چین بھی جانتا ہے کون سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں،احسن اقبال

31 مارچ ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’جرگہ‘‘ میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ چین بھی جانتا ہے کہ کون لوگ ہیں جو سی پیک کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں،تحریک انصاف نے بھی عملاً نتائج قبول کر لئے ہیں،مولانا فضل الرحمٰن کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ان کا احتجاج کرنا حق ہے لیکن ان کا احتجاج اس نوعیت کا نہیں ہوگا جس طرح پی ٹی آئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔الیکشن ہوگیا ہے 2029 تک سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ایک ساتھ نہ چلیں ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ نہ چل سکیں پیپلز پارٹی تجربہ کار جماعت ہے وہ جانتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے،وفاق اگر قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا تو جو صوبوں کو وسائل دے رہا ہے اگر وفاق ہی قرض کے بوجھ تلے دب جائے گا تو صوبوں کو کہاں سے پیسے ملیں گے،تحریک انصاف نے بھی عملاً نتائج قبول کر لئے ہیں اگر ان کے پاس صلاحیت ہے تو اپنے صوبے کو بہترین طریقے سے چلائیں،افغانستان میں کچھ گروپس ہندوستان کی پشت پناہی کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں ۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ ہم بہت رنجیدہ ہیں چین کے جتنے افراد پاکستان کے منصوبوں میں کام کر رہے ہیں وہ ہمارے مہمان ہیں اور حکومت اپنے شہریوں کو جو سیکیورٹی دیتی ہے اس سے کئی گنا زیادہ کوشش کرتی ہے کہ ہم اپنے چینی مہمانوں کو سیکیورٹی فراہم کریں۔ سی پیک اس خطے جیو پالیٹکس اور اکنامکس کو بہت بڑے انداز میں متاثر کرے گا اس لیے شروع دن سے ہمسایہ ملک اور عالمی لابیز نے اس کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی ہیں اور کی جارہی ہیں ایک انٹیلی جنس آفیسر ہمسائے ملک کا پکڑا بھی گیا تھا۔چین کے وزارت خارجہ نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ ہم کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ سی پیک کو متاثر کرے۔ ہم جانتے ہیں کہ سی پیک کے دشمن اس کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے اور کہیں ادھر اُدھر ایک دو واقعات ہوتے رہیں گے چونکہ یہ ہائی ویلیو پراجیکٹ ہے اس سے ہمارے اور چین کے درمیان تعلقات میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔چین بھی جانتا ہے کہ کون لوگ ہیں جو اس کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ہمسائے ملک نے اس ارادہ کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ سی پیک کو روکنے کے لیے اس قسم کی کارروائیاں کریں گے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ افغانستان میں کچھ گروپس ہندوستان کی پشت پناہی کے ساتھ کارروائیاں کر رہے ہیں اور وہ اس کھیل کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ ہماری حکومت نے افغان حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔سی پیک کا پہلا فیز2014-2020 تک تھا جس کا بنیادی فوکس انفراسٹرکچر اور توانائی کے انفراسٹرکچر پر زور تھا انفارمیشن ٹیکنالوجی پرزور تھا یہ تقریباً ہم 2018 تک پورے کر گئے تھے بدقسمتی سے جب ہماری حکومت گئی تو اس منصوبے پر توجہ نہیں دی گئی اس کی وجہ سے وہ سرمایہ کار جو پاکستان آئے ہوئے تھے وہ دلبرداشتہ ہو کر دوسرے ممالک چلے گئے۔پاکستان نے تیس چالیس ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کھو دی ۔ احسن اقبال نے مزید کہا کہ سولہ ماہ میں ہم نے چین کا اعتماد بحال کیا۔ ایران کے ساتھ ٹرانسمیشن لائن مکمل کی پانی کے منصوبے جو مکمل ہوچکے تھے پائپنگ نہیں کی گئی تھی گوادر سٹی میں اس کو چھ ماہ میں مکمل کیا آج گوادر میں پانی کا مسئلہ نہیں ہے گوادر پورٹ کی سالانہ مینٹی ننس چار سال نہیں کی گئی ہم نے سولہ ماہ میں شروع کرایا جو اب مکمل ہوگئی ہے یہ وہ اقدامات ہیں جس سے چینی قیادت متاثر ہوئی کہ حکومت سنجیدہ ہے۔ چین کے نائب وزیراعظم نے برملا کہا کہ اب ہم فیز ٹو کے لیے تیار ہیں جس میں پانچ نئے کوریڈور شروع کریں گے۔ پہلا یہ ہے کہ کس طریقے سے پاکستان کی معیشت میں گروتھ پیدا کرسکتے ہیں اور دوسرا یہ ہے کہ ایسے منصوبے شروع کریں جس سے روزگار پیدا ہو۔ تیسرا ڈیجیٹل کو بنیاد بنا کر کیا جائے گا۔ چوتھا گرین اینرجی ہے پاکستان میں سولر اور وینڈ اینرجی کے بے شمار مواقع ہیں اس میں تعاون کریں اور پانچواں ہے کہ سی پیک کو دوسرے ممالک سے جوڑ کر کس طرح معیشت کو بڑھا سکتے ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ چین متوقع ہے ۔ چین سے ہم نے کہا ہے ایکسپورٹ سیکٹر کے ماہرین ہمیں دیں تاکہ ہم اپنا ایکسپورٹ سیکٹر ڈیولپ کرسکیں۔اگلے تین سالوں میں ہم نے ستر پچھتر ارب ڈالرز کی قرض ادائیگی کرنی ہے اگر ہم نے اپنے دم پر کرنی ہے تو بہت سے کام کرنے ہوں گے یہ ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔ دوسری ترجیح ہے ای پاکستان ڈیجیٹل ٹرانسفرمیشن جتنی جلدی کرسکیں اس میں نوجوان بہت بڑا اثاثہ ہیں۔ تیسری بات ہے کلائمٹ چینج کا پاکستان ساتویں نمبر پر متاثرہ ملک ہے ان سب چیزوں سے نمٹنے کے لیے صلاحیت پیدا کرنی ہے۔وفاق اگر قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا تو جو صوبوں کو وسائل دے رہا ہے اگر وفاق ہی قرض کے بوجھ تلے دب جائے گا تو صوبوں کو کہاں سے پیسے ملیں گے جہاں تک اٹھارہویں ترمیم کا تعلق ہے جو کچھ دیا جاچکا ہے اس میں کمی نہیں کرسکتے لیکن ایک سنجیدہ گفتگو ہونی چاہیے کہ جو کام سانجھے ہیں یا صوبوں کے ہیں اگر وفاق کر رہا تھا تو صوبوں کو اس کی ذمہ داری لینی چاہیے۔ اسی طرح جو ملک کا دفاع ہے اس سے صرف وفاقی حکومت فائدہ نہیں اٹھاتی صوبے بھی اٹھاتے ہیں اگر صوبہ یہ کہے کہ ہم صرف پولیس سے اپنا صوبہ چلاتے ہیں تو کیا وہ رینجرز استعمال نہیں کرتے فوج طلب نہیں کرتے یہ بھی ریاست کی سانجھی ذمہ داری ہے ان چیزوں پر بات کی جاسکتی ہے۔یہ درست نہیں ہے کہ نوازشریف سیاست میں دلچسپی نہیں لے رہے ہیں وہ موجودہیں اور پاکستان میں ہی موجود رہیں گے ۔کسی بھی کامیاب ملک کی کوئی ایسی مثال نہیں ہے جہاں سیاسی حکومت کو دس سال سے کم عرصہ ملا ہو اور وہ ٹیک آف کر گیا ہو ہم نے ایک ٹی ٹوئنٹی رکھی ہوئی ہے جب کہ ڈیولپمنٹ ایک ٹیسٹ میچ ہے۔ الیکشن ہوگیا ہے 2029 تک سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے اور پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ایک ساتھ نہ چلیں ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ نہ چل سکیں پیپلز پارٹی تجربہ کار جماعت ہے وہ جانتی ہے کہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کس قدر خطرناک ہوسکتا ہے اور ایسا ہوگا تو اس کے مضمرات انہیں بھی اٹھانے پڑیں گے اور میں سمجھتا ہوں انشاء اللہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔تحریک انصاف نے بھی عملاً نتائج قبول کر لیے ہیں اگر ان کے پاس صلاحیت ہے تو اپنے صوبے کو بہترین طریقے سے چلائیں۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ 2018 میں ہمیں شدید تحفظات تھے کیا ہم نے امریکہ سے کہا کہ پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کریں آئی ایم ایف سے کہا کہ پاکستان کی مدد نہ کریں ہم نے پاکستان کا مقدمہ پاکستان میں لڑا۔پہلے کہتے تھے غلامی نامنظور آج امریکہ میں پائوں پڑ رہے ہیں کہ مداخلت کریں کیا امریکہ یا آئی ایم ایف سے این آر او لینا چاہتے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کے جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کریں گے ان کا احتجاج کرنا حق ہے لیکن ان کا احتجاج اس نوعیت کا نہیں ہوگا جس طرح پی ٹی آئی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہے۔ 2018 میں جو تبدیلی لائی گئی وہ میرے نزدیک سانحہ مشرق پاکستان سے کم نہیں ہے ۔ سی پیک کا امریکہ کے براہ راست مفادات سے ٹکرائو نہیں ہے کہ چین اور امریکہ کے پاور گیم میں کوئی فرق ڈالتا ہو۔ پاکستان میں جو امریکہ کی جنگ رہی ا س سے سرمایہ کاری نہیں ہوئی ۔ چین صنعتی اقتصادی سرمایہ کاری کر رہا ہے یہ امریکہ کو کرنا چاہیے تھا ایک وفد امریکہ سے آیا میں نے کہا چائنا 46 ارب ڈالر پاکستان میں لگا رہا ہے کیا آپ ضمانت دے سکتے ہیں کہ آپ پاکستان کے لیے چار ملین ڈالر منظور کراسکتے ہیں اگر نہیں کراسکتے تو ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے ملک کے انفرااسٹرکچر کو بنانے کے لیے چین کی مدد حاصل کریں اس پر آپ کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے اس کا ان کے پاس جواب نہیں تھا۔