جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ رکنا نظام کی کمزوری ہے،سینیٹر افنان اللہ

13 اپریل ، 2024

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ’’کیپٹل ٹاک‘‘ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ کے رہنما سینیٹر افنان اللہ نے کہا ہے کہ جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ رکنا نظام کی کمزوری ہے،چیئرپرسن ڈیفنس فار ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کو غائب کرنے والے ادارے کوئی اور ہیں جو سیاسی حکومت سے پوچھ کر یہ کام نہیں کررہے، لاپتہ مدثر ناروکی والدہ راحت محمود نے کہا کہ لاپتہ افراد کے خاندانوں کیلئے عید خوشی نہیں بلکہ اذیت کا موقع ہوتی ہے، ڈاکٹر دین محمدکی بیٹی سمی دین بلوچ نے کہا کہ ہمارے لوگوں نے کچھ کیا ہے تو انہیں بے شک جیلوں میں رکھیں مگر منظرعام پر لائیں۔ن لیگ کے رہنما سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ ن لیگ سمجھتی ہے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرکے خاندانوں سے ملایا جائے، مہذب معاشرے میں لوگوں کو جبری گمشدہ کیا جائے تو ملک کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی ہیں ، جبری گمشدگیوں کا سلسلہ نہ رکنا نظام کی کمزوری ہے، اس میں حکومت اور عدلیہ کی بھی کمزوری ہے، اس ملک کا چیف منسٹر چھوڑیں پرائم منسٹر بھی مسنگ پرسن رہا ہے ،چیئرپرسن ڈیفنس فار ہیومن رائٹس آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم کمیشن ختم کرکے ایسا کمیشن بنایا جائے جو ایک سال میں میں تمام لاپتہ افراد کو ٹریس کرے ، میرے شوہر پاکستان میں ہی کسی سیل میں بند ہیں،لاپتہ مدثر ناروکی والدہ راحت محمود نے کہا کہ حکومت اور جج صاحبان لاپتہ افراد کی بازیابی کے احکامات دینے سے کیوں ڈرتے ہیں، ہمارے والدین نے قربانیاں دے کر پاکستان حاصل کیا آج ان کی روحیں کانپ رہی ہوں گی۔ڈاکٹر دین محمدکی بیٹی سمی دین بلوچ نے کہا کہ بارہ سال بعد بازیاب ہونے والے احسان ارجمند نے مجھے بتایا تھا کہ وہ اور میرے والد نوشکی میں ایک ہی سیل میں تھے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے لوگ صحیح سلامت ہیں ان کے خاندانوں کو اذیت دی جارہی ہے۔