پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جماعت اسلامی فاٹا گروپ اورق لیگ سینیٹ سےمعدوم

31 مارچ ، 2024

اسلام آباد (محمد صالح ظافر، خصوصی تجزیہ نگار) جماعت اسلامی ملک گیر جماعت ہونے کے باوجود پارلیمانی سیاست سے باہر ہوگئی ہے۔جماعت اسلامی بدستور قومی سیاست میں حصے داری کے لئے کوشاں ہے۔ فی الوقت وہ کراچی کی بلدیاتی سیاست پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان بالا سینیٹ سے چار سیاسی جماعتیں پختونخوا ملی عوامی پارٹی، جماعت اسلامی، فاٹا گروپ اور پاکستان مسلم لیگ قاف ایوان کی نصف تعدادکے لئے ارکان کے انتخاب سے پہلے معدوم ہوگئی ہیں۔ یہ گروپ طویل عرصے تک سینیٹ کا حصہ رہے اور حق نمائندگی ادا کرتےرہے پرسوں (منگل) کو ہونے والے سینیٹ کے انتخاب میں ان جماعتوں کا کوئی امیدوار حصہ نہیں لے رہا اور نہ ہی اب تک بلامقابلہ منتخب ہوئے سینیٹ کے اٹھارہ ارکان میں یہ جماعتیں اپنا وجود رکھتی ہیں۔ جماعت اسلامی ملک گیر جماعت ہونے کے باوجود پارلیمانی سیاست سے باہر ہوگئی ہے اور قومی اسمبلی سے اس کا 8فروری کے عام انتخابات میں صفایا ہوگیا تھا لائق اعتماد سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنے جمہوری اور نظریاتی تشخص کے باوجود جماعت اسلامی جس نے قومی سیاست کے ہر موڑ پر نمایاں کردارادا کرنے کی کوشش کی ہے پارلیمانی سیاست میں اپنے وجود سے محروم ہوجانا خود جماعت اسلامی کے بڑے حلقے میں تشویش کاباعث ہے جماعت کی قیادت اور شوریٰ جلدہی اس سیاسی پہلو پر غور و خوض کرکے اپنی حکمت عملی میں ردوبدل کرےگی ہر چند گزشتہ ماہ کے انتخابات میں مایوس کن نتائج کے پیش نظر جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے استعفیٰ دیدیا تھا شوریٰ نے انتخابات میں روا رکھی گئی بے ضابطگیوں کے پیش نظر رد کردیا تھا جماعت اسلامی بدستور قومی سیاست میں حصے داری کے لئے کوشاں ہے۔ فی الوقت وہ کراچی کی بلدیاتی سیاست پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ سراج الحق کے بارے میں خیال ہے کہ انہیں جلد یا بدیر امارت کا منصب خالی کرنا پڑے گا۔ پاکستان مسلم لیگ قاف جس کی قیادت سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین کررہے ہیں وفاقی اور پنجاب کابینہ میں اس کی نمائندگی اور دونوں اسمبلیوں میں اس کے ارکان موجودہیں اس کے باوجود سینیٹ میں وہ بھی طویل عرصے بعد بے نشان ہوجائے گی مسلم لیگ قاف سے وابستہ رکن جو آئندہ تین سال کے لئے سینیٹ میں رہیں گے جماعت کے بٹوارے کے بعد چوہدری پرویز الہیٰ سے وابستہ ہوگئے ہیں جو تحریک انصاف کو پیارے ہوچکے ہیں متذکرہ رکن کو پاکستان مسلم لیگ قاف اپنی صفوں میں شمار نہیں کرتی۔ بلوچستان کے قوم پرست پختون رہنما محمود خان اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کم و بیش ربع صدی بعد سینیٹ سے اپنا وجود کھو چکی ہے محمود اچکزئی کو حال ہی میں اس وقت قومی منظر پر جگہ ملی تھی جب انہوں نے آصف علی زرداری کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑا تھا اور ہار گئے تھے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کی خیبرپختونخوا میں ضم ہونے کے بعد سینیٹ میں الگ اکائی کی حیثیت ختم ہوگئی جس سے فاٹا گروپ چھ سال کی مدت میں اپنے انجام کو پہنچ گیاہے اس اکائی کے ختم ہونے سے سینیٹ کے مجموعی ارکان کی تعداد ایک سو سے کم ہو کر چھیانوے رہ گئی ہے۔