصور دیا اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے قرضہ لے کر پشاور کے شہریوں کی سہولت کے لیے منصوبہ شروع کیا۔