اسلام آباد(رپورٹ:حنیف خالد)بہاولنگر واقعہ کے بارے میں تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل عمر ایوب‘ مرکزی رہنما حماد اظہر‘ چیئرمین پی ٹی آئی کے ماضی کے ترجمان شہباز گل‘ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر شعیب شاہین‘ پی ٹی آئی کے ای رہنما درانی ‘ پی ٹی آئی کے متعدد رہنمائوں اُنکے سوشل میڈیا کے اندرون ملک و بیرون ملک موجود ساتھیوں نے بہاولنگر میں پیش آنے والے افسوسناک واقعہ کو فوج اور پولیس حکام کی مشترکہ کوششوں سے فوری حل کئے جانے کے باوجود بہت سے مخصوص عناصر نے سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ شروع کر دیا۔ معاملہ طے ہونے کے باوجود فوج کیخلاف طنزیہ‘ تمسخرانہ‘ جھوٹ اور شرانگیز ریمارکس جا ر ی سوشل میڈیا پر یہ پراپیگنڈہ کرنے والے بعض دھڑوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مذموم مقاصد کیلئے ریاستی اداروں اور سرکاری محکموں کے درمیان تقسیم کی کوشش کی گئی۔ قوانین کی خلاف ورزی‘ اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذمہ داران جن کا تعین مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کریگی ان کیخلاف آئین و قانون کے مطابق ایکشن لیا جائیگا۔ پی ٹی آئی کی قیادت کے حامیوں نے پاک فوج کیخلاف طنزیہ‘ تمسخرانہ ریمارکس بھی جاری کئے۔ ایک پاکستانی ٹی وی کے اینکر جو 9مئی کے سانحہ کے بعد پاکستان سے باہر جا بیٹھے ہیں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ یہ کہاں کی تصویر ہے بہاولنگر کے واقعہ کو انہوں نے سانحہ لکھ کر تمسخر اُڑایا۔ مرکزی رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ تمغہ گروپ یہ چورن بیچ رہا ہے کہ پولیس نے زیادتی کی جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر شعیب شاہین نے اپنے ٹویٹ میں یہ کہا ہے کہ سوچنے کی بات ہے ایک حوالدار کیلئے پچاس لوگ آ گئے‘ کور کمانڈر ہائوس کو بچانے کوئی نہیں آیا۔ شہباز گل نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ ہمارے لوگ جانور بن گئے ہیں جس کو پکڑتے ہیں 9مئی میں ڈال دیتے ہیں یا پٹرول بم اس پر ڈال دیا جاتا ہے۔ بہاولنگر کے واقعہ میں پولیس فورس کو سبق دیا گیا ہے کہ ہماری طرف نہیں آنا۔ محمود غزنوی نے تاریخ میں درج ہے کہ محمود غزنوی نے سومنات پر حملے کئے اسی طرح پی ٹی آئی کے لوگوں کے ساتھ کیاگیا۔ گھروں میں چادر اور چار دیواری کا خیال نہیں رکھا گیا۔ اس وجہ سے پولیس کا ہاتھ کھل گیا۔ آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے وڈیو پیغام انکے بارے میں جاری کیا ۔ اور کہا کہ ملک و قوم کی خدمت و حفاظت پولیس فورس کا نصب العین ہے جسے بھرپور لگن کے ساتھ سرانجام دینا فورس پر لازم ہے۔