پچھلے ہفتے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے لندن میں میڈیا کو بتایا کہ پاکستانی کاروباری طبقہ ہندوستان سے تجارت کی بحالی چاہتا ہے اور پاکستان ہندوستان سے تجارت کھولنے کے متعلق جائزہ لے رہا ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم اپنے ہمسائے تبدیل نہیں کر سکتے۔ان کا یہ بیان ایسے وقت آیا جب نئی حکومت کو بنے بمشکل دو ہفتے ہوئے جس سے لگتا ہے کہ وہ حکومت میں آنے سے پہلے ہی اس کا اعادہ کر چکے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تجارتی تعلقات ماضی میں پلوامہ کے جعلی اور جھوٹے واقعے کے بعد خراب ہوئے جب ہندوستان نے پاکستان سے "موسٹ فیورٹ نیشن" کی حیثیت واپس لے لی تھی، پھر 5 اگست 2019 کو جب ہندوستان نے شملہ معاہدے کی بنیادی شق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے ہندوستان میں ضم کر لیا تو پاکستان نے تمام تجارتی تعلقات ختم کر کے سفارتی تعلقات محدود کر دیے تھے۔ دونوں ممالک کی باہمی تجارت کبھی سرحدی چپقلشوں،کبھی جنگوں اور کبھی ہندوستان کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے جھوٹے اور لغو الزامات کے باعث تنازعات کا شکار رہی ہے۔
اس سے پہلے بھی 2022 کے وسط میں میاں منشا نے ہندوستان سے تجارت کی خواہش کا میڈیا پر اظہار کیا تھا۔ وہ ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں لہذا بین الاقوامی امورِ سیاست اور ایسی تجارت کے نتیجے میں ملکی وقومی مفادات کو پہنچنے والی زک کا احاطہ نہیں کر سکتے۔انکی سوچ صرف اپنے مفاد تک ہی محدود ہے۔اس حوالے سے امریکہ اور چین میں تجارت، ان کے درمیان جغرافیائی فاصلہ اور باہمی بقا ءکو عدم خطرہ ایک مثبت پہلو ہے۔ اس کے باوجود امریکہ چینی کمپنیوں کو اپنے سٹاک ایکسچینج سے "ڈی لسٹ" اور"ہواوے کمپنی" کو سیکیورٹی قرار دے کر پابندی لگا چکا ہے۔ امریکہ اپنے قومی اثاثوں کوغیر ملکیوں کو فروخت نہیں کرتا ،چاہے بین الاقوامی قوانین کے خلاف ورزی کرنی پڑے۔ اسکی مثال ڈی پی ورلڈ ہے جسے اماراتی حکومت امریکہ میں چھ بندرگاہوں کے انتظام و انصرام کرنے والی برطانوی کمپنی سے خرید کر مشکل میں پڑ گئی۔ امریکی کانگرس کی ہاؤس کمیٹی نے62 کے مقابلے میں 2 ووٹ سے یہ معاہدہ نہ ہونے دیا۔ اپنے حواری اور دوست ملک متحدہ عربامارات پر اتنی بے اعتباری جبکہ پہلے بھی یہ ٹھیکہ برطانوی کمپنی کے پاس تھا۔ بین الاقوامی سطح پر سبکی سے بچنے کے لیے اماراتی حکومت نے بالآخر معاہدے سے دستبردار ہو کر امریکہ کمپنی کو اپنے حصص فروخت کر دیئے ۔ امریکہ سیمی کنڈکٹر درآمد کرنے کے لیے چین پر انحصار کرتا ہے جو اسے قبول نہیں، اب امریکہ ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اسی طرح روس کی یورپ کو تیل و گیس کی ترسیل مغربی ممالک کو کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ نیٹو کا مشرقی یورپ کی جانب پھیلاؤ یعنی یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت کے پس پردہ 2013 میں کرائمیہ میں دو کھرب مکعب فٹ گیس کے ذخائر اور خار کیف اور ڈونیٹسک میں تیل کے بڑے ذخائر دریافت ہونا تھے۔ روس کے ہمدرد یو کرائینی صدر وکٹر ینکو وچ نے تیل نکالنے کے اربوں ڈالر کے معاہدے بین الاقوامی کمپنیوں شیل اور شیورون سے کئے لیکن امریکہ نے اگلے ہی سال یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت اور مغربی جمہوریت کے حق میں ان کا تخت الٹا دیا جس کا مقصد مغربی ممالک کا روس پر تجارتی انحصار ختم کرنا تھا۔ اسی طرح چین کے اور ہندوستان کے سرحدی تنازعات کے باوجود تجارتی روابط کی بنیادی وجہ انہیں ایک دوسرے سے بقاء کا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔چین نے ڈبلیو ٹی او کے تحت 2001 میں ہندوستان سے تجارت شروع کی تو چین سے ہندوستان کی برآمدات 1.9 بلین ڈالر تھی جبکہ ہندوستان سے چین کو درآمدات 1.7بلین ڈالر یعنی 47: 53 کا تناسب تھا۔ آج چین سے ہندوستان کی برآمدات بڑھ کر 100 بلین ڈالر سے تجاوز کر چکیں ہیں جبکہ ہندوستان سے چین کو درآمدات کا تناسب بتدریج گھٹ کر 10 فیصد رہ گیا ہے۔ ہندوستان سے پاکستان کی تجارت ہندوستانی انتخابات سے پہلے ممکن نہیں کیونکہ "موذی" کی انتخابی سیاست کا سب سے اہم جزو پاکستان کی ہرزہ سرائی کرنا، بدلے کی آگ بھڑکانا، جھوٹے الزامات لگا کر عوام کا جنگی جنون بڑھانا ہے۔ البتہ اگر انتخابات میں کامیاب ہو کر اس نے ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیا تو ہمیں 2018 میں ہندوستان پاکستان تجارتی حجم سے اندازہ لگانا ہوگا جس میں پاکستان سے ہندوستان برآمدات صرف 1.6 ارب ڈالر تھی جبکہ ہندوستان سے پاکستان 7 ارب ڈالر کی مصنوعات درآمد کی جا رہی تھیں۔ آج اگر مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈال کر، مقبوضہ کشمیر کے ساتھ زبانی کلامی و اخلاقی طور پر کھڑے رہ کر، شملہ معاہدہ کی لاش کاندھوں پر اٹھائے، امریکی ایماء پر افغانستان و ایران سے تعلقات بگاڑ کر، سی پیک کو عملاً منجمد کر کے، چین سے تعلقات بگاڑ کر، ہم ہندوستان سے ہر صورت تجارت کا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے ارباب ِاختیار کو اپنی معیشت کی حالت کا جائزہ لینا ہو گا۔ پاکستان میں2018 سے اب تک سینکڑوں صنعتیں بند ہو چکیں ہیں ، جو چل رہی ہیں وہ واجبی سے منافع پر کیونکہ پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔بعینی ایسے ہی زراعت میں بیج، کھاد، ڈیزل ، سپرے کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے۔ زرعی مشینری ٹریکٹر وغیرہ بھی ڈالر و افراطِ زر بڑھنے سے کسان کے لیے خریدنا ممکن نہیں رہی۔ زراعت پر ہر قسم کی سبسڈی و رعایات ختم کی جا چکی ہیں۔ ایسے میں پاکستان میں سوائے چند ایک کے کوئی ایسی قابلِ ذکر چیز کی پیداوار نہیں جس سےدرآمدات کے توازن کو قائم کیا جا سکے۔یوں تجارت کا پلڑا ہمیشہ ہندوستان کی جانب جھکے گا۔ ڈبلیو ٹی او کا ممبر بننے کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلے سے لے کر آج تک ہماری غیر مستحکم معاشی پالیسیوں، سیاسی عدم استحکام، کشمیرو خارجہ پالیسی اور ڈنگ ٹپاؤ رویے کے باعث ہماری معیشت کی بنیاد و عمارت درآمدات پر قائم ہے۔ ہندوستان ہمارے ملک میں پیداواری لاگت سے بھی کم پر مال کی ڈمپنگ کر کے ہماری رہی سہی معیشت کا بیڑا غرق کر دے گا۔ وہاں سے سستی گاڑیاں، خام مال، ٹماٹر، پیاز، کپڑا، اناج ہماری پہلے سے دگرگوں معیشت اور زراعت کی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگا۔ اگر ایسا ہی ہندوستان سے تجارت کرنا ضروری ہے تو کیوں نہ وہاں سے باقی شعبوں میں بھی قابل سیاستدان، کاروباری اشخاص، عدلیہ، وکلاء، ڈاکٹر، انجینیئر، اساتذہ حتیٰ کہ حکمران بھی جنہوں نے انہی 76 سال میں ہندوستان کو دنیا کی چوتھی بڑی معیشت بنا دیا ہے درآمد کئے جائیں۔ ہندوستان سے ایسے تجارت کرنا نہ صرف کشمیری اور پاکستانی شہیدوں کے لہو سے بے وفائی ہوگی بلکہ ایسے دشمن کے ہاتھ گھر کی چابی پکڑانا ہوگی جو کبھی ہمارا پانی بند کر کے تو کبھی پانی چھوڑ کر ہم پہ آبی جارحیت کرتا ہے۔ کبھی بِنا ثبوت ہمارا نام ایف اے ٹی ایف میں ڈلوا کر سالوں گرے لسٹ میں پھنسائے رکھتا ہے ،کبھی ٹی ٹی پی، داعش، بی ایل اے جیسی تنظیموں اور کلبوشن یادو کے اعترافات کی روشنی میں پاکستان میں انتشار پھیلانے، دہشت گردی کروانے، ففتھ جنریشن وار یعنی انفو لیب جیسی وارداتوں میں ملوث ہے جبکہ ہندوستان میں مسلمان کسمپرسی میں رہ رہے ہیں اور نسل کشی کا شکار ہیں۔
اکثر ہندوستان سے تجارت کے حمایتی اس کا چین کی تجارت سے موازنہ کرتے ہیں کہ چین کے ساتھ بھی تو ہماری تجارت کا عدم توازن ہے جو چین کے حق میں ہے اور چین کابھی تو ہندوستان کے ساتھ باڈر کا تنازعہ ہے۔ چین اور ہندوستان کے باڈر تنازعے میں چین کی بقاء کو کوئی خطرہ لاحق نہیں اور یہ تجارت عملاً یک طرفہ چین کے حق میں ہے۔ اس کے برعکس چین اور پاکستان کا کوئی ایسا تنازعہ نہیں ۔ البتہ ہندوستان سے نہ صرف پاکستان کی بقاء کو خطرہ ہے بلکہ ہندوستان متواتر پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے۔ ہندوستان سے تجارت کا آغاز کرنا 5 اگست 2019 کے فیصلے کو من و عن تسلیم کرنا، شملہ معاہدے کی ہندوستان کی خلاف ورزی کو قبول کرنا، پاکستان کی بقاء کے دشمن اور دہشت گردی میں ملوث ہندوستان اور را کے آگے عملاً سرنڈر کرنا ہوگا۔
؎ فیضِ فطرت نے تجھے دیدۂ شاہیں بخشا
جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش
whatsapp: 0313-8546140
مزید خبریں
-
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہے لیکن اس بجٹ کا سب سے...
-
کوئی بھی حالت نہ تھی پُوری طرحبے یقینی کے سبب تھے لوگ تنگکشمکش جاری تھی امن و جنگ میں امن تھا کل تک نہ تھی دنیا...
-
جین زی……اقبال خورشیدجین زی آج کل کیا پڑھ رہی ہے؟ میں نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔اس نے مشکوک انداز میں مجھے دیکھا:...
-
تاریخ میں چین وہ واحد قوم ہے جو کئی دفعہ زوال پذیر ہونے کے باوجود نئے سرے سے اپنی ذہانت اور توانائی کو استعمال...
-
آپ بھی بجاطور پر سمجھ گئے ہونگے کہ کس بڈھے کھوسٹ سے آپ کا پالا پڑا ہے کہ جب بھی اس سے آپ کی دانستہ یا...
-
سری لنکا کے مسلمانوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔ سری لنکا میں 10سے 12فیصد مسلمان ہیں، 70فیصد بدھسٹ ہیں اور 8 فیصد دیگر...
-
پی ٹی آئی میں دائرے کا ایک دلچسپ سفرچل رہا ہے۔نمبر نمبر سے ایک انقلابی آتا ہے، دائرے کا چکر کاٹتا ہے اور گھر...
-
انتظاری اور بے قراری ہر وقت کانوں میں گونجنے والے امریکی صدر چاہتے تھے کہ ایران سے ان کا سمجھوتہ ان کی سال گرہ...