کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ’’نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا کہ ایک کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس کے لیے حکومت کو مشورہ دیا جائے کہ فوری طور پر کمیشن کی تشکیل کردیں، سنیئر رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا کہ عدالتی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے ایشو پاکستان کی تاریخ کا سنگین ترین ایشو ہے ،حامد خان اور میری نہیں بنتی ہے میں ان کے بیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ حامد خان اگر میری ذات کے حوالے سے بیان دیں گے تو اس کا جواب تو انہیں ملے گا، نمائندہ جیو نیوز فیضان لاکھانی نے کہا کہ بابر اعظم کو کپتان بنانے سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔ مسلم لیگ نون کے رہنما ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ جو خط لکھا گیا تھا وہ سپریم کورٹ کو لکھا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے فل بینچ کر کے مشاورت کی اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کا تھا کہ ایک کمیشن تشکیل دیا جائے اور اس کے لیے حکومت کو مشورہ دیا جائے کہ فوری طور پر کمیشن کی تشکیل کردیں۔ کیا سپریم کورٹ کو 184-3 کے تحت انکوائری کرنی چاہیے تھی یا کمیشن بنانے کا کہنا چاہیے تھا یہ سوال سپریم کورٹ سے پوچھنا ہوگا اس پر ہمارا اختیار نہیں ہے۔ تحریک انصاف کو کچھ لمحے کے لیے سائیڈ پر رکھ دیں تو جتنے بھی مبصرین تبصرہ کر رہے ہیں کسی نے بھی تصدق جیلانی پر کسی قسم کا الزام نہیں لگایا سوائے تحریک انصاف کے اور شاید چیف جسٹس ثاقب نثا رکے علاوہ تحریک انصاف کسی پر راضی نہ ہو اگر ثاقب نثار کو مقرر کرنا ہے تو سپریم کورٹ کردے لیکن وہ سب سے زیادہ متنازع جج ہیں اسی لیے ایک غیر متنازع جج کو مقرر کیا گیا ہے۔ٹی او آرز میں کس جگہ لکھا ہوا ہے کہ ججز ثابت کریں گے وہ بات جو ڈسکس نہیں ہوئی جس کا عندیہ بھی نہیں دیا گیا وہ بات کہاں سے آگئی ہے۔ ذمہ داری فکس کی جائے کہ اگر ایسا ہوا ہے اور ثبوت موجود ہیں تو ان لوگوں کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔ٹھیکدار سے کہا جائے کہ کس نے کیمرے دیئے تھے لگانے کے لیے جب کسی ادارے کو کوئی ہدایت دی جائے گی کہ جا کر پتہ کریں تو ججز صرف رہنمائی فرمائیں گے کہ وہ ٹائم فریم کیا تھا جس میں یہ کیمرے لگائے تھے یا اگر کسی کو کسی کا فون آیا ہے تو کن تواریخ میں فون آیا تھا۔ جس طرح صدیقی ٹی وی پر روز آکر نام لے کر بتا رہے ہیں کہ فلاں شخص فلاں دن میرے گھر آیا اس نے مجھے آکر یہ کہا اور یہ بھی کہا کہ اگر نہیں کرو گے تو خراب نتائج ہوں گے جب یہ سب چیزیں صدیقی سامنے لا رہے ہیں تو جب پوری سرکار کے ادارے کمیشن کے ماتحت کر دیئے جائیں گے اور وہ اس ٹھیکے دار سے لائٹ لگانے والے سے پوچھیں گے تو حقیقت سامنے آئے گی۔ ہائی کورٹ کی پاور دی گئی ہیں کمیشن کو اگر کوئی شخص ہدایات پر عمل نہیں کرتا تو توہین لگنے کی طاقت بھی موجود ہے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس فیصلہ کریں گے کہ احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے ججز سے کیسے انفارمیشن لیں گے اور پھر کس کس ادارے کو کیا ہدایات دیں گے کہ اگر کوئی ثبوت ہے تو کٹہرے میں لایا جائے ۔ یعنی ہائی کورٹ کی پاور ، کریمنل کورٹ کی پاور اور تمام اداروں کی براہ راست رپورٹنگ لائن بھی کمیشن کے حوالے کی گئی ہیں اس کے علاوہ اور کیا کچھ ہوسکتا ہے۔سنیئر رہنما پی ٹی آئی شیر افضل مروت نے کہا کہ ریٹائرڈ جج صاحبان کی جو کمیشن کے انکوائری رپورٹس ہوتی ہیں یہ بے جان ہوتی ہیں ایسے ایشوز پر بھی بہت ناقص کمیشن رپورٹ فارمولیٹ ہوئی ہیں جس طرح کا شوگر اسکینڈل تھا عدالتی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے یہ ایشو پاکستان کی تاریخ کا سنگین ترین ایشو ہے۔ بہت سی مثالیں موجود ہیں دو سال پر مشتمل دورانیہ ہے، ہر فورم پر جا کر اس وقت کے چیف جسٹس بندیال کو جا کر کہا موجودہ چیف جسٹس کو انفارم کیا اپنے چیف جسٹس کو گاہے بگاہے آگاہ کرتے رہے جب کوئی راستہ نہیں ملا تو انہوں نے یہ خط لکھا کہ عدلیہ بحیثیت ادارہ اپنے تحفظ کی خاطر کوئی ایک انسٹیٹیوشنل میجر لے سپریم کورٹ نے کہا ایگزیکٹو کے خلاف شکایت ایگزیکٹو پر چھوڑ دیتے ہیں وہی اپنے خلاف شکایت کا فیصلہ کریں اس کے لیے منصف کی تقرری بھی وہ کریں۔ بحیثیت وکیل میں یہ سمجھتا ہوں کہ کیونکر یہ جج صاحبان اس ریٹائرڈ جج کے پاس جائیں مدعیان کی تسلی اور تشفی ضروری ہے۔انہوں نے اپنے ادارے کو کہا تھا کہ یہ معاملات پیش آرہے ہیں ان کا ازالہ بحیثیت ادارہ آپ کریں ۔ پاکستان کی عدلیہ کے پاس بہترین موقع تھا کہ کوئی تاریخی فیصلہ کرتی۔آج کابینہ کا جو اعلامیہ جاری ہوا انہوں نے سب سے پہلے ہی اس کمیشن کو خود ہی نل اینڈ وائٹ کردیا جب وزیراعظم یا کابینہ نے یہ کہا کہ ایگزیکٹو پر مداخلت کا الزام ہے یہ نامناسب ہے کمیشن کے تعین سے پہلے ہی فیصلہ دے دیا۔ ہم نے ابتدا میں کہہ دیا تھا کہ کوئی ریٹائرڈ جج منظور نہیں ہے اور وہ ہومیوپیتھک ٹائپ جج رہے ہیں بڑے شریف آدمی رہے ہیں اور حرف عام میں ہم کمزور کہتے ہیں ۔غیر جانبدار یہ تب ہی رہیں گے جب مضبوط ہوں گے جو شخص کمزور ہوگا وہ کس طرح الزامات کی شفاف تحقیقات کرسکیں گے۔جب چیف جسٹس بنے مشہو ر کیس تھا سوئز اکائونٹ آصف زرداری کا یوسف رضا گیلانی کے بھی رشتے دار ہیں اور جلیل جیلانی جو ان کا بھتیجا ہے وہ کیئر ٹیکر حکومت میں بھی تھے یہ سب رابطے بتا رہے ہیں کہ یہ خاندان پہلے سے شامل ہیں جب زرداری کے خلاف خط لکھنے کا کہا جارہا تھا تو عین فیصلے سے ایک دن پہلے اٹھ گئے کہ میری طبیعت خراب ہے بینچ ٹوٹ گیا شام کو پی سی میں کافی کی چوسکی لے رہے تھے۔حامد خان اور میری نہیں بنتی ہے میں ان کے بیان کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ حامد خان اگر میری ذات کے حوالے سے بیان دیں گے یہ بات عمران خان نے منع کی ہوئی ہے اگر وہ دیں گے تو اس کا جواب تو انہیں ملے گا۔ پارٹی ڈسپلن کے تحت ان چیزوں سے پرہیز کیا جانا چاہیے۔ کیا خط آنے میں کسی قسم کا تحریک انصاف کا بھی کردار ہے اس سوال کے جواب میں شیر افضل مروت نے کہا کہ تحریک انصاف تو خود شکار رہی ہے مداخلت کی ان چھ جج صاحبان میں کس کے پاس عمران خان کا کیس لگا ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ ان معاملات میں وہ عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کی جگہ ہم موجود نہیں ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ صوبے کس طرح چلانا ہے۔ پارٹی پالیسی احتجاج اور مزاحمت میں ہی ہے جہاں تک صوبہ چلانے کی بات ہے وہ وزیراعلیٰ بہتر سمجھتے ہیں البتہ تصویریں کھینچوانا، دوستیاں کرنا یہ نہیں ہونا چاہیے ہمارے بیچ پیار محبت کی پینگیں بڑھانے کا کوئی جواز نہیں ہے جو کام ہے بس وہ جاری رہے۔بابر اعظم کو کپتانی کی آفر کر دی گئی ہے پروگرام کے آخری حصے میں اس سے متعلق نمائندہ جیو نیوز فیضان لاکھانی نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں اس پر بات ہو رہی ہے اور محسن نقوی بھی کہہ چکے ہیں کہ کپتان کا فیصلہ ابھی کیا جائے گا۔ بابر اعظم سے بھی بات ہوئی جس کے لئے انہوں نے کچھ وقت مانگا ہے چونکہ ان کے بھی کچھ تحفظات ہیں ۔جن کھلاڑیوں سے بابر اعظم کے تعلقات کشیدہ تھے وہ بھی اب ٹیم میں واپس آچکے ہیں شاہین آفریدی بطور کپتان ورلڈ کپ کی پلاننگ کر رہے تھے تو کافی غیر مستحکم صورتحال ہے۔یہ بات ضرور ہے کہ بابر اعظم کو کپتان بنانے سے متعلق باتیں ہو رہی ہیں ۔سلیکشن کمیٹی کو امپاور کیا گیا ہے کہ وہ فیصلہ کرے اپنی رائے دے اطلاعات یہ ہیں کہ سلیکشن کمیٹی میں مکمل طور پر ابھی اتفاق نہیں ہوا ہے ایک رائے شاہین کو برقرار رکھنے کے حق میں ہے تو دوسری بابر کے حق میں ہے۔
کراچی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کے توانائی ڈھانچے پر حملوں کی حمایت کردی۔ سینیٹر گراہم کا کہنس تھا...
واشنگٹن واشنگٹن میں بڑی مسیحی دعائیہ تقریب، امریکی مذہبی شناخت پر بحث مزید تیز، وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور...
تہرانایران کی حکومت نے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے امور کے لیے نمائندہ خصوصی مقرر کردیا...
کراچی چیئرمین پاک چائنا انسٹیٹیوٹ مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ ایران امریکا معاہدے کی طرف پیش رفت ہو سکتی...
اسلام آباد ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کے مزید 20 اپارٹمنٹ سب لیز ہولڈرز کی انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت آج اسلام...
نئی دہلی بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگرا کے سابق سربراہ سمنت گوئل کی طرف سے وزیراعظم نریندر...
کراچی ڈرون وار فیئر کا نیا دور، حزب اللہ کے خاموش قاتل ڈرونزسے اسرائیلی دفاعی نظام پریشان ،حزب اللہ کے ڈرون...
اسلام آباد پاکستان کے گیس گردشی قرضہ پلان پر آئی ایم ایف نے تحفظات کا اظہار کردیا، منظوری کی رپورٹیں غلط...