ایران کا ممکنہ حملہ، اسرائیل کیساتھ ہیں، امریکا، ہماری سرزمین استعمال نہ کریں، خلیجی ممالک

13 اپریل ، 2024

کراچی (صالح ظافر) اسرائیل پر ایران کے ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کیساتھ کھڑے ہیں،اسرائیل کا دفاع کریں گے ، خلیجی ممالک نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کیلئے ان کی سرزمین استعمال نہ کریں، چین نے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے ، پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ جنگ سے ہمیشہ تباہی ہوتی ہے اس سے گریز کیا جائے اور غزہ میں جاری جنگ کو بند کیا جائے، امریکا، برطانیہ، فرانس، بھارت اور یورپی یونین سمیت کئی ممالک نے ایران کے حملے کے خدشے کے پیش نظر اپنے شہریوں کو خطے کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن اور وائٹ ہاوس نے واضح کیا ہے کہ ایران نے دمشق میں سفارتخانے پر اسرائیلی حملے کا جواب دیا تو امریکا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوگا ، امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، خلیجی ممالک نے امریکا کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے کیلئے خلیج میں موجود امریکی فوجی اڈے استعمال کرنے سے باز رہے۔ذرائع کے مطابق امریکاکے خلیجی اتحادی ایسے فوجی اڈوں کو بند کرنے کے لئے اوور ٹائم کام کر رہے ہیں جو انہیں تہران یا اس کے پراکسیوں کے خلاف امریکی انتقامی کارروائیوں کیلئے استعمال ہوسکتے ہیں۔ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عمان اور کویت نے امریکا کیساتھ موجود فوجی اٖڈوں کے معاہدوں کی پیچیدہ تفصیلات کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں جو تیل سے مالا مال جزیرہ نما میں دسیوں ہزار امریکی فوجیوں کو تعینات کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔دو امریکی عہدیداروں نے ’سی بی ایس‘ نیوز کو بتایا ہے کہ ایران کا ممکنہ حملہ جلد ہو سکتا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کے پاس موجود انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق اس ممکنہ ایرانی حملے میں 100 سے زیادہ ڈرون، درجنوں کروز میزائل اور شاید بیلسٹک میزائل بھی استعمال ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے اسرائیل میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔امریکا نے ایران کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا دمشق حملے میں ملوث نہیں ہے، وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرائن جین پیئر نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا یہ تنازع پھیلے، ایران دمشق حملے کو تنازع بڑھانے یا امریکی تنصیبات پر حملے کے بہانے کے طورپر استعمال نہ کرے۔ امریکی وزیر خا رجہ انٹونی بلنکن نے 24 گھنٹے کے دوران ترک، چینی اور سعودی ہم منصبوں سے رابطے کئے۔ اس حوالے سے ترجمان محکمہ خا رجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ مقبوضہ بیت المقدس، تل ابیب یا بیئر شیوا کے علاقوں سے باہر سفر نہ کریں۔فرانس، بھارت، روس ، برطانیہ اور پولینڈ سمیت دیگر ممالک نے بھی اسرائیل ایران کشیدگی کے پیش نظر اپنے شہریوں کو اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ روس اور جرمنی نے بھی فریقین کو مشورہ دیا کہ جنگ کا دائرہ ممکنہ وسیع ہونے کی صورت میں تحمل سے کام لیں۔ دوسری جانب فرانس نے بھی شہریوں کو ایران، لبنان، اسرائیل، فلسطینی علاقوں کا سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کردیں۔ وزارتِ خارجہ نے فرانسیسی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران، لبنان، اسرائیل اور فلسطینی علاقوں کا سفر نہ کریں۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ترکیہ، چینی اور سعودی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، انٹونی بلنکن نے واضح کیا کہ امریکا کو خطے میں کشیدگی کے بارے میں تشویش لاحق ہے، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔دریں اثناء وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرائن جین پیئر نے کہا کہ امریکا نہیں چاہتا یہ تنازع پھیلے، ایران دمشق حملے کو تنازع بڑھانے یا امریکی تنصیبات پر حملے کے بہانے کے طورپر استعمال نہ کرے۔