لندن (پی اے) برطانوی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانوی فضائیہ اسرائیل پر کسی بھی فضائی حملے کو ناکام بنا دے گی۔ رائل ائر فورس کو اسرائیل پر فائر کئے گئے ڈرونز مارگرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ رائل ائر فورس کے جیٹ طیارے عراق اور شام کی فضائی حدود میں اڑتے ہیں، اسرائیل کی حدود میں نہیں اڑتے۔ وزیراعظم رشی سوناک نے اسرائیل پر ایران کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اسرائیل کی سلامتی کیلئے ساتھ دیتا رہے گا۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دوسرے ممالک خاص طور امریکہ کی مدد سے ایران کے زیادہ تر حملوں کو اسرائیل کی فضائی حدود سے باہر ہی ناکام بنا دیا تھا۔ وزارت دفاع نے یہ نہیں بتایا کہ رائل ائر فورس کے کتنے طیارے شام اور عراق کی فضائی حدود میں موجود تھے اور یہ بھی نہیں بتایا کہ انھوں نے کسی ہدف کو بھی نشانہ بنایا یا نہیں۔ بیان سے صاف ظاہر ہے کہ رائل ائر فورس کے طیارے داعش گروپ کے خلاف آپریشن شیڈر مشن کے تحت کارروائی کیلئے مختص علاقو ں ہی میں کسی حملے کی صورت میں کارروائی کریں گے۔ وزیر دفاع نے ایکس پر ایک پیغام میں اس کارروائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیل پر ایران کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوگا، ایران نے یہ حملہ کر کے ایک دفعہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خود اپنے پچھواڑے انتشار کے بیج بو رہا ہے۔ انھوں نے اسرائیل، اردن اور عراق کی سیکورٹی کیلئے مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔ وزیر صحت وکٹوریہ ایٹکنز نے بی بی سی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتیں کہ برطانوی طیاروں نے ایرانی ڈرونز مارگرائے یا نہیں؟۔ ایک سوال کے جواب میں کہ کیا برطانوی طیارے تعینات کرنے سے قبل کیبنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا تو انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے معلومات کا دائرہ بہت سخت ہے۔ لیبر پارٹی کے قائد سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی ان تمام اقدامات کی حمایت کرتی ہے جو امن بحال کرنے اور وسیع پیمانے پر ریجنل جنگ کی روک تھام کیلئے کئے جائیں۔ انھوں نے اسرائیل پر ایران کےحملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دے رہی ہے لیکن مجھے افسوس ہے کہ ایران نے مختلف اور خطرناک راستے کا انتخاب کیا۔ کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ٹوبیاس ایلووڈ نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ جب بات کسی ملک کی جانب سے کسی ملک پر حملے کی ہوگی تو برطانیہ اسرائیل کی فضائوں اور زمین کا دفاع کرنے کیلئے ساتھ کھڑی ہوگا لیکن اتحادیوں کو چاہئے کہ وہ اسرائیل کو کسی بھی کارروائی کرنے سے قبل اس کے مضمرات پر اچھی طرح غور کرنے پر مجبور کریں، بصورت دیگر مشرق وسطیٰ میں وسیع پیمانے پر جنگ پھیل سکتی ہے، جس میں اسرائیل کا اتحادی امریکہ بھی شامل ہوگا۔
راولپنڈی عمران خان سے ملاقات کے لئے پی ٹی آئی کاکوئی رہنمایا فیملی ممبر اڈیالہ جیل نہیں پہنچ سکا،اڈیالہ جیل...
نئی دلی امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے ہندو انتہا پسند گروپ، راشٹریہ سویم سیوک سنگھ پر...
اسلام آ باد وزیراعظم شہبازشریف 23 سے 25 مئی تک چین کا دورہ کریں گے۔ دورے کےدوران چین کے صدر شی جن پنگ اورچینی...
اسلام آباد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کا اہم ترین سربراہی اجلاس پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین...
کوئٹہگورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ پولیٹیکل فلاسفی کے تناظر میں مخلوط حکومت کو حقیقی جمہوریت کے...
نئی دلی بھارت نے پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے درخواست دہندگان کے لیے شہریت کے قواعد...
لاہور پاکستان مسلم لیگ کے صدر محمد نواز شریف سے ازبکستان کے سفیر علی شیر تختیوف نے ملاقات کی جس میں پاکستان...
اسلام آباد روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاروف نے تصدیق کی ہے کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر کوئی پابندیاں عائد نہیں ہیں...