اقوام متحدہ کا پاکستان میں جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی پراظہارِ تشویش

13 اپریل ، 2024

جینوا (نیوز ایجنسیاں)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے پاکستان میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کے تحفظ کے فقدان پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں اقلیتی برادری جبری شادیوں اور مذہب تبدیلی کا شکار ہیں،جینوا میں انسانی حقوق کونسل میں ماہرین کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’ہندو مذہب اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والی لڑکیاں خاص طور پر جبری مذہب تبدیلی، اغوا، اسمگلنگ، کم عمر اور جبری شادی اور جنسی تشدد کا شکار ہیں‘،جن ماہرین نے یہ بیان جاری کیا ان میں خواتین اور بچوں کی سمگلنگ سے متعلق خصوصی نمائندے سیوبھان ملالی، اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے نکولس لیورٹ ، خواتین اورلڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر کام کرنے والے گروپ کی سربراہ ڈوروتھی ایسٹراڈا ٹینک اور دیگر شامل تھے،بیان میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ’مذہبی اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی نوجوان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو مزید برداشت نہیں کیا جاسکتا ’۔ماہرین نے زور دیا کہ کم عمری اور جبری شادیوں کو مذہبی یا ثقافتی بنیادوں پر جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت جب متاثرہ لڑکی کی عمر 18 سال سے کم ہو تو اس کی رضامندی (consent) سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