انکوائری کمیشن، جسٹس (ر) تصدق جیلانی سربراہ، ججز الزامات کی انکوائری کرے گا، ایگزیکٹو کی مداخلت کا الزام نامناسب ہے، وفاقی کابینہ

31 مارچ ، 2024

اسلام آباد (نمائندہ جنگ، ایجنسیاں) وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دیدی اور سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ نامزد کیا ہے، کمیشن ججز الزامات کی انکوائری کریگا، کابینہ نے انکوائری کمیشن کے ٹی او آرز کی بھی منظوری دی،کمیشن 60روز میں اپنی انکوائری مکمل کرکے رپورٹ پیش کریگا، کابینہ نےایگزیکٹو کی مداخلت کے الزام کی نفی کرتے ہوئے اسے نامناسب قراردیا۔ جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے کمیشن کی سربراہی کی قبول کرتے ہوئے کہا کہ حساس نوعیت کا ایشو ہے، الزامات کی تحقیقات صاف، شفاف اور میرٹ پر ہوگی، عید کے بعد پروسیڈنگ شروع ہو گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز کے خط پر انکوائری کمیشن تشکیل دیدیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلوں کی منظوری کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ اجلاس نے 25 مارچ 2024 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ معزز جج صاحبان کی جانب سے لکھے گئے خط کے مندرجات پر تفصیلی غور کیا۔اجلاس کو بتایاگیا کہ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس پاکستان کی جناب وزیر اعظم سے ملاقات میں انکوائری کمیشن کی تشکیل تجویز ہوئی تھی۔ وفاقی کابینہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ جج صاحبان کے خط پر انکوائری کمیشن کی تشکیل کی منظوری دیتے ہوئے سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی کو انکوائری کمیشن کا سربراہ نامزد کردیا۔ وفاقی کابینہ نے انکوائری کمیشن کی شرائط کار (ٹی اوآرز)کی بھی منظوری دی۔ ٹی۔او۔آرز کے مطابق انکوائری کمیشن معزز جج صاحبان کے خط میں عائد کردہ الزامات کی مکمل چھان بین کریگا اور تعین کریگا کہ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں۔ انکوائری کمیشن تعین کریگا کہ کوئی اہلکار براہ راست مداخلت میں ملوث تھا؟ کمیشن اپنی تحقیق میں سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر کسی ایجنسی، محکمے یا حکومتی ادارے کیخلاف کارروائی تجویز کریگا۔ کمیشن کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ وہ انکوائری کے دوران ضروری سمجھے تو کسی اور معاملے کی بھی جانچ کرسکے گا۔ کابینہ کے اجلاس نے معزز چھ جج صاحبان کے خط میں ایگزیکٹو کی مداخلت کے الزام کی نفی کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا۔ کابینہ ارکان کی متفقہ رائے تھی کہ دستور پاکستان 1973 میں طے کردہ تین ریاستی اداروں میں اختیارات کی تقسیم کے اصول پرپختہ یقین رکھتے ہیں۔وزیراعظم نے عدلیہ کی آزادی اور دستوری اختیارات کے تقسیم کے اصول پر کامل یقین رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کابینہ کو اس خط کے بعد اپنے مشاورت اور چیف جسٹس پاکستان سے ہونے والی ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں لیا۔کابینہ نے وزیراعظم کے فیصلوں اور اب تک کے اقدامات کی مکمل توثیق و حمایت کی۔ دوسری جانب ’انکوائری کمیشن‘ کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ الزامات کی تحقیقات صاف، شفاف اور میرٹ پر ہونگی۔ انہوںنے ہفتہ کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کمیشن کی سربراہی کا کہا گیاتو حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے ٹی او آرز کا بغور جائزہ لیا ہے اور میں نے بعد میں کمیشن کی سربراہی کیلئے رضا مندی ظاہر کی ہے۔انکا کہنا تھا کہ تحقیقات صاف، شفاف اور میرٹ پر ہونگی، انکوائری کمیشن کا مقصد ہے کہ عدلیہ کی آزادی برقرار رہے۔