تصدق جیلانی عدالت عظمی ٰکے 21منصف اعظم ، افتخار چوہدری کے بعدعہدہ سنبھالا

31 مارچ ، 2024

کراچی (جنگ نیوز ) تصدق حسین جیلانی عدالت عظمی پاکستان کے 21 ویں منصف اعظم (چیف جسٹس )تھے۔ انھوں نے افتخار محمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ سنبھالا۔ مشرف کے پی سی او کیخلاف حکم جاری کرنیوالے 7 رکنی بینچ کا حصہ تھے،انہیں بہت سے ایوارڈ بھی ملے۔7 ماہ منصف اعظم رہے، عدالت عظمیٰ کا ترانہ ’ جسٹس فارآل ‘ بھی لکھا،ایف سی کالج سے ایم اے کیا۔جسٹس (ر)تصدق حسین جیلانی 6 جولائی 1949 کو پیدا ہوئے، ایف سی کالج سے ایم اے سیاسیات کیا، اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 1974 میں جنوبی پنجاب کے شہر ملتان سے بطور وکیل اپنی پریکٹس کا آغاز کیا۔1979 میں ضیاء الحق کے دور میں پنجاب کے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل تعینات ہوئے۔ سپریم کورٹ میں پریکٹس کا لائسنس انھیں 1983ء میں ملا، 1988ء 1988 میں پنجاب کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل تعینات کئے گئے، 1993 میں انہیں ترقی دے کر پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں 7 اگست 1994 کو لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور تقریباً 10 سال کے بعد انہیں جولائی 2004 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔جسٹس (ر) تصدق جیلانی اس 7 رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے 3 نومبر 2007 کو ایمرجنسی کے موقع پر حکم جاری کیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کا کوئی بھی جج پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھائے اور بیوروکریسی فوجی آمر کا کوئی حکم نہ مانے۔جسٹس ریٹائرڈ افتخار محمد چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد 12 دسمبر 2013 کو چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھایا، بحیثیت چیف جسٹس انہوں نے کم و بیش 7 ماہ خدمات سرانجام دیں اور 5 جولائی 2014 کو ریٹائرڈ ہوئے۔ انھوں نے ضلع کچہری ملتان میں بطور وکیل 1974ء میں اپنی پریکٹس شروع کی۔وکلا ، اداروں کی سیاست میں بھی وہ اپنے عہد جوانی میں متحرک رہے۔ ملتان بار میں وہ دو بار 1976ء اور 1978ء میں جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔اپنے کیرئیر کے دوران انہیں بہت سے ایوارڈ بھی ملے۔2003 میں انہیں امریکی بار ایسوسی ایشن برائے انسانی حقوق نے ڈینور کولوریڈو میں ایوارڈ دیا۔ 2011 میں انہیں فورمین کرسچین کالج یونیورسٹی نے فورمانائیٹ ایوارڈ دیا۔2019 میں انہیں سوئٹزرلینڈ کے شہر ہیت میں انٹرنیشنل جسٹس ایکسی لینس ایوارڈ ملا۔2020 میں انہیں’’ قانون کی حکمرانی اور مذہبی آزادیوں کےلیے کوششوں کے اعتراف میں ایریزونا کےریوبارن کلارک لاسوسائٹی نے کلفرڈ جے والس ایوارڈدیا۔انہوں نے سپریم کورٹ کا ترانہ جسٹس فار آل بھی لکھا۔