اپنی کشتی میں چھید نہ کریں
پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں، ہمیں اس کیلئے خطرہ نہیں بننا چاہئے ذرا سی حکمت و دانش سے کام لیں تو ہمیں لاحق مسائل کا حل ہم سے دور نہیں، اس وقت عاقبت نا اندیشی کا یہ عالم ہے کہ مل بیٹھ کر اپنے مضبوط قلعے کو کمزور کرنے کی کوشش میں یہ جانتے ہوئے مصروف ہیں کہ اس سے بالآخر دشمن کو فائدہ ہوگا اور ہم بہ تکلف اپنی ہی کشتی کو ڈبونے میں کب تک لگے رہیں گے۔ بلاشبہ اس وقت دنیا فتنہ وفساد میں جتی ہوئی ہے مگر کوئی ملک خود اپنے سینے میں خنجر نہیںاُتار رہا، آج پاکستان اپنی پوری قوت کے ساتھ قوموں کی برادری میں موجود ہے مگر اندرونی خلفشار کے باعث خدشہ ہے کہ ہمارا سیاسی، قومی اور معاشی شیرازہ خدانخواستہ بکھر جائے۔ وہ قوم کبھی نہیں بکھرتی جو اپنے اندرونی اختلافات پر بروقت قابو پالے ،ہم نے یہ ملک حاصل کیا ترقی و خوشحالی اور قوموں کی صف میں مقام حاصل کرنے کیلئے،کیسے یقین کیا جائے کہ ایک آفاقی نظریاتی ریاست آج ذاتی مفادات فرقوں اور مختلف پیچھے دھکیلنے والے خیالات میں الجھ کر ایک ایسی حکومت قائم کرچکی ہے جس کے ظاہر و باطن کو دیکھ کر ہرگز اندازہ نہیں ہوتا کہ جس کی پارلیمنٹ میں قومی منصوبوں پر بحث ہو گی حزب اختلاف حکومت پر مثبت تنقید کرے اور حکومت قومی سطح پر آگے بڑھے اپنی ذات کو ایک طرف رکھے اور ریاست کو پیش نظر رکھے، ایک خفیف سا اشارہ کافی ہے کہ ہم گیم چینجر منصوبہ سی پیک تقریباً کھو چکے ہیں جو چلتا رہتا تو ہماری معاشی گاڑی کو امدادی اداروں اور قرضے مانگنے سے نجات دلا دیتا۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
سیاسی لقمانوں کی کمی نہیں
گلی کے تھڑوں سے لیکر برقی تھڑوں تک سیاسی لقمان جا بجا پندارگفتار لیکر یوں گویا ہیں کہ ’’مستند ہے ان کا فرمایا ہوا‘‘ کسی ایک کے پاس ایسا نسخہ نہیں جو اس ڈانواں ڈول نظام کو منظم شکل دے البتہ ایک دوسرے کے شجرے بکھیرنے پر ایسی قدرت رکھتے ہیں کہ قدرت کسے کہیں؟سنجیدگی تک کا یہ عالم کہ اس پر ہنسی آتی ہے۔’’ایک شخص جو نہیں جانتا اور یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہی جانتا وہ تہہ در تہہ جہالت میں مبتلا ہے‘‘اگر کوئی اپنی غلطی کو نہ مانے اور اس کے ارد گرد کے لوگ اسکی غلطی کو صحیح مانیں تو جو نظام قائم ہو گا وہ سقہ ہو گا نظام نہ ہو گا۔ آج کے لقمان کی پہچان یہ ہے کہ وہ تنہا پابند سلاسل ہو اور ڈھیروں اس کے پیروکار ہوں، ہمیں افسوس کہ لقمان کا ذکر کیا حالانکہ ہمارے لقمان اور اصل لقمان میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔غضب یہ کہ ایک تو خود کو سیاست دان کہلاتے ہیں دوسرے لقمان بننے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی تو سیاست دان تھے کہ اپنا سب کچھ لاکر قوم کی جھولی میں ڈال دیا اور ہم ہیں سب کچھ گھر لے گئے ممکن ہے ہمیں سیاسی مغالطہ لگا ہو حقیقت میں ایسا نہ ہو مگر کیسے ؟نظام حکومت کی بات کریں تو یوں بھی ہو رہا ہے کہ بادشاہ منصوبہ بناتا ہے وزیر منسوخ کر دیتا ہے۔یہ تازہ خبر ہے ہمارے بادشاہ لوگوں کے مفاد کے حوالے سے کتنے عاجز مزاج ہیں۔
