کوہ پیمائوں نے مائونٹ ایورسٹ کو بلند ترین بیت الخلاء بنا دیا

15 اپریل ، 2024

کراچی (نیوز ڈیسک) نیپال میں دنیا کے بلند ترین چوٹی مائونٹ ایورسٹ نے چیلنج کے متلاشی اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کیلئے ہمہ وقت دنیا بھر کے کوہ پیمائوں کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کئی ماہر کوہ پیما اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ 2000ء میں اس بلند ترین پہاڑ کو ’’کچرے کا پہاڑ‘‘ قرار دیا گیا تھا اور اس حسین اور دلکش مقام کو یہ معلوم کرنے کا پیمانہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے کہ آخر انسان قدرتی مقامات کو کس حد تک گندا کر سکتا ہے۔ نیپالی حکام کا کہنا ہے کہ حالات خراب اور پہاڑ پر انسانوں کی پھیلائی ہوئی گندگی قابل برداشت حد سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے۔ جس مقام کو دنیا کا سب سے بہترین اور پرکشش علاقہ ہونا چاہئے تھا وہ اب انسانی فضلے، گندگی اور کوڑے کرکٹ کی وجہ سے اس قدر خراب ہو چکا ہے کہ اسے بلند ترین مقام پر قائم بیت الخلاء کہنا غلط نہ ہوگا۔ صورتحال اس قدر خراب بتائی جا رہی ہے کہ جیسے جیسے برف پگھل رہی ہے، ماحول میں شدید بدبو پھیلتی جا رہی ہے۔ سب سے زیادہ بدبو پیشاب اور پاخانے کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے۔ ایک طرف کوہ پیمائوں کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے تو دوسری طرف یہ لوگ صفائی کرنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ صورتحالی کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے حکومت کوہ پیمائوں کو پابند کر رہی ہے کہ وہ چوٹی سر کرنے کیلئے جاتے وقت مختص کردہ پوائنٹ سے کچرا جمع کرنے کا تھیلا حاصل کریں ۔