(گزشتہ سے پیوستہ)
لاہور کے وہ قدیم گرجا گھر، (چرچ) اور چیپل جو گوروں نے تعمیر کئے تھے ان کا فن تعمیر انتہائی خوبصورت اور تاریخی ورثہ ہے مگر جو چرچ قیام پاکستان کے بعد لاہور میں تعمیر کئےگئے ان میں سے کسی ایک میں بھی کوئی تعمیراتی حسن نہیں تمام قدیم گرجا گھروں کا طرز تعمیر رومن، گوتھک، اور کچھ کا آپس میں بہت ملتا ہے۔ لاہور میں تمام قدیم چرچ اندر سے انتہائی خوبصورت اور لال اینٹ سے تعمیر شدہ ہیں پھر آپ دیکھیں کچھ بعض چرچ سوبرس قدیم ہونے کے باوجود آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں لاہور میں مسیحت کی تبلیغ کے لئے تین افراد اکبر بادشاہ کے زمانے میں آئے تھے ان کے نام یہ تھے عمانوایل پینرو، فادر جیروم زیویئر اور برادر بینڈکٹ ڈے گوس،فادر تھامس نے ہندوستان کو سونے کی چڑا کہا تھا۔ لاہور میں مختلف مقامات کے بارے میں یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پہلا چرچ وہاں قائم ہوا مگر ان اولین گرجا گھروں کا اب کوئی نام ونشان نہیں بہت کم لاہوریے اور راوینز کو اس بات کا علم ہو گا کہ گورنمنٹ کالج (اب یونیورسٹی ) میں بخاری آڈیٹوریم اور کبھی ملک کی مشہورکنٹین اور پرنسپل کے گھر کے قریب جو انتہائی خوبورت فن تعمیر کی عمارت ہے جسے جمنیزیم کہا جاتا ہے اور اسکی تعمیر کا سال 1858ء ہے یہ ایک رومن طرز کی انتہائی خوبصورت عمارت ہے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پر بھی کبھی ایک گرجا گھر تھا یا یہ عمارت گرجا گھر تھی جو فادر کیفرل نے تعمیر کرائی تھی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کبھی یہ پھانسی گھاٹ بھی رہی ہے ہم جب گونمنٹ کالج لاہور میں زیر تعلیم تھے تو گورنمنٹ کالج کے تین ڈائریکٹرز فزیکل ایجوکیشن لطیف بٹ مرحوم چودھری شریف مرحوم اور چودھری شوکت یہاں پر لڑکوں کو جمناسٹک کرایا کرتے تھے اور ہم خود بھی اکثر وہاں جاکر جمناسٹک دیکھا کرتے تھے کیا خوبصورت زمانہ تھا ہمارے زمانہ طالب علمی میں یہ آواز بھی اٹھائی گئی کہ اس جمنیزیم کو گرا دیا جائے چونکہ یہ پھانسی گھاٹ ہے پھر اس تاریخی عمارت کو محفوظ کر لیا گیا ۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس قدیم اور خوبصورت عمارت کی حالت بڑی مخدوش ہو گئی تھی آج کل یہ عمارت سپورٹس سائنسز اور ڈائریکٹر سپورٹس کا شعبہ ہے آج سےصرف چند برس قبل لاہور کے ہر کالج میں ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ہوا کرتے تھے جو بڑی باقاعدگی کے اسٹوڈنٹس کو مختلف کھیلوں کے لئے تیار کرتےتھے لاہورمیں کبھی ایک فزیکل ایجوکیشن کالج لڑکوں کے لئے دوسرا فزیکل ایجوکیشن لڑکیوں کے لئے ہوا کرتے تھے کبھی انارکلی کا مقبرہ اور ٹیلی گراف کا آفس بھی چرچ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں، خیر ہم پچھلے ہفتے بات کر رہے تھے سینٹ جانز چیپل و ہوسٹل کی اس ہوسٹل کا قدیم نام تھا ڈی ،وی نٹی اسکول (مدرسہ البنیات )یہ چیپل یا ہوسٹل مہاسنگھ کے باغ میں واقع ہے 1860میں ایک مشنری سمی ٹی۔ وی فریچ نے جو چرچ مشنری سوسائٹی کے ممبر تھے انہوں نے مہاسنگھ کے بیٹے سوایا سنگھ سے خرید لیا تھا 1870ء اور اس کے کئی سال بعد تک یہ علاقہ بڑا پررونق رہا پھر اس کے کچھ حصے فروخت کر دیئے اور کچھ پر لوگوں نے مکانات بنا لئے اور پھر دو سینما گھر ناز اور نگینہ بھی تعمیر ہو گئے۔اس علاقے کی اصل شکل وصورت وہ نہ رہی بلکہ آج پچاس /ساٹھ برس قبل بھی یہ علاقہ بڑا خوبورت تھا ۔
