اربوں ڈالر فراڈ کیس ،ویتنامی عدالت نے تاجرکو سزائے موت سنا دی

13 اپریل ، 2024

اسلام آباد( نمائندہ جنگ )ویتنامی عدالت نے ارب پتی تاجر کو اربوں ڈالر کے فراڈ کیس میں سزائے موت سنا دی ۔واشنگٹن پوسٹ نے جمعرات کو یہ خبر دی کیمرون شہر ہو چی منہ سٹی کی ایک عدالت نے 67سالہ رئیل اسٹیٹ ٹائیکون، ٹرونگ مائی لان کو بڑے پیمانے پر غبن کے الزامات میں سزائے موت سنا دی، جیسا کہ ریاستی میڈیا نے رپورٹ کیا۔ انہیں رشوت ستانی اور قرض کے قوانین کی خلاف ورزی پر مزید 20 سال کی قید اور قریب 27 ملین ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔رئیل اسٹیٹ فرم وان تھنہ پھات ہولڈنگز گروپ کی چیئرپرسن لان، کو سائگون جوائنٹ اسٹاک کمرشل بینک (جسے وہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے کنٹرول کرتی تھیں) سے 12 بلین ڈالر شیل کمپنیوں میں جعلسازی کے ذریعے منتقل کرنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ریاستی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس نے مالیاتی اداروں پر اتنے وسیع اختیارات کے خلاف سخت قوانین کو نظر انداز کرنے کے لیے سازشیوں کو پراکسی کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ایس سی بی کے 91.5 فیصد حصص پر قبضہ کر لیا تھا۔ ریاستی میڈیا رپورٹس کے مطابق، مبینہ طور پر سازشی مدیران کو بینک میں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کرنے اور ریگولیٹرز کو رشوت دینے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا۔جن الزامات پر انہیں سزا سنائی گئی، ان کے مطابق کل رقم 2022 کے ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار کے 3 فیصد سے زیادہ تھی۔2022 میں لان کی گرفتاری کے بعد بینک پر رن والے نے ویتنام کے مرکزی بینک کو مداخلت پر مجبور کیا۔