سیاسی منظر نامہ، 10 اپریل یوم دستور عید کی خوشیوں میں دور گم ہوگیا

13 اپریل ، 2024

اسلام آباد (طاہر خلیل) 23 مارچ اور 14ا گست کی طرح 10 اپریل بھی پاکستان کی سیاسی اور پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم اور یاد گار دن ہے، سیاسی تنائو اور معاشی دبائو کی بحرانی کیفیت میں اس مرتبہ 10 اپریل یوم دستور عید کی چھٹیوں اور خوشیوں میں کہیں دور گم ہوگیا۔ چیئرمین سینٹ کی ذمے داریاں سنبھالتے ہی سید یوسف رضا گیلانی کو یاد رہا کہ 10 اپریل 1973 کو پاکستانی عوام کیلئے خوشیوں اور مسرتوں کا پیامبر بنا یوم دستور منانے کی روایت بھی سینٹ آف پاکستان نے ڈالی تھی۔ گزشتہ برس پی ڈی ایم کی حکومت نے جب سینٹ آف پاکستان اپنے قیام کی گولڈن جوبلی منا رہا تھا تو ایوان زیریں (قومی اسمبلی) کے سپیکر راجہ پرویز اشرف نے دستور پاکستان کی تدوین و تشکیل کی 50 سالہ تقریبات کا اہتمام کیا اور پاکستانی پارلیمنٹ کے دروازے پہلی بار پاکستان کے پسماندہ طبقات کیلئے کھولے گئے۔ سید یوسف رضا گیلانی نے چیئرمین سینٹ کا حلف اٹھانے کے فوراً بعد اپنے اولین خطاب میں ملک میں جاری سیاسی تقسیم کے تناظر میں قوم کو یقین دلایا تھا کہ وہ پارلیمنٹ اور جمہوریت کے فروغ کیلئے ڈائیلاگ پر کام اور حکومت اور اپوزیشن کے مابین پل کا کردار ادا کریں گے۔ خوش آئند پہلو ہے کہ ایوانِ صدر میں بھی آصف علی زرداری کی صورت میں ایسی شخصیت براجمان ہے جسے مفاہمت کا سب سے بڑا کردار قرار دیا جاتا ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ یوم دستور پاکستان پر ہم ایک بھی رسمی تقریب منعقد نہ کرسکے، تاہم 16اپریل کو صدر زرداری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں۔ اہل نظر و خبر توقع کر رہے ہیں کہ صدر زرداری ملک میں سیاسی پولیرائزیشن کے ازالے اور حکومت اپوزیشن کے مابین پارلیمانی نظام کے رواج کے مطابق بہتر ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے ایک نئی پیش رفت کا آغاز کر سکتے ہیں۔