کراچی (نیوز ڈیسک) امریکی صدر جوبائیڈن نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف جوابی کارروائی میں حصہ نہیں لیں گے، امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان کربی نے بھی کہا ہے کہ وہ ایران کیساتھ جنگ نہیں چاہتے، اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے 300 سے زائد ڈرونز اور میزائل فائر کئے گئے، اسرائیل کے مطابق امریکا، برطانیہ، اردن اور دیگر علاقائی اتحادیوں کیساتھ مل کر 99 فیصد ڈرونز اور میزائلوں کو مار گرایا، برطانوی نیوز ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ترکیہ کے ذریعے سے امریکا کو بھی حملے سے قبل آگاہ کردیا تھا اور واشنگٹن نے کہا تھا کہ ایرانی حملے کچھ مخصوص حدود رک رہنے چاہئیں۔ پاکستان نے کہا ہے کہ اسے صورتحال پر تشویش ہے جبکہ افغانستان، حماس، شام اور یمن نے حملوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنا حق دفاع استعمال کیا ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ حملے غزہ تنازع کا نتیجہ ہے جبکہ روس نے اسے دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر سلامتی کونسل میں اسرائیلی حملے کیخلاف رد عمل میں ناکامی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ جاپان اور جرمنی نے کہا ہے کہ حملے سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی۔ ایران نے کہا ہے کہ انہوں نے حملوں سے کئی روز قبل اپنے پڑوسی ممالک کو آگاہ کردیا تھا۔ ایران کے صدر رئیسی اور ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف جنرل باغری کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے اس کے حملوں پر رد عمل دکھایا تو اگلا حملہ مزید بڑا اور شدید ہوگا، اگر امریکا نے جوابی کارروائی میں اسرائیل کا ساتھ دیا تو وہ امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے۔ برطانوی اخبار کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ حسین عبداللحیان نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فدان سے ٹیلی فونک گفتگو میں بتایا ہے کہ ایران اس وقت تک کوئی نیا حملہ نہیں کرے گا جب تک کہ اس پر کوئی حملہ نہ کرے۔ فدان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ترکیہ بھی چاہتا ہے کہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ ترک وزیرخارجہ نے امریکی ہم منصب اینٹونی بلنکن سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کو کشیدگی کے ممکنہ طور پر مزید پھیلاو پر تشویش ہے، خطے میں جاری کشیدگی کی اصل وجہ غزہ تنازع ہے، غزہ میں فوری طور پر جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے، امریکا اور دیگر ممالک اسرائیل کو کشیدگی مزید بڑھانے سے روکیں۔ ایران نے اسرائیل پر حملوں کے بعد دہرا معیار اختیار کرنے پر برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے سفیروں کو بھی طلب کرلیا۔ ان تینوں ممالک نے ایران کے جوابی حملوں کی مذمت کی تھی۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل پر ایران کے حملے کے بعد "متعدد اضافی" لڑاکا طیارے اور ایندھن بھرنے والے ٹینکروں کو خطے میں منتقل کردیا ہے۔ ایرانی حملوں کے معاملے پر جی سیون ممالک کا ورچوئل اجلاس ہوا۔ جی سیون ممالک نے اپنے مشترکہ اعلامیہ میں اسرائیل پر ایرانی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اسرائیل کے دفاع کیلئے متحد اور پرعزم ہیں، ایران مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کررہا ہے۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے امریکی صدر جوبائیڈن کو ٹیلی فون کرکے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے کشیدگی کو مزید ہوا دی تو تنازع پورے خطے میں پھیل جائے گا۔ دمشق میں ایرانی سفارتخانے پر حملے کے رد عمل میں ایرانی حملوں پر ہزاروں فلسطینیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں جشن منایا، فلسطینوں کی بڑی تعداد مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بھی جمع ہوگئی جہاں وہ لبیک یا اقصیٰ کے نعرے لگاتے رہے۔ اسی طرح تہران سمیت ایران کے کئی شہروں میں بھی ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے جنہوں نے جشن منایا۔ بیروت میں بھی ہزاروں لبنانی شہریوں نے ایران کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنے امریکی ہم منصب کو متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کشیدگی سے دور رہیں، بھارتی میڈیا کے مطابق انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اگر امریکا نے اسرائیل کا ساتھ دیا تو وہ ایران کی مدد کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی جنگی کابینہ کو ایران کیخلاف رد عمل دینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ جنگی کابینہ کے اجلاس میں نتن یاہو اور اسرائیلی وزیر جنگ یاوا گیلنٹ بھی شامل ہیں جس میں جوابی کارروائی پر بحث جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر جنگ گیلنٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس موقع ہے کہ وہ ایران کیخلاف تذویراتی اتحاد تشکیل دینے کا نادر موقع ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ کیمرون نے اپنے ایرانی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو میں کہا کہ ان کا ملک اسرائیل پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دریں اثناء اسرائیل میں خوف وہراس کی لہر بدستور برقرار ہے ، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی میزائل اور ڈرون حملے سے قبل جاری کردہ پابندیاں پیر کی رات مقامی وقت کے مطابق 11 بجے تک نافذ رہیں گی۔ ملک بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل اور اجتماعات کو 1,000 افراد تک محدود رکھا جائے گا۔ غزہ اور لبنان کی سرحد کے قریب، اجتماعات پر پابندیاں پہلے سے ہی نافذ ہیں۔ اسرائیل کے سابق سفارتکار ایلون لائل نے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج نے موجودہ صورتحال میں رفح پر حملہ کیا تو سارا معاملہ دوبارہ شروع ہوجائے گا اور صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔ "میرے خیال میں ہمیں یرغمالیوں کو واپس لانا چاہیے، اور ہمیں غزہ پر جنگ ختم کرنی چاہئے۔ اسرائیل کے لئے امریکی حمایت کے بغیر ایسا کرنا بہت مشکل ہے۔ میں امریکیوں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے بغیر اب ہم کوئی بڑا فوجی اقدام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن وہ ایک مربوط طریقے سے، [رفح] کے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کے ساتھ نیچے جانے کی منظوری دے سکتے ہیں۔"اردن کے وزیر خارجہ ایمن صفادی نے کہا کہ ان کے ملک نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے ایرانی تبصروں کے خلاف احتجاج کیا اور انہیں مملکت کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے ۔اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق صفادی حالیہ دنوں میں ایران کے سرکاری میڈیا میں ان تبصروں کا حوالہ دے رہے تھے جن میں خبردار کیا گیا تھا کہ اگر اردن نے ایران کے ساتھ لڑائی میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا تو اس کا اگلا ہدف اردن ہو گا۔
راولپنڈی عمران خان سے ملاقات کے لئے پی ٹی آئی کاکوئی رہنمایا فیملی ممبر اڈیالہ جیل نہیں پہنچ سکا،اڈیالہ جیل...
نئی دلی امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ہندو انتہا پسند گروپ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر...
اسلام آ باد وزیراعظم شہبازشریف 23 سے 25 مئی تک چین کا دورہ کریں گے۔ دورے کےدوران چین کے صدر شی جن پنگ اورچینی...
اسلام آباد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا اہم ترین سربراہی اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین...
کوئٹہگورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پولیٹیکل فلاسفی کے تناظر میں مخلوط حکومت کو حقیقی جمہوریت کے...
نئی دلی بھارت نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کے لیے شہریت کے قواعد...
لاہور پاکستان مسلم لیگ کے صدر محمد نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے ملاقات کی جس میں پاکستان...
اسلام آباد روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے تصدیق کی ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں...