حساس آئینی معاملات کو چھیڑنے کا یہ وقت نہیں !

شرمیلا فاروقی
31 مارچ ، 2024
گزشتہ دنوں میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے یہ خبریں چلائی گئیں کہ آئی ایم ایف نے یہ تجویز دی ہے کہ پاکستان کے قومی مالیاتی کمیشن ( این ایف سی ) ایوارڈ کا فارمولہ تبدیل کر دیا جائے اور اس ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مالیاتی وسائل میں ملنے والا حصہ کم کر دیا جائے ۔ ان خبروں میں ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت نے آئی ایم ایف کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ این ایف سی کے حوالے سے کوئی خلاف آئین تجویز منظور نہیں کی جائے گی اور صوبوں کا حصہ کم نہیں کیا جائے گا لیکن ذرائع کے حوالے سے خبر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این ایف سی کے اخراجات میں وفاق اور صوبے مل کر حکمت عملی بنا سکتے ہیں ۔ حکمت عملی یہ ہو سکتی ہے کہ بجلی کے شعبے میں ہونے والے نقصانات ، سکیورٹی اخراجات اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اخراجات وفاق اور صوبے مل کر پورے کر سکتے ہیں ۔ چونکہ یہ خبریں ذرائع کے حوالے سے چلائی گئی ہیں ۔ لہٰذا وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آئی ایم ایف نے ایسی کوئی تجویز دی ہے یا نہیں اور ان خبروں میں وفاقی حکومت کا جو موقف بیان کیا گیا ہے ، وہ بھی درست ہے یا نہیں لیکن اس امر سے انکار نہیںکیا جا سکتاکہ پاکستان کے بعض غیر جمہوری اور مرکزیت پسند حلقوں کی یہ پرانی خواہش ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کو رول بیک کر دیا جائے اور اس کے بعد 18 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کر دیا جائے ۔ یہ حلقے پہلے بھی کئی بار ایسی تجویز دے چکے ہیں ، جسے اب آئی ایم ایف کی تجویز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ ان حلقوں کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ طے شدہ اور حساس آئینی معاملات کو چھیڑنے سے وفاق پاکستان کی یکجہتی کو کیا نقصانات ہو سکتے ہیں ۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ 7 ویں این ایف سی ایوارڈ میں وفاق اور صوبوں کو اپنے مالیاتی وسائل ( revenue sources ) بڑھانے کا جو ہدف دیا گیا تھا ، وہ ہدف وفاق نے حاصل نہیں کیا جبکہ صوبوں نے اس ہدف سے بھی زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ اس وقت یہ ہدف مقرر کیا گیا تھا کہ جی ڈی پی سے ٹیکس کا تناسب ( tax to gdp ratio) 9 فیصد سے بڑھا کرکا 15 فیصد کیا جائے گا ۔ وفاقی حکومت گزشتہ کئی سال سے 9 فیصد سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے جبکہ صوبے 10 فیصد سے بھی زیادہ آگے چلے گئے ہیں ۔ 2012 سے 2023 ء تک صوبے اپنے ریونیو میں سالانہ 19.3 فیصد تک اضافہ کر رہے ہیں جبکہ وفاق سالانہ 12.8 فیصد تک اضافہ کر رہا ہے ۔ ایف بی آر کے مقابلے میں صوبوں کے ٹیکس وصول کرنے والے اداروں کی کارکردگی بہت زیادہ اچھی ہے ۔ سندھ تو اس حوالے سے دیگر صوبوں پر بھی سبقت حاصل کر گیا ہے ۔ 2009 ء میں صوبوں کو خدمات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی ) کی وصولی کا اختیار دیا گیاتھا ، جس کے بعد سندھ نے سندھ ریونیو بورڈ ' ( ایس آر بی ) کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا ۔ ایس آر بی کی کارکردگی نے دنیا کو یہ تسلیم کرا دیا ہے کہ صوبے وفاق کے مقابلے میں بہتر طور پر ٹیکسوں کی وصولی کر سکتے ہیں ۔ 2009 ء سے پہلے خدمات پر جی ایس ٹی کی مد میں سندھ کو وفاق سے صرف 25 ارب روپے ملتے تھے ۔سندھ نے خود یہ ٹیکس وصول کرنا شروع کیا تو ہر سال اس کی وصولی کے ہدف میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔ رواں مالی سال 2023-24 ء میں سندھ نے اس مد میں 235 ارب روپے وصولی کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ اس ہدف سے بھی زیادہ وصولی کا امکان ہے ۔ اعدا د و شمار ایف بی آر کی نااہلی اور موثر ٹیکس ریفارمز کے نفاذ میں وفاقی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
صوبوں پر اضافی اخراجات کا الزام بھی درست نہیں ہے ۔ وفاق کے اخراجات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔2011 ء سے اب تک پنشن اور ریٹائرمنٹ پر کی جانے والی ادائیگیوں کی مد میں وفاق کے اخراجات میں 7 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ ملٹری پنشن میں 563 ارب روپے سالانہ اور سول پنشن میں 128 ارب روپے سالانہ اضافہ ہو رہا ہے ۔ وفاق کی انتظامی اور لیجسلیٹو برانچز کے اخراجات اور کرنٹ اکائونٹ اخراجات میں 8 گنا اضافہ ہو ا ہے ۔ دیگر شعبوں کے اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ اب مرکزیت پسند حلقے صوبوں کے حصوں پر نظریں گاڑے ہوئے ہیں ، جو پہلے ہی وسائل کی کمی کا شکار ہیں کیونکہ 18 ویں آئینی ترمیم کے بعد بہت سے امور وفاق سے صوبوں کو منتقل ہوئے ہیں اور ان امور کو چلانےکیلئے صوبوں کو وسائل کی ضرورت ہے ۔
اس وقت پاکستان شدید معاشی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہے ۔ ایسے حالات میں طے شدہ اور حساس آئینی معاملات کو چھیڑنا کسی بھی طرح وفاق پاکستان کیلئےسود مند نہیں ۔ خصوصاً این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی یا این ایف سی ایوارڈ کے قابل تقسیم پول میں کمی یا 18 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنا جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے ۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ صوبوں کے حصے میں کٹوتی کی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے ایسی ٹیکس ریفارمز کرے ، جن سے وفاقی محصولاتی وسائل میں اضافہ ہو ۔ اسکے علاوہ وفاق اپنے اخراجات کم کرے ۔ 18 ویں آئینی ترمیم کے تحت جو امور وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں ، وفاق ان امور سے متعلق وزارتیں اور ادارے ختم کرے ۔ مثلا ًتعلیم ، صحت اور دیگر امور صوبوں کو منتقل ہو گئے ہیں ۔ وفاقی سطح پر یہ وزارتیں ختم ہونی چاہئیں ۔ پنشن اور ریٹائرمنٹ پر کی جانے والی ادائیگیوں کے اخراجات میں اضافے سے نمٹنے کیلئے ایسے اقدامات کرے ، جیسے سندھ اور دیگر صوبوں نے کئے ہیں ۔ وفاق پاکستان کی مضبوطی کیلئے ضروری ہے کہ صوبوں کو مزید مالیاتی طور پر مضبوط اور خودمختار بنایا جائے ۔ ٹیکسوں کی وصولی کے حوالے سے صوبوں کی کارکردگی وفاق سے بہتر ہے ۔ مزید ٹیکس جنریشن کیلئےصوبوں کو ترغیبات دی جائیں کیونکہ مسئلہ مالیاتی وسائل میں صوبوں کا حصہ نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ناکام پالیسیاں ہیں ۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)