عید پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری، اسمٰعیل ہنیہ کے 3بیٹے، 2پوتے شہید

13 اپریل ، 2024

کراچی (جنگ نیوز) غزہ پر اسرائیلی کی وحشیانہ بمباری کا سلسلہ جاری ہے اور بدھ کو عیدالفطر کے موقع پر اسرائیل کی جانب سے کی گئی بمباری میں حماس کے سربراہ اسمٰعیل ہنیہ کے تین بیٹے شہید ہو گئے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق حماس میڈیا نے بتایا کہ اسمٰعیل ہنیہ کے تین بیٹے ہازم، محمد اور عامر اپنی گاڑی میں جارہے تھے کہ اس دوران غزہ کے الشاتی کیمپ میں ان کی گاڑی پر اسرائیل نے بمباری کی جس سے ان کے تینوں بیٹوں کے ساتھ ساتھ دو پوتے بھی شہید اور تین زخمی ہو گئے۔اسمٰعیل ہنیہ نے الجزیرہ ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے بیٹوں اور پوتوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ الشاتی کے مہاجرین کے کیمپ میں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مطالبات واضح ہیں اور ہم ان میں کسی قسم کی رعایت نہیں کریں گے، دشمن اگر یہ سمجھتا ہے کہ مذاکرات کے اس اہم موقع پر وہ میرے بیٹوں کو نشانہ بنا کر حماس کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا تو وہ جھوٹے فریب میں مبتلا ہے۔قطر میں رہائش پذیر حماس کے رہنما نے میرے بیٹوں کا خون ہمارے دیگر لوگوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے شہدا کے خون اور زخمیوں کی تکالیف سے ہم نے امید پیدا کی ہے، ہم نے ایک مستقبل کی کرن روشن کی ہے، ہم نے اپنے لوگوں اور قوم کے لیے آزادی کی لو جلائی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس مجرمانہ فعل کے پیچھے انتقام اور قتل و غارت گری کا جذبہ کارفرما ہے جو کسی اصول یا قانون کی پاسداری نہیں کرتا۔اسمٰعیل ہنیہ نے مزید کہا ہم نے اسرائیل کو غزہ کی سرزمین پر ہر قانون اور اصول کی خلاف ورزی کرتے دیکھا ہے، یہ بڑے پیمانے پر نسل کشی، قتل عام اور نقل مکانی کی جنگ ہے۔اسمٰعیل ہنیہ کے سب سے بڑے بیٹے عبدالسلام ہنیہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں اپنے تینوں بھائیوں کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ خدا کا کرم ہے جس نے میرے بھائیوں ہازم، عامر اور محمد کو شہادت کا منصب عطا کیا۔