پانچ بار، رکن قومی اسمبلی، بارہا وفاقی وزیر، 1993ءمیں اسپیکر قومی اسمبلی، 2008ءمیں وزیراعظم پاکستان بننے والے پیپلز پارٹی رہنما یوسف رضا گیلانی بلا مقابلہ چیئر مین سینیٹ جبکہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر سیدال خان ناصر ڈپٹی چیئر مین منتخب ہوگئے۔پیر کے روز منعقد ہونیوالے ایوان بالا کے اجلاس میں ان سمیت نومنتخب 41سینیٹرز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔یوسف رضا گیلانی 9جون1952کو ملتان کے سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1983ءکے بلدیاتی انتخابات میں سیدفخر امام کو شکست دے کر چیئرمین ضلع کونسل ملتان بنے۔ 1985ءکے غیر جماعتی انتخابات میں کامیاب ہونے اور وزیراعظم محمد خان جونیجو کی کابینہ میں شامل ہوکر ہائوسنگ و تعمیرات اور ریلوے کی وزارتیں سنبھالیں۔ 1988ءمیں انھوں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور2008ءکے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد یوسف رضا گیلانی ملک کے 18ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ انھیں چار سال ایک ماہ اور ایک دن پر مشتمل طویل مدت اس عہدے پر فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہےتاہم 2012ءمیں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں 30سیکنڈ کی سزا سنائی اور وہ پانچ سال کیلئے نا اہل ہوگئے۔اب اپنے طویل کیریئر میں انھوں نے رہنما پیپلز پارٹی کے طور پر ایوان بالا میں نیا سیاسی سفر چیئرمین کی سیٹ جیت کر شروع کیا ہے اور اس کیلئے8فروری کے انتخابات میں ملتان سے جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی سیٹ چھوڑی ۔وزیراعظم اور اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں کے بعد جو نئی ذمہ داریاں عائد ہوئی ہیں ،ان پرانھوں نے قومی امنگوں کے مطابق پورا اترنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔بلا شبہ موجودہ نامساعدسیاسی اور معاشی حالات میں یوسف رضا گیلانی کا کردار حساس نوعیت کا حامل ہوگاجس میں انھوں نے ملک وقوم، پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کیلئے انتہائی فعال کردار ادا کرنا ہے۔
یہاں ہم نے محسوس کی ہے بہتمدارج کی تفریق افراد میںمساوات اسلام میں ہے مگر کہاں ہے یہ اسلام آباد میں
جس طرح امریکہ نے جھوٹ اور فریب کا سہارا لے کر عراق کو نرغے میں لے کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی بالکل اسی طرح...
ابھی میں کالم لکھنے بیٹھا۔ نہ جی چاہ رہا تھا اور نہ کوئی موضوع ذہن میں تھا۔ رات کو صحیح طرح سو نہیں سکا تھا۔...
1909ءمیں برطانیہ سے ایک ٹیم بلتستان کی طرف روانہ ہوئی ۔ اس مہم کا مطمح نظرk2 پہاڑ کو سر کرنا تھا اور اسکے سربراہ...
اگر موجودہ کشیدگی چند ماہ اور چلتی رہی تو جنگ عظیم سوئم کا امکان بدرجہ اتم موجود ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ایسی خیالی...
تاریخ کا حافظہ عجیب ہوتا ہے۔ وہ واقعات کو صرف محفوظ نہیں رکھتا، ان کی بازگشت بھی آنے والی نسلوں کے کانوں میں...
جنگ کی بھی زبان ہوتی ہے، جس میں ماں کی لوری، چرواہے کی بانسری اور بچوں کی ہنسی آہستہ آہستہ دب جاتی ہے۔ صرف...
یوں تو پورے ملک میں آپا دھاپی پڑی ہے۔ کہیں شورہے کہ آٹا نہیں مل رہا ۔کہیں کے پی میں پہلے وزیر اعلیٰ جیسے ہی...