چیف جسٹس فائز عیسیٰ کے استعفے کا مطالبہ سازش ، سپریم کورٹ، پاکستان بار

31 مارچ ، 2024

اسلام آباد،لاہور (جنگ رپورٹر، کورٹ رپورٹر ، جنگ نیوز) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور پاکستان بار کونسل نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے استعفے کے مطالبے کو سازش قرار قرار دیتے ہوئے اسے ایک سیاسی جماعت کی طرف سے چیف جسٹس کو بدنام کرنے مہم حصہ قرار دیتے ہوئے ان کی شخصیت پر تازہ ترین حملہ قرار دیا ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر شہزاد شوکت اور سیکرٹری سید علی عمران نے ایک مخصوص جماعت سے تعلق رکھنے والے عناصر کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے استعفیٰ کے مطالبہ کو ایک سیاسی ہتھکنڈہ اور اصل معاملہ سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں وفاقی حکومت کی جانب سے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں کی جانب سے ریاستی اداروں کے خلاف لگائے گئے سنگین الزامات، عدالتی امور میں مداخلت، ڈرانے دھمکانے اور نگرانی کرنے کے الزامات کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کرنے کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس(ر) تصدق حسین جیلانی نے بطور جج انصاف کی فراہمی کیلئے انتھک خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقین سے انکوائری کمیشن کے نتائج کا انتظار کرنے اور عدالتی نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ریازت علی سحر اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی فاروق حامد نائیک نے ایک سیاسی جماعت طرف سے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے استعفے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس کی سختی سے مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسے ایک سیاسی جماعت کی طرف سے چیف جسٹس کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی مہم قرار دیا۔ پاکستان بار کونسل کے رہنمائوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت چیف جسٹس پاکستان کو نشانہ بنا کر عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ کورٹ رپورٹر کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے6 ججز کے خط لکھنے کا معاملہ، پنجاب بار کونسل نے سابق چیف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی کی بطور سربراہ انکوائری کمیشن نامزدگی کو خوش آئند قرار دیدیا۔پنجاب بار کونسل نے پریس ریلیز میں کہاکہ تصدق جیلانی ایک غیر متنازعہ اور دیانتدار جج کے طور پر جانے جاتے ہیں، امید ہےوہ معاملے کی انکوائری غیر جانبداری سے مکمل کرینگے،تصدق حسین جیلانی کی جانب سے دی جانیوالی تجویز سے عدلیہ کی آزادی اور وقار میں اضافہ ہوگا۔