ایرو، ڈیوڈ سلنگ ،آئرن ڈوم اور لیزرـ اسرائیلی فضائی دفاع کی مختلف تہیں

15 اپریل ، 2024

کراچی(نیوزڈیسک) اسرائیل اپنی فضائی حدود کے دفاع کےلیے تہہ در تہہ فضائی دفاعی نظام استعمال کرتا ہے اور ایران نے ایک طرح سے اسرائیلی علاقوں پر ڈرون اور کروز میزائلوں کے حملوں کے ذریعے ان کی صلاحیتوں کی جانچ کی ہے۔ اسرائیلی فضائی دفاع کے نظام میں ایرومیزائل، ڈیوڈ سلنگ اور آئرن ڈوم شامل ہیں۔ جہاں تک ایرو فضائی دفاع کا نظام ہے تو یہ طویل مار کرنے والے دو مختلف نظاموں کا مشترکہ نظام ہے،ان میں ایرو ٹو اور ایروتھری نامی سسٹم ہیں، یہ نظام اسرائیل نے امریکی پیٹریاٹ کی طرز پرایرانی میزائلوں کے خطرے کو ذہن میں رکھتے ہوئے تیار کیا ہے۔ یہ بیلسٹک میزائلوں کوزمین کی فضا سے باہر نشانہ بنانے کےلیے بنایا گیا ہے اور اس نظام کے تحت ایرو میزائل بلندی پرجا کر اپنے وارہیڈ کو الگ کردیتا ہے جو اپنے ہدف سے ٹکراتا ہے اورچونکہ یہ بہت بلندی پر اپنے ہدف کو تباہ کرتا ہے اس لیے بالعموم حملہ آور میزائل کاغیر روایتی وار ہیڈ بغیر کوئی نقصان کیے محفوظ طریقے سے تباہ ہوجاتا ہے۔ اسرائیل کی ریاستی ایئرو اسپیس انڈسٹری اسراآئی۔ یوایل اس پروجیکٹ کی بڑی ٹھیکیدار ہے جبکہ بوئنگ بی اے این بھی اس میں شراکت دار ہے۔ اسرائیلی فوج نے بتایا تھا کہ اس نے 7 اکتوبر کے بعد پہلی مرتبہ 31 اکتوبر کو یہ دفاعی نظام استعمال کیا تھا تاکہ بحیرہ احمیر کی جانب سے غوثیوں کے داغے گئے میزائلوں کو راستے میں تباہ کیاجاسکے۔ 28 ستمبر کو جرمینی نے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے مطابق جرمنی نے 4 ارب یورو کی لاگت سے ایروتھری میزائل دفاعی نظام خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ اسرایئلی فضائی دفاع کے نظام کی اس پہلی تہ کے بعد دوسری تہ آتی ہے جسے ڈیوڈ سلنگ یعنی دائود کی غلیل کہاجاتا ہے۔ یہ 100 سے 200 کلومیٹر دور سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کےلیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں اسرائیلی ریاستی کمپنی رفائل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹم نےبنائے ہیں جس میں اسے امریکی کمپنی ریتھین کوآپریشن سے مل کر بنایا گیا ہے یہ نظام اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ نہ صرف بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بناسکتا ہے بلکہ جنگی طیاروں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو بھی نشانہ بناسکتا ہے۔ اس درمیاتی تہہ کے بعد آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس ااتا ہے جو کہ فلسطینی تنظیم حماس کی جانب سے داغے جانے والے راکٹوں سے نمٹنے کےلیے بنایا گیا ہے۔یہ نظام اسرائیلی ریاستی ملکیت میں چلنے والے رفائل ایڈونسڈ ڈیفنس سسٹم نے امریکی معاونت سے بنایا ہے اور یہ 2011 سے فعال ہے اس میں مختصر فاصلے تک مارک کرنے والے راکٹس، مارٹرز اور ڈرونز کو مارگرانا ممکن ہوتا ہے ۔ یہ نظام فائر کیے گئے راکٹ کا راستہ ناپ کر فوری طور پر اندازہ لگاتاہے کہ آیا یہ کسی آبادی والے علاقے میں گرے گا یا نہیں اگر راکٹ کسی بنجر علاقے میں گرنے والاہو تو اسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن اگریہ آبادی والے علاقوں کی جانب جانے کا خدشہ ہوتو ایک ریڈار گائیڈڈ میزائل اسے فضا میں ہی ٹکراکر تباہ کر دیتا ہے۔ آئرن ڈوم ابتدائی طور پر 4 سے 70 کلومیٹر کی رینج والے علاقوں کی کوریج کےلیے بنایا گیا ہے لیکن اسے مسلسل بڑھایاجارہا ہے۔ اس کا ایک نیول ورژن بھی ہے جس 2017 سے زیر استعمال ہے۔یہ نظام امریکا کو بھی دیا گیا ہے جبکہ یوکرائن بھی اس کے حصول کا خواہاں ہے۔ان نظاموں میں جدید ترین اضافہ کروڑوں ڈالر کی لاگت سے امریکا سے خریدا گیا وہ نیا نظام ہے جو لیزر کی شعاع کے ذریعے دشمن پروجیکٹائل کو فضا میں ہی پگھلا کربھسم کردیتا ہے۔ اسرائیل خود بھی ایک ایسے نظام پر کام کر رہا جس کی مدد سے دشمن کے راکٹوں اور میزائلوں کو لیزر کے زریعے فضا میں بھسم کر دیاجائیگا اور ہر پروجیکٹائل کو تباہ کرنے پر لاگت 2ڈالر سے بھی کم آئے گی۔