اسرائیل کا جدید ترین ’ایرو ایریئل ڈیفنس سسٹم‘ کیسے کام کرتا ہے؟

15 اپریل ، 2024

کراچی (نیوز ڈیسک) اسرائیل کا جدید ترین ’ایرو ایریئل ڈیفنس سسٹم‘ کیسے کام کرتا ہے؟، ٰیہ دنیا کا جدید ترین اینٹی ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم ، ایرو ٹو اور ایرو ٹھری میزائل شامل، مختصر ، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو نشانہ بناسکتا ہے،میزائل ایکسپرٹ سید محمد علی کا کہنا ہے کہ کامیابی کا دارومدار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں دشمن کی دفاعی حکمتِ عملی پر ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی بڑی اکثریت کو اسرائیل کی حدود میں پہنچنے سے قبل ہی ’ایرو ایریئل‘ نامی فضائی دفاعی نظام اور خطے میں موجود اتحادیوں کی مدد سے ناکام بنا دیا ہے۔ اسرائیل کا ’ایرو ایریئل ڈیفنس سسٹم‘ کیا ہے، یہ کیسے کام کرتا ہے اور یہ آئرن ڈوم سے کیسے مختلف ہے۔ اسرائیل ایرو سپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے مطابق ایرو ویپن سسٹم (اے ڈبلیو ایس) دنیا کا جدید ترین اینٹی ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم ہے۔ اس سسٹم میں ایرو ٹو اور ایرو تھری دونوں میزائل شامل ہیں جو اسے مختصر، درمیانے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے قابل بناتے ہیں۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ آئرن ڈوم کی کامیابی کی شرح تقریباً 90 فیصد ہے تو ایرو ایئرل کی کامیابی یا ناکامی کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں، اس کے جواب میں سید محمد علی کا کہنا ہے کہ ایرو ایریئل یا اسرائیل کے دیگر دفاعی نظام کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار صرف ٹیکