افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں، اپنے خطے کو مست سانڈوں کی لڑائی کا مرکز بننے نہیں دینگے، محمود اچکزئی

15 اپریل ، 2024

چمن ( پ ر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہاہے کہ چمن کے عوام نے اپنے تمام مہمانوں کا پرلت میں ہزاروں کی تعداد میں شرکت اور پرتپاک استقبال کرکے مہمان نوازی کا حق ادا کردیا ۔ منظم عوامی اتحادسے ہی کامیابی حاصل ہوگی ۔ کسی کی پسند یا ناپسند کے برخلاف چمن پرلت کے مطالبات ماننے پڑیں گےکیونکہ یہ مطالبات جمہوری آئینی اور بنیادی انسانی حق ہیں۔ آج دنیامیں پاسپورٹ کا نظام ختم ہونے جارہا ہے اور یہاں تک کہ یورپی ممالک نے اسے ختم کردیا ہے ۔اور پرلت کے مطالبہ یہ ہے کہ ڈیورنڈ خط کے آر پار اپنی زرعی زمینوں ، مساجد ، گاؤں ، قبرستان اور دیگر انسانی معاشرتی ضرورتوں کیلئے دن میں کئی بار پاسپورٹ پر آنا جانا ناممکن ہے لہذٰا پاسپورٹ کی شرط کو آر پار قبائل کیلئے ختم کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ آج بھی ڈیورنڈ خط پر اچکزئی ، نورزئی اور دیگر بہت سے قبائل کے پاس ہزاروں پاسپورٹ موجود ہیں لیکن انھیں اپنی زرعی زمینوں ،اقرباء کی ضرورتوں پر جانے کیلئے پاسپورٹ کایہ نظام قبول نہیں ۔ اتحاد کے قومی اسمبلی اور سینٹ کے رہنماء ارکان نے آپ کے سامنے اعلان کیا ہے کہ وہ چمن پرلت کے مسائل و مطالبات کو قومی اسمبلی اور ایوان بالا میں ضرور اٹھائیں گے ۔ پاکستان کے عوام مسلط حکمرانوں کے کرتوتوں کے نتیجے میں انقلاب کے دہانے پہنچ چکے ہیں اور ہم سب نے اس جمہوری انقلاب کی تیاری کرنی ہوگی ۔ عوام کا تعلق چاہے جس پارٹی سے ہو سب نے اس بات سے باخبر رہنا ہوگا ہے کہ ہمیں پشتونخوا وطن میں اللہ تعالیٰ نے جتنی نعمتیں دی ہیں اس پر قبضہ جمانے کیلئے دنیا کی طاقتور قوتیں یہاں جنگ مسلط کرنا چاہتی ہیں ، یہ لوگ ایک مرتبہ پھر ہمارے اس خطہ کودنیا کے مست سانڈوں کی لڑائی کے مرکز میں تبدیل کرناچاہتے ہیں ۔ ہم کسی جرنیل ، کسی شہباز ،کسی تلوار زن کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ یہاں جنگ لائے اور ہم پر جنگ مسلط کرے کیونکہ ہم افغانستان ،ہندوستان ، ایران سمیت کسی سے بھی جنگ نہیں چاہتے ، ہم جیو اورجینے دو کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کر گزارہ کرنے کی بات کرتے ہیں ، ہمیں افغانستان کے سالمیت وخودمختاری کا احترام کرنا ہوگا اور اسی طرح افغانستان کو بھی پاکستان کی سالمیت وخودمختاری کا احترام کرنا ہوگی ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سیاسی جمہوری سو سے زائد کارکن گرفتار کیے ہیں ، نوجوانوں اور بوڑھوں سے یہ لوگ کپڑے نکالتے ہیں لوگوں کے گھروں میں داخل ہوتے ہیں یہ غیر سیاسی ، غیر جمہوری ، غیر انسانی رویہ کسی صورت قابل برداشت نہیں ، ہم ملک کی پولیس سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ان کی ماں باپ ، بہن بھائی ، بیوی بچے نہیں ہیں ۔ دوسروں کو بے عزت کرو گے خود عزت سے رہ سکو گے ؟۔ فراڈ ، دھوکہ دہی ،زر اور زور کے نام نہاد الیکشن میں پارٹی کی جیتی ہوئی سیٹوں کوسماج دشمن گردانے جانے والوں کے حوالے کرنا ملک ،عوام اور سیاست وجمہوریت دشمنی کے سوا کچھ نہیں ۔ ملک کے اندر جس قوم کی سرزمین پر قدرتی معدنیات ،وسائل اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں ان پر پہلا حق ان کے بچوں کا ہوگا اس لیے ہم نکلے ہیں ۔ ہم نے جنگ ،دشمنی نہیں کرنی لیکن جرنیلوں نے مہربانی کرکے توبہ کرنا ہوگی اور پاکستان کے عوام سے یہ معافی مانگنی ہوگی کہ ہم آئندہ اپنے آئینی حلف کے برخلاف سیاست میں مداخلت نہیں کرینگے ۔ بلوچ عوام کے ساحل ووسائل پر قرآن کریم ، اقوام متحدہ اور تمام انسانی قوانین کے تحت پہلا حق ان کے بچوں کا ہے اور دیگر اقوام کی سرزمینوں میں بھی ان کے قدرتی معدنی وسائل ، آبی ذخائر ، بجلی وگیس پر قبضہ کسی صورت میں قبول نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آئین پاکستان کے تحفظ کیلئے جو اتحاد بنایا ہے یہ کسی جرنیل یا جج کے خلاف نہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ طاقت کا سرچشمہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حقیقی پارلیمنٹ ہو، عوام کی منتخب پارلیمنٹ داخلہ وخارجہ پالیسیاں بنائے اور عوامی پارلیمنٹ ہی بلوچوں ، پشتونوں ، سندھیوں ، پنجابی عوام کو یہ آئینی گارنٹی دیگی کہ ان کے وطن کے وسائل پر ان کے بچوں کا واک واختیار ہوگا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میں پولیس والوں سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کو مانو اپنے بچوں کے کپڑے مت اتارو ان کی بے حرمتی ، چادر وچار دیواری کی تقدس کی پائمالی نہ کرو ، اپنے بچوں ،ماؤں ، بہنوں کی بے حرمتی مت کروایسا نہ ہو کل یہی سب کچھ تمہارے ساتھ ہو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چمن احتجاجی دھرنے /پرلت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جس سے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری جنرل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایو ب خان ترین ، ایم این اے شیر افضل مروت ، سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا، مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر جعفری ، بی این پی کے رہنماء ملک نصیر احمد شاہوانی ،جماعت اسلامی بلوچستان کے نائب امیر مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمن اور پرلت کے رہنماؤں ، تاجروں ودیگر مقررین نے بھی خطاب کیا ۔ اس موقع پر اتحادی جماعتوں کے دیگر مرکزی وصوبائی قائدین بھی چمن پرلت میں موجود تھے ۔ اگر چہ پرلت میں تقاریر کے دوران شدید مٹی کا طوفان ، بارش ، ژالہ باری شروع رہی لیکن تمام عوام اس کے باوجود منظم انداز میں بیٹھے مقررین کو سنتے رہے ۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے قائدین ،مہمانوں کے اعزاز میں پارٹی رہنماء ضلع چمن کے میئر حاجی حبیب اللہ اچکزئی اور پارٹی رکن ممتاز تاجر حاجی نصیب اللہ اچکزئی نے پرتکلف عشائیہ دیا اور رات گئے تمام مہمان چمن سے کوئٹہ روانہ ہوگئے۔