اسلام آباد (فخر درانی) جسٹس (ر) تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کی تشکیل نے ایک بار پھر سوالات اٹھادئیے ہیں کہ ماضی میں کتنے کمیشن بنائے گئے اور ان کی رپورٹس کا کیا ہوا؟ ماضی کے کمیشنوں کی سفارشات پر عمل ہوا یا نہیں؟ ذمہ دار ٹھہرائے جانے والوں کا کیا ہوا؟ ماضی کے عدالتی کمیشنوں کی کتنی رپورٹس منظر عام پر آئیں؟ کتنے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹس کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا؟ جب بھی حکومت کی جانب سے نیا عدالتی/انکوائری کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو یہ سوالات اٹھتے ہیں۔ حمود الرحمان کمیشن سے لے کر بینظیر بھٹو کا قتل، خروٹ آباد کا واقعہ، 2 مئی کو ایبٹ آباد کا واقعہ، لاپتہ افراد، میمو گیٹ، مہران گیٹ، چینی گندم کا بحران، انتخابی دھاندلی، براڈ شیٹ اسکینڈل، سلیم شہزاد قتل، گوجرہ واقعہ اور سیالکوٹ جیسے واقعات پاکستان میں عدالتی یا انکوائری کمیشنوں کی تشکیل کا باعث بنے تاہم ان کمیشنوں کی صرف چند رپورٹس منظر عام پر لائی گئیں۔ حکومتوں نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹس کو ان وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے دینے سے انکار کر دیا کہ ان رپورٹس کی اشاعت سے امن عامہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اقتدار میں آنے والی ہر سیاسی جماعت نے مختلف مسائل پر کئی عدالتی کمیشن بنائے۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں عمران خان کی زیر قیادت حکومت نے مختلف معاملات کی تحقیقات کے لیے کئی عدالتی/انکوائری کمیشن بنائے۔ پی ٹی آئی کی زیرقیادت حکومت نے چینی/گندم کے بحران، ادویات کی قیمتوں میں اضافے، قرض معافی، براڈ شیٹ اسکینڈل، ساہیوال واقعہ وغیرہ کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنائے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی حکومتوں نے بھی کئی کمیشن بنائے۔ دی نیوز کے سینئر نمائندے عمر چیمہ نے معلومات کے حق کے قانون کے تحت معلومات کی درخواست دائر کی اور پنجاب حکومت سے 2008 سے 2017 تک بنائے گئے 14 کمیشنوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ عمر چیمہ کی جنوری 2017 میں شائع ہونے والی خبر سے پتہ چلتا ہے کہ 2008 کے بعد سے قائم ہونے والے کمیشنوں کے بارے میں پنجاب حکومت کی فراہم کردہ معلومات کا تجزیہ سفارشات پر عمل درآمد کے معاملے پر برسراقتدار لوگوں کی غیر سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر یہ کہتے ہوئے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا کہ کمیشن کی رپورٹوں کو عام کرنے سے امن عامہ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ دی نیوز کی جانب سے اس اپیل کنندہ باڈی کے سامنے شکایت درج کرنے کے بعد جب پنجاب انفارمیشن کمیشن کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تو صوبائی حکومت نے سفارشات پر عمل درآمد کے معاملے پر ایک نیا جواب دیا۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے آٹھ کمیشنوں کی رپورٹس شیئر کرنے سے انکار کر دیا۔ عدم انکشاف کے دفاع میں جو وجوہات بیان کی گئی ہیں وہ خود ایسے کمیشن بنانے کے مقصد کو ناکام بنا دیتی ہیں۔ دی نیوز رپورٹ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کس طرح سرکاری محکمے جوڈیشل/انکوائری کمیشن کی رپورٹوں کی رازداری کا جواز پیش کرتے ہیں۔ رپورٹ میں صوبائی حکومت کے جواب کا حوالہ دیا گیا کہ کمیشن کی رپورٹس کو منظر عام پر کیوں نہیں لایا جاتا۔ ’۔۔۔ لہٰذا پبلک انفارمیشن آفیسر کے طور پر زیر دستخطی رائے ہے کہ، ٹریبونل کی رپورٹ کو عوامی دستاویز نہیں بنایا جاتا، ابھی تک کیس قانون کے مطابق، اس طرح کی رپورٹیں عدالتوں کے فیصلے نہیں ہیں، کیونکہ اگرچہ ٹربیونلز کے پاس سول عدالتوں کے محدود اختیارات ہوتے ہیں، انہیں مکمل طور پر سول عدالتوں کے طور پر شمار نہیں کیا جانا چاہئے اور ان کی رپورٹیں محض سفارشات ہیں اور حکومت پر پابند نہیں ہیں‘۔ راجہ بازار راولپنڈی میں محرم کے دوران فرقہ وارانہ تصادم کے بعد 2013 میں قائم کیے گئے کمیشن سمیت تین کمیشنوں کی قسمت کے حوالے سے محکمہ داخلہ کا جواب بھی دلچسپ تھا۔ ہائی کورٹ کے جج کی سربراہی میں انکوائری کا ٹریبونل تشکیل دیا گیا۔ تین سال گزر چکے ہیں اور کمیشن کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی جیسا کہ محکمہ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے۔
کراچی امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ چینی کمپنیاں ایران کو خفیہ اسلحہ فروخت کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں،...
نئی دہلی مودی کا مختصر دورہ امارات آج ہوگاجس میں توانائی معاہدوں پر بات چیت کا امکان ہے، دونوں ممالک کے...
اسلام آباد مالی سال 26-2025 میں حکومت سرمایہ کاری کے ہدف میں ناکام،جی ڈی پی شرح نمو 3.7 فیصد تک محدود؛ قومی بچتیں...
اسلام آباد ایف بی آر کے ان لینڈریونیو سروس کے گریڈ 20 کے افسر محمد یاسر پیرزادہ نے بطور چیف ، ایف بی آر...
کراچی ایران جنگ کے دوران چین کو امریکا پر برتری حاصل، بحران سے چین کو سفارتی، معاشی اور عسکری فائدہ ہوا، ٹرمپ...
اسلام آباد سپریم جوڈیشل کونسل پاکستان نے ادارہ جاتی احتساب اور شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے اپنے بعض...
اسلام آبادایف بی آر کو یہ اختیار دیا جائے گا کہ وہ ایسے سرکاری ملازمین کی جانچ پڑتال اور تحقیقات کر سکے جن...
اسلام آ باد کس کس کو کیاتحائف ملے؟ توشہ خانہ کا مزید ریکارڈ سامنے آگیا۔کابینہ ڈویژن نےجنوری سےمارچ دو ہزار...