عام انتخابات کے انعقاد کو دو ماہ ہونے والے ہیں، وفاقی دار الحکومت اسلام آباد جہاں حکومت اور اپوزیشن (پی ٹی آئی) کے درمیان ’’میدان جنگ‘‘ بنا ہوا ہے وہاں اسلام آباد سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اڈیالہ جیل میں ’’سرکاری مہمان‘‘ شہباز شریف حکومت کو سکھ کا سانس نہیں لینے دے رہا، پی ٹی آئی کے ارکان آئے روز پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کر کے اپنے وجود کا احساس دلا رہے ہیں فارم نمبر 45اور 47کے نتائج کا جھگڑا ہنوز ختم نہیں ہوا۔ اس پر اطلاعات یہ ہیں کہ پی ٹی آئی اور دیگر پانچ جماعتوں کا اسلام آباد میں مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں حکومت کے خلاف عید الفطر کے بعد مزاحمتی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے 6جماعتی اتحاد کو اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا نام دیا گیا ہے مجلس وحدت مسلمین کی دعوت پر پختونخوا ملی عوامی، جماعت اسلامی، بی این پی مینگل، سنی اتحاد کونسل اور پی ٹی آئی کی قیادت کا اکٹھ ہوا جس میں حکومت کو گرانے کیلئے فارمولہ تیار کیا گیا ممکن ہے آئندہ چند روز میں اپوزیشن کے گرینڈ الائنس کا باضابطہ اعلان کر دیا جائے گا دلچسپ امر ہے شہباز شریف کی 16ماہ کی حکومت میں سردار اختر مینگل اور محمود خان اچکزئی انکے اتحادی تھے لیکن 8فروری 2024ء کے انتخابات میں نشستوں کی بندر بانٹ نے ان کو مسلم لیگ (ن) سے دور کر دیا ہے دوسری طرف جمعیت علما اسلام کی قیادت نے شہباز شریف کی حکومت گرانے کیلئے لنگوٹ کس لیا ہے اور عید الفطر کے بعد جلسوں کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے اہم بات یہ ہے پی ٹی آئی اسپانسرڈ گرینڈ الائنس میں جمعیت علما اسلام نے تاحال شمولیت کا عندیہ دیا ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمنٰ پی ٹی آئی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کیلئے اپنے کارکنوں کی قربانیاں دینے پر تیار ہیں مجوزہ گرینڈ الائنس میں جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس کے پاس ’’سٹریٹ پاور‘‘ ہے دوسری بڑی جما عت جس کے پاس سٹریٹ پاور ہے تو وہ جمعیت علماء اسلام ہے جو اسٹیبلشمنٹ مخالف تحریک چلانے کیلئے پر تول رہی ہے اور مولانا فضل الرحمن خاصے غصے میں ہیں اور وہ کچھ قوتوں کے خلاف ادھار کھائے بیٹھے ہیں لیکن وہ کسی ایسی تحریک کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو اڈیالہ جیل میں ’’سرکاری مہمان‘‘ کی رہائی کا باعث بنے اگرچہ عوام کی اکثریت موجودہ حکومت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتی جو مسلسل مہنگائی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے لیکن اس کے باوجود کسی حکومت کو قائم ہوئے مہینہ دو مہینہ ہی ہوئے ہیں اسے گرانے کے لئے عوام کو سڑکوں پر نکالنا خاصا مشکل ہے کسی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے سال ڈیڑھ سال کی مہلت دی جاتی ہے چونکہ یہ تحریک مہنگائی کے خلاف نہیں ہو گی انتخابی نتائج تبدیل کرنے کے خلاف ہے روز اول متاثرہ جماعتیں عوام کی عدالت میں دوبارہ جانے کی بجائے پارلیمنٹ میں چلی گئی ہیں اور الیکشن کمیشن کے قائم کردہ ٹریبونلز سے رجوع کرنا شروع کر دیا ہے جس کے بعد عوام کو سڑکوں پر لانے کا جوش وخروش ماند پڑ گیا ہے۔ پی ٹی آئی، جمعیت علما اسلام، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل گروپ) پارلیمنٹ میں بطور احتجاج بیٹھ گئی ہیں اور سر دست انہوں نے پارلیمنٹ کو میدان جنگ بنا رکھا ہے ادھر عمران خان اور جیل انتظامیہ کے درمیان ہفتہ میں دوبار ملاقات کا فارمولہ تیار ہو گیا ہر ملاقات میں عمران خان پارٹی کے کسی نہ کسی لیڈر کی ناقص کارکردگی پر اس کی چھٹی کر دیتے ہیں گویا حکومت نے جیل میں ملاقاتیوں کے کمرے میں پارٹی رہنمائوں کے غیر علانیہ اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دے کر جہاں عمران خان کو پی ٹی آئی کے رہنمائوں کو مشاورت کا موقع فراہم کر دیا ہے وہاں اسے اس اجلاس کے حوالے سے معلومات تک با آسانی رسائی حاصل ہو گئی ہے گزشتہ ہفتے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی کے ر ہنمائوں عمر ایوب، اسد قیصر اور شبلی فراز نے عمران خان سے ملاقات کی ہے حسب معمول پی ٹی آئی کے رہنمائوں نے ملاقات کے بعد جیل کے باہر پریس کانفرنس میں گرینڈ الائنس کا سربراہی اجلاس 12اپریل 2024ء کو کوئٹہ میں سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر منعقد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ عید الفطر کے بعد کوئٹہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں مزاحمتی تحریک کے شیڈول کی منظوری دی جائے گی اس ملاقات کے بعد پریس کو بتایا گیا کہ پارٹی کے دو رہنمائوں شیر افضل مروت اور عمیر خان نیازی کی فوکل پرسن کی حیثیت ختم کر دی گئی ہے عمران خان حکومت مخالف تحریک چلانے کے خواہاں ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت ان آرڈر نہیں عمران خان کی جیل یاترا کے بعد پی ٹی آئی کے لیڈروں کے درمیان لڑائیاں بڑھ گئی ہیں اور لیڈر عمران خان سے اظہار یک جہتی کے لئے گنتی کے چند کارکن نہیں آتے لہٰذا ان کو سڑکوں پر لانا خاصا مشکل کا م ہے وفاق اور تین صوبوں میں سینیٹ کے انتخابات ہو گئے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے کے پی کے سے منتخب ہونے والے ارکان کا حلف لینے سے انکار کر دیا ہے جس کے باعث سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات التوا میں پڑ گئے ہیں کے پی کے سے خصوصی نشستوں پر منتخب ہونے والے سینیٹر کی حلف برداری کا معاملہ سپریم کورٹ کے باعث زیر سماعت ہے وزیر اعلیٰ کے پی کے خم ٹھونک کر میدان میں آگئے ہیں اور دھمکی دی ہے وہ کسی قیمت پر ان نشستوں پر منتخب کئے گئے ارکان کو حلف نہیں اٹھانے دیں گے وفاق اور کے پی کے میں محاذ آرائی کے ملکی سیاست پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں اگر وزیر اعلیٰ نے اپنے رویہ میں نرمی پیدا نہ کی تو وفاق صوبے میں انتہائی اقدام اٹھا سکتی ہے پاکستان میں عام انتخابات کے خلاف تحاریک چلتی رہی ہیں 1977کی تحریک کے نتیجہ میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ تو الٹ دیا گیا لیکن اس کے نتیجے میں ملک میں مارشل لا لگ گیا طویل عرصہ تک ملک میں آمریت مسلط رہی اپوزیشن کی تحریک اسپانسرڈ نہ ہوئی تو اس کی کامیابی کے امکانات نہیں۔
یہاں ہم نے محسوس کی ہے بہتمدارج کی تفریق افراد میںمساوات اسلام میں ہے مگر کہاں ہے یہ اسلام آباد میں
جس طرح امریکہ نے جھوٹ اور فریب کا سہارا لے کر عراق کو نرغے میں لے کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی بالکل اسی طرح...
ابھی میں کالم لکھنے بیٹھا۔ نہ جی چاہ رہا تھا اور نہ کوئی موضوع ذہن میں تھا۔ رات کو صحیح طرح سو نہیں سکا تھا۔...
1909ءمیں برطانیہ سے ایک ٹیم بلتستان کی طرف روانہ ہوئی ۔ اس مہم کا مطمح نظرk2 پہاڑ کو سر کرنا تھا اور اسکے سربراہ...
اگر موجودہ کشیدگی چند ماہ اور چلتی رہی تو جنگ عظیم سوئم کا امکان بدرجہ اتم موجود ہے۔ صدر ٹرمپ ایک ایسی خیالی...
تاریخ کا حافظہ عجیب ہوتا ہے۔ وہ واقعات کو صرف محفوظ نہیں رکھتا، ان کی بازگشت بھی آنے والی نسلوں کے کانوں میں...
جنگ کی بھی زبان ہوتی ہے، جس میں ماں کی لوری، چرواہے کی بانسری اور بچوں کی ہنسی آہستہ آہستہ دب جاتی ہے۔ صرف...
یوں تو پورے ملک میں آپا دھاپی پڑی ہے۔ کہیں شورہے کہ آٹا نہیں مل رہا ۔کہیں کے پی میں پہلے وزیر اعلیٰ جیسے ہی...