یورپی پارلیمنٹ میں امیگریشن و سیاسی پناہ قوانین سخت کرنے کی اصلاحات منظور

13 اپریل ، 2024

برسلز، کراچی ( حافظ اُنیب راشد ، جنگ نیوز) یورپی پارلیمنٹ نے امیگریشن اور سیاسی پناہ کے قوانین سخت کرنے کی اصلاحات منظور کر لیں،برطانوی میڈیا کے مطابق یورپی یونین کا اسائلم اینڈ مائیگریشن معاہدہ 2 سال میں نافذ العمل ہو گا،معاہدے کے تحت پناہ کی درخواستوں کو حد سے زیادہ12ہفتوں میں نمٹایا جائے گا،مسترد ہونے والے تارکینِ وطن کو فوراً اُن کے ملک واپس بھیج دیا جائے گا،معاہدے کے تحت یورپی یونین میں شامل ممالک پناہ گزینوں کی ذمے داری مشترکہ طور پر اُٹھائیں گے۔یورپین پارلیمنٹ نے یورپین یونین میں پناہ حاصل کرنے کیلئے ، یورپین یونین کے ممبر ممالک اور پناہ کے خواہشمندوں کیلئے 10مختلف نئے قوانین کے ابتدائی متن کی منظوری دے دی۔ ان نئے قوانین کے تحت باہمی یکجہتی و ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور مہاجرین کے دباؤ کے تحت، یورپی یونین کے ممبرممالک ایک دوسرے کی مدد کرنے کے لیے، دیگر رکن ممالک سے پناہ کے درخواست دہندگان یا بین الاقوامی تحفظ سے مستفید ہونے والوں کو اپنے علاقے میں منتقل کر کے، مالی مدد کر کے، یا آپریشنل اور تکنیکی مدد فراہم کر کے تعاون کریں گے۔ اس نئے قانونی مسودے کے تحت وہ معیار ( پناہ کے ڈبلن قواعد )جس کے مطابق رکن ریاست بین الاقوامی تحفظ کی درخواستوں کی جانچ کے لیے ذمہ دار ہے، انکو بھی اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ سیاسی پناہ کی درخواستوں کی جانچ پڑتال تمام یورپی سرحدوں پر زیادہ تیزی سے کی جائےگی۔ اس کے ساتھ ہی زیادہ موثر واپسی کیلئے ان کی آمد پر فنگر پرنٹ،چہرے کی شناخت سمیت تمام دستیاب ٹیکنالوجی کے ساتھ یورو ڈاک کے نام سے بہتر شناختی نظام وضع کیا جائے گا اور اس میں 6 سال کی عمر سے لیکر بڑی عمر کے مہاجرین کا ڈیٹا محفوظ کیا جائے گا۔ غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخل ہونے والے لوگوں کے لیے لازمی سیکورٹی، ان کی ذاتی کمزوریوں اور ان کی صحت کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ جبکہ رکن ممالک سیاسی پناہ کے درخواست دہندگان کی بحالی کی ذمہ داری لینے، مالی تعاون کرنے یا آپریشنل سپورٹ فراہم کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکیں گے ۔ علاوہ ازیں بحرانی حالات کے دوران بہتر ردعمل اور تیسرے ممالک میں پناہ گزینوں کی آبادکاری کے لیے نئی رضاکارانہ اسکیم بھی متعارف کرائی جا سکے گی۔ اس نئے مسودے کے تحت ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آنے والا پناہ گزین اپنے معاملات کی کلئیرنس تک، اسی ملک میں قیام کرے گا جہاں اس نے درخواست دی ہوئی ہوگی۔ اس دوران وہ کسی اور ملک میں نہیں جا سکے گا۔ علاوہ ازیں جو لوگ EU میں داخل ہونے کے لیے شرائط پر پورا نہیں اتریں گے ان کے لیے سات دن کے اندر تک کی مدت کے دوران داخلے سے پہلے کی اسکریننگ کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ ملک اپنی انٹرنل مانیٹرنگ کے ساتھ اس بات کا خیال رکھے گا کہ لوگوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہو۔