کبھی آ پ کو لاہور کے قدیم گرجا گھروں کے بارے میں مزید دلچسپ باتیں بتائیں گے ایک ایسا چرچ بھی ہے جس میں بشپ وفن ہے اور ایک چرچ میں ایک لڑکی کے مجسمے کے مرنے کے بعد بھی بال اور ناخن بڑھتے رہے ۔ سینٹ جانز چیپل میں آج بھی جو فرنیچر اور پادری صاحبان کےبیٹھنے کےلئے دو میز کرسیاں آج بھی 1870ء کی ہیں اور ان کی ڈیزائنگ بڑی خوبصورت ہے اور پھر لکڑی پر کاروینگ کا کام جو پادری صاحب کے خطاب کرنے والی جگہ پر ہے دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بہرحال اس چیپل کے ساتھ کبھی اساتذہ اور مسیحی طالب علموں کے کوارٹرز اور پرنسپل کی ایک وسیع رہائش گاہ بھی ہوتی تھی اصل لاہور اب آہستہ آہستہ نہیں بلکہ بہت تیزی کے ساتھ مٹتا جا رہا ہے اور آنے و الے دس برسوں میں اس پورے لاہور کا نقشہ بھی بدل چکا ہوگا۔
لیں جناب ہم کئی برس بعدآج ایک ایسی جگہ پر گئے جو انتہا ئی تاریخی اور کمال کی جگہ ہے بلکہ لاہور کے بہت ہی کم لوگوں نے اس کو دیکھا ہوگا کیونکہ یہاں پر عام لوگوں کو سیکورٹی کے نقطہ نظر سے جانے کی اجازت نہیں۔ یہ ہے لاہور کا پہلا پاور ہائوس جہاں سے لاہور میں ریلوے کےتمام نظام،رہائش گاہوں، اسٹیشنوں، ریلوے کے اسپتالوں اور گورنر ہائوس کو ڈی سی بجلی ملا کرتی تھی بجلی تو اب بھی یہاں سے جاتی ہے مگر اب بہت کم علاقوں میں اس پاور ہائوس سے جاتی ہے لاہور میں جب کیرج شاپ کا آغاز 1908میں ہوا تو اس کےساتھ ہی یہاں پر ڈی سی کرنٹ (ڈائریکٹ کرنٹ جس میں ایک مثبت اور ایک منفی کرنٹ ہوتا ہے) کے لئے بڑی بڑی ٹربائین اور دیگر بجلی کے آلات لگائے گئے تھے یہ پاور ہائوس 1911ء میں مکمل ہو گیا تھا یہ پاور ہائوس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے ہم نے گزشتہ دنوں یہ خوبصورت عمارت دیکھی ،اس پاور ہائوس میں شروع میں پتھر کے کوئلے سے بوائلرز میں سٹیم پیدا کرکے بجلی کی ٹربائین کو چلایا جاتا تھا۔
اس پاور ہائوس کی سب سے خوبصورت وہ چمنی ہے جس کی بلندی 225فٹ ہے اور یہ چمنی بالکل ولایت کے کسی قدیم شہر کی لگتی ہے اس چمنی کے کم از کم 100فٹ پر اس کی تعمیر کردہ تاریخ 1911ء لکھی ہوئی ہے ایک سو14برس سے یہ چمنی ایسی کھڑی ہے حالانکہ اس دوران لاہور میں کئی زلزلہ آئے مجال ہے کہ اس بلند چمنی میں کوئی دراڑ تک یا اس کی کوئی اینٹ تک گری ہو یہ لاہور کی سب سے بلند چمنی ہے جس سے دھواں اور گندی ہوا باہر آتی تھی اس چمنی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے یہ ابھی تعمیر کی گئی ہو بڑی اینٹ اور درمیانی اینٹ کی بنی ہوئی ہے کیا خوبصورت چمنی ہے۔(جاری ہے )
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)
مزید خبریں
-
ایران امریکہ جنگ دوبارہ زور شور سے شروع ہوچکی ہے۔دونوں نے ایک دوسرے پر مفاہمتی یاداشت سے انحراف کے الزامات...
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی متحرک قیادت نے پنجاب میں جس اندازسے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے اس نے عورت کی...
-
کم و بیش ایک صدی قبل کا واقعہ ہے۔امروہہ کا عبدالقدیر ایک انگریز سیاح کے ہمراہ سرینگر آیا۔26جون 1931ءکو مسجد...
-
دنیا نے کروٹ بدل لی ہے، مگر ہمارے تعلیمی نظام کی نیند ابھی نہیں ٹوٹی۔ جس رفتار سے مصنوعی ذہانت روزگار، معیشت...
-
سیاسی دنیا اور تحقیقی دنیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ شروع ہی میں عرض کیا جاتا ہے کہ سیاست دان کا حقیقی معنی...
-
معروف سائنسدان آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ مسائل کا حل وہی تلاش کرتے ہیں جو مسلسل سوالات اٹھاتے رہتے ہیں۔ اسی...
-
ہسپتال کے سرد خانے سے برآمد ہونے والی لاشیں محض جسم نہیں ہوتیں، یہ اس معاشرتی شکست کے دستخط ہوتے ہیں جنہیں...
-
پچھلے چند ہفتوں میں امریکہ اور عالمی منظر نامےپر کچھ ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جن کے اثرات صرف امریکی سرزمین...