باہمی افہام و تفہیم بڑھا کر جموں وکشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کاحل ممکن

31 مارچ ، 2024

اسلام آباد (فاروق اقدس/ تجزیاتی جائزہ) باہمی افہام و تفہیم بڑھا کر جموں وکشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کا حل ممکن ،اسلام آباد اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کےافطار ڈنر ،دعوت کے باوجود بھارتی سفارتکاروں کی عدم شرکت ،پاکستانی ناظمالامور نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کئی امور پر متفق ، کئی پر نہیں، ہماری کچھ مشترکہ خصوصیات بھی ہیں، پاکستان بھارت کے ساتھ اپنے دیرینہ موقف پر قائم رہتے ہوئے تنازعات ختم کرنے کیلئے تعلقات میں تسلسل کا حامی ہے اور اس مقصد کیلئے مختلف سطحوں پر رابطوں کے اعادے کیلئے اظہار بھی کرتا رہتا ہے لیکن بھارت کی جانب سے روا رکھا جانے والا طرزعمل بسااوقات اس احساس میں شدت اور مایوسی پیدا کرتا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ہمسائیگی کے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش یکطرفہ ہے اور حال ہی میں ماہ صیام میں ہونے والے سفارتی کمیونٹی کیلئے وہ افطار ڈنر اس کا حوالہ ہے جن میں پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے پیغام کی کوششوں کو بھارت کی جانب سے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی شکل میں جواب دیا۔ گزشتہ روز بھارت میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے دارالحکومت دہلی میں موجود سفارتی کمیونٹی کے اعزاز میں ایک افطار ڈنر کا اہتمام کیا جس میں سفارتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی، یہ افطار ڈنر یوم پاکستان کے حوالے سے ہونے والی تقریبات کے سلسلے میں دیا گیا تھا۔ اس افطار ڈنر کے حوالے سے بھارت میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور سعد احمد وڑائچ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی ایک ایکس پوسٹ کی وساطت سے لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت کئی امور پر متفق نہیں ہیں جن میں بعض دیرینہ تنازعات بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود ایسا نہیں ہے کہ ہم کسی بات پر بھی متفق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے محبت، اچھے کھانے سمیت دنیا میں کسی بھی چیز پر بحث کرنے اور بحث کرنے کی توانائی ہماری کچھ مشترکہ خصوصیات ہیں۔ نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکار نے یہ باتیں اس واقعہ کے تناظر میں کہیں جب گزشتہ روز جمعہ کو نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن نے یوم پاکستان کی تقریب کے حوالے سے سفارتکاروں کے اعزاز میں ایک افطار ڈنر دیا تھا۔ دعوت دیئے جانے کے باوجود بھارتی وزارت خارجہ سمیت کسی حکومتی شخصیت نے اس افطار ڈنر میں شرکت نہیں کی، جبکہ اس افطار ڈنر کا اہتمام پاکستانی ہائی کمیشن نے چار سال کے تعطل کے بعد کیا تھا۔ اپنی ایکس پوسٹ میں پاکستانی ناظم الامور کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے بانیوں نے درجنوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی کے تعلقات کا تصور کیا تھا، علاقائی امن واستحکام کے مقاصد کو باہمی افہام و تفہیم کو بڑھا کر جموں وکشمیر سمیت دیرینہ تنازعات کو حل کرکے اور مشترکہ خدشات کو دور کرکے حل کیا جاسکتا ہے۔ اسی حوالے سے دوسرا افطار ڈنر جو رواں ہفتے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں تعینات سفیروں، ہائی کمشنرز اور دیگر سفارتی شخصیات کے اعزاز میں افطار ڈنر دیا جس میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت تقریباً 70 ممالک سے زیادہ سفارتکاروں نے شرکت کی تھی اس میں بھی بھارتی ہائی کمیشن کی نمائندگی موجود نہیں تھی، دعوت موصول ہونے کے باوجود کسی بھارتی سفارت کار نے افطار ڈنر میں شرکت نہیں کی جو سفارتی آداب اور رویات کے منافی ہے۔ بھارتی سفارت کار نے نہ تو افطار ڈنر میں عدم شرکت پر معذرت کی اور نہ ہی کوئی خط بھیجا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے لندن مین ایک پریس کانفرنس کے دوران بھارت کے ساتھ تجارت دوبارہ شروع کرنے کی تجویز پر سنجیدگی سے غور کرنے کی بات کی تھی۔ یہ تجویز لندن میں مقیم پاکستانی اور بھارتی تاجروں کی جانب سے سامنے آئی تھی۔