اپوزیشن اتحاد کا حکومت کیخلاف باضابطہ تحریک کا آغاز،آج پشین میں پہلا جلسہ

13 اپریل ، 2024

کوئٹہ اسلام آباد (نامہ نگار ان ) اپوزیشن اتحاد نے جو آج حکومت کیخلاف باضابطہ تحریک کا آغاز کر رہی ہے اس احتجاجی تحریک کا نام ’’تحریک تحفظ آئین‘‘ رکھا گیا ہے۔ جمعہ کی شب کوئٹہ میں اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں احتجاجی تحریک چلانے اور آج ہونے والے جلسہ عام سے متعلق حکمت عملی طے کی گئی اور احتجاجی تحریک کو حتمی شکل دینے کیلئے بھرپور مشاورت بھی ہوئی۔ اجلاس میں محمود خان اچکزئی کو ’’تحریک تحفظ آئین‘‘ کا صدر مقرر کیا گیا ہے۔ اس موقعہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمرایوب نے بتایا کہ آج ایک تاریخی اجلاس ہوا، یہ اس اتحاد کی دوسری میٹنگ تھی، اپوزیشن کی تحریک کا نام ”تحریک تحفظ آئین“ رکھا گیا ہے، کے صدر محموداچکزئی ہوں گے۔تحریک تحفظ آئین کی رابطہ کمیٹی بھی تشکیل دے رہےہیں، اجلاس میں اتفاق کیاگیاکہ ایکشن پلان کے تحت جلسے ہوں گے، اگلا اجلاس 29اپریل کولاہور ہوگا۔ عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ ہم فارم47 پر بنی حکومت کو رد کرتے ہیں، جس ملک میں آئین کی پاسداری نہیں ہوتی اس کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ آئین عمرانی معاہدہ ہےاس کے تحفظ کیلئے کل سے جلسے کریں گے۔ ہم نہ کسی کو گالی دیں گے نہ بر بلا کہیں گے، ہم آئین کی بالادستی کی بات کریں گے، میڈیا سے گفتگو میں اخترمینگل نے کہا کہ س تحریک کاآغاز20سال پہلےہونا چاہئے تھا تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا، نہ فارم47کی نوبت آتی۔ اس تحریک کوانجام تک پہنچانے کیلئے سیاسی قوتوں،عوام کا اہم رول ہوگا۔ حامد رضا نے کہا کہ یہ تحریک ایک بڑی تحریک کی صورت میں سامنے آئے گی، سنی اتحادکونسل اس تحریک میں ہراول دستہ کاکرداراداکرےگی، ہمارا بنیادی مقصد آئین کی بالادستی قائم کرنا ہے۔ جبکہ علامہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون ہے، آئین کی بالادستی کیلئے ہر مشکل کامقابلہ کرنےکو تیار ہیں۔ اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں سربراہ بی این پی اختر مینگل، جماعت اسلامی کے قائم مقام امیرلیاقت بلوچ، ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ راجہ ناصر عباس، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ حامد رضان قادری، مرکزی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی عمرایوب خان بھی میں شریک تھے۔