پنجاب اسبملی ، 627ارب سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور ، اپوزیشن کا شور شرابہ

31 مارچ ، 2024

لاہور(اپنے نامہ نگار سے،خصوصی نمائندہ) پنجاب اسمبلی نے 617ارب سے زائد کا ضمنی بجٹ منظور کر لیا۔اپوزیشن کی تحاریک مسترد کردی گئیں۔ بجٹ منظوری کے دوران اپوزیشن شور شرابہ کرتی رہی۔وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے اسمبلی ملازمین کوایک ماہ کی بنیادی تنخواہ کے تناسب سے اعزازیہ دینے کا اعلان کر دیا۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس میں سالانہ بجٹ اور مطالبات زر پر ووٹنگ اور بحث کا آغاز ہو ا ۔ اجلاس میں ضمنی بجٹ کی مد میں لینڈ ریو نیو کے 18کروڑ 20لاکھ42ہزار روپے، صوبائی ایکسائز کے 47 کروڑ76لاکھ40ہزار روپے، جنگلات کیلئے 71 لاکھ 69ہزار روپے، دیگر ٹیکسز اور ڈیوٹیز 3 کروڑ 75 لاکھ 99 ہزار ، اریگییشن اینڈ لینڈ ریکلمیشن کے 5ارب 92 کروڑ 25لاکھ 20ہزار،ایڈ منسٹریشن آف جسٹس 2ارب9کروڑ32لاکھ28ہزار روپے، جیل اینڈ کنویکٹ سیٹلمنٹ کے 2ارب 32 کروڑ 51 لاکھ 29ہزار،پولیس کیلئے 16ارب 8کروڑ 35 لاکھ 33ہزار روپے، سول ڈیفنس 3 کروڑ 22 لاکھ 12 ہزار،ریاستی خریداری برائے غلہ و چینی کیلئے2 کھرب 8 ارب 24 کروڑ 54 لاکھ 51ہزار روپے،روڈ اینڈ برجز کے 1کھرب1ارب 64 کروڑ 18 لاکھ 86ہزار روپے ودیگرمحکموں کے مطالبات زر کی منظوری دی گئی ۔ضمنی بجٹ کے لئے اپوزیشن کی جانب سے کٹوتی کی پانچ تحاریک جمع کرائی گئی تھیں جن میں سے صرف تین ایوان میں زیر بحث آ سکیں بقیہ دو گلوٹین کے قانون کا نفاذ کر کے نمٹا دی گئیں۔ اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچرنےکہا کہ ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ ضمنی بجٹ کا آڈٹ کروایا جائے۔ اپوزیشن رکن علی اکبر نے کہا کہ نگران حکومت کے اخراجات غیر قانونی ہیں جسے منظور نہیں کریں گے۔لیگی رکن راجہ شوکت بھٹی کےبانی پی ٹی آئی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں شور شرابا کیا گیا ، اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور نعرے بازی شروع کردی ۔