سیاسی لقمانوں کی ایک قطار یہ بھی ہے کہ ہر چند کہیں کہ اقتدار میں ہیں، نہیں ہیں ۔خودنمائی، خودپرستی، خودنگری، یہ بھی ایک نگری ہے جو سدا آباد رہتی ہے۔سیاسی لقمانوں کا اس نگری سے ماں پتر کا تعلق ہے کوئی برا نہ منائے تو سیاسی لقمانوں نے آج ملک کو اس مقام تک پہنچایا کہ جو کوئی مقام ہی نہیں۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
پتنگ بازی یا سربازی
چار صوبوں کی حکومتیں پتنگ باز ی پر مکمل پابندی عائد کر دیں پھر بھی ہوا میں پتنگ نظر آئے تو سمجھو یا پتنگ نہیں یا ہوا نہیں، البتہ ممکن ہے پتنگ باز سمجھتا ہے جس کی اڑان مسئلے کے ظاہر تک ہے یا حق تک نہیں آج حکومت ان اشیاء کی خریدوفروخت پر پابندی لگا دے جن سے پتنگ بنتی اور اڑتی ہے یقین ہے کہ وطن کی فضائوں سے قاتل پتنگ غائب ہو جائے گی ورنہ ہر روز ایک یا اس سے زائد جانیں ماں کی گود میں خون آلود پڑی ہوں گی اور حاکم وقت لاش پر سسکیاں بھر رہا ہوگا ۔یہی حال سگریٹ کا ہے اس کے کارخانے اور سمگلنگ بند نہیں کی جاتی خریدوفروخت جاری رکھی جاتی ہے جب تک کسی برائی کی جڑ نہیں اکھاڑ پھینکی جاتی شر ختم نہیں ہوسکتا اگر پتنگ بازی کے جملہ عناصر پر پابندی لگا دی جائے تو پتنگ اڑے نہ گردن کٹے نہ مائوں کی گود میں بیٹوں کی لاشیں تڑپیںمگر وزیر اعلیٰ پنجاب اس وقت پتنگ بازی کے خلاف سرفہرست ہیں ، ہمیں توقع کہ وہ اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں گی کچھ برائیاں تاوقتیکہ ختم نہیں ہوتیں جب تک پوری قوم حکومت کا ساتھ نہ دے۔
٭٭ ٭ ٭ ٭
حفظ مراتب
٭پنجاب اسمبلی اجلاس :اپوزیشن کے نازیبا اشاروں پر عظمیٰ بخاری کا واک آئوٹ ۔
عظمیٰ بخاری خانوادہ سادات سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ پنجاب اسمبلی کی خاتون رکن، اپوزیشن کےنازیبا فعل پر ایکشن لیا جائے۔
٭کوشش کی جائے کہ گھروں میں والدین آداب حفظ مراتب سکھائیں اگر کوئی بچہ گالی دےتو اسے فوری روکیں۔
٭کیا کوئی معیشت دان پاکستان میں مہنگائی ختم یا کم ہونے کی پیشگوئی کرسکتا ہے ۔
٭غزہ کے مظلوموں پر کب انسانیت کو ترس آئے گا ،مسلم امہ غزہ کی مدد کو کب پہنچے گی۔
مزید خبریں
-
ایران امریکہ جنگ دوبارہ زور شور سے شروع ہوچکی ہے۔دونوں نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاداشت سے انحراف کے الزامات...
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی متحرک قیادت نے پنجاب میں جس اندازسے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے اس نے عورت کی...
-
کم و بیش ایک صدی قبل کا واقعہ ہے۔امروہہ کا عبدالقدیر ایک انگریز سیاح کے ہمراہ سرینگر آیا۔26جون 1931ءکو مسجد...
-
دنیا نے کروٹ بدل لی ہے، مگر ہمارے تعلیمی نظام کی نیند ابھی نہیں ٹوٹی۔ جس رفتار سے مصنوعی ذہانت روزگار، معیشت...
-
سیاسی دنیا اور تحقیقی دنیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شروع ہی میں عرض کیا جاتا ہے کہ سیاست دان کا حقیقی معنی...
-
معروف سائنسدان آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ مسائل کا حل وہی تلاش کرتے ہیں جو مسلسل سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔ اسی...
-
ہسپتال کے سرد خانے سے برآمد ہونے والی لاشیں محض جسم نہیں ہوتیں، یہ اس معاشرتی شکست کے دستخط ہوتے ہیں جنہیں...
-
پچھلے چند ہفتوں میں امریکہ اور عالمی منظر نامےپر کچھ ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جن کے اثرات صرف امریکی سرزمین...