کراچی (نیوز ڈیسک)غزہ میں عید کے موقع اسرائیلی بمباری میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے تین بیٹے، 4پوتے اور پوتیاں شہید ہوگئے، اسماعیل ہنیہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ انہوں نے بیٹوں اور پوتے پوتیوں کی شہادت پر اللہ کا شکر ادا کیا ، انہوں نے کہا کہ ان کو اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کی شہادت سے عزت ملی،شہداء کے خون سے ہم مستقبل کی امید پیدا کریں گے، اپنے لوگوں، اپنے مقصد اور اپنی قوم کے لئے آزادی حاصل کریں گے، انہوں نے بتایا کہ غزہ جنگ کے دوران ان کے خاندان کے 60افراد شہید کئے جاچکے ہیں جن میں ان کے بھانجے ، بھانجیاں اور بھتیجیاں بھی شامل ہیں ۔ اسماعیل ہنیہ نے قطر کے اسپتال میں داخل اپنی اہلیہ کو جب بیٹوں اور پوتے پوتیوں کی شہادت کی اطلاع دی تو انہوں نے بھی خدا کا شکر ادا کیا اور ہنیہ کیساتھ مل کر وکٹری کا نشان بھی بنایا۔ اسماعیل ہنیہ نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دشمن اس دھوکے میں نہ رہے کہ میرے بیٹوں کو امن مذاکرات کے دوران نشانہ بنا کر اور تنظیم کے جواب سے قبل وہ حماس کو اپنی پوزیشن بدلنے پر مجبور کر دیں گے،قطر اسماعیل ہنیہ نے مزید کہا کہ میرے بیٹوں کا خون ہمارے لوگوں کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ،شہریوں کا قتل عام اسرائیلی افواج کی شکست کو ظاہر کرتا ہے۔ حماس سے منسلک میڈیا کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے بیٹے ایک گاڑی میں سفر کر رہے تھے جب غزہ کی پٹی میں الشاطی کیمپ کے قریب انہیں نشانہ بنایا گیا، بتایا گیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کے بیٹے عید کے پہلے دن خاندان سے ملنے جا رہے تھے۔ اسماعیل ہنیہ نے بتایا کہ ان کے تین بیٹے، حاضم، عامر اور محمد، جنگ کے دوران غزہ کی پٹی میں ہی رہائش پذیر رہے۔اسماعیل ہنیہ کے سب سے بڑے بیٹے نے ایک فیس بک پوسٹ میں تصدیق کی کہ ان کے تین بھائی شہید ہو گئے ہیں۔ عبدالسلام ہنیہ نے لکھا کہ ’اللہ کا شکر ہے جس نے میرے بھائیوں، حازم، امیر اور محمد اور ان کے بچوں کی شہادت سے نوازا ۔ حماس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اسماعیل ہنیہ کے پوتے اور پوتیاں، مونا، امل، خالد اور رضان، بھی شہداء میں شامل تھے۔حماس نے اسرائیلی فضائی حملے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا ہے۔اسماعیل ہنیہ نے بتایا کہ ان کو اس حملے اور اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر اس وقت ملی جب وہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں زخمی فلسطینی بچوں کی عیادت کر رہے تھے۔واضح رہے کہ اسماعیل ہنیہ قطر میں ہی مقیم ہیں۔اس جنگ کے دوران اسماعیل ہنیہ کے خاندان کے کسی رکن کی شہادت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل فروری میں اسماعیل ہنیہ کے ایک اور بیٹے شہید ہو چکے ہیں جبکہ اکتوبر میں ان کے ایک بھائی اور بھتیجے کی شہادت ہوئی اور نومبر میں اسماعیل ہنیہ کے ایک اورپوتے شہید ہو چکے ہیں۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ وسطی غزہ کی پٹی پر حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے تین ممبران کو شہید کیا گیا جو اسماعیل ہنیہ کے بیٹے تھے۔اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں اسماعیل ہنیہ کے پوتوں اور پوتیوں کی شہادت کا ذکر نہیں کیا گیا۔عوامی سطح پر حماس اب تک اپنے مطالبات پر قائم ہے جن میں مکمل جنگ بندی اور غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوجیوں کا مکمل انخلا شامل ہیں۔
کراچی سیٹلائٹ تصاویر میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں فوجی اڈ وں کی تعمیر تیز کردی ،، رفح، خان یونس،...
تہران ایران نے دارالحکومت کےدو مرکزی ہوائی اڈے دوبارہ کھول دیے۔ ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق ملک بھر کے 10 مزید...
واشنگٹن – بڑی کم لاگت والی ایئر لائنز کے سی ای اوز آج منگل کو امریکی وزیرِ ٹرانسپورٹ شان ڈفی سے ملاقات...
واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت کے دوران وال اسٹریٹ اور عالمی مارکیٹوں میں ایک انتہائی...
کراچیگورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا ہےکہ سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر انتظام زیتون اشرف آئی ٹی پارک...
کراچی مصنوعی ذہانت کی جنگی حکمت عملی پر نئی بحث،"ٹیکنو فاشزم" کا الزامامریکی دفاعی و انٹیلی جنس سافٹ وئیر...
ریو ڈی جنیرو، برازیل فوسل فیولز سے نجات کیوں مشکل؟ معیشتسیاست اور لابنگ بڑی رکاوٹیں، عالمی وعدوں اور...
اوٹاوا کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکاکے ساتھ قریبی تعلقات، جو کبھی طاقت سمجھے جاتے تھے،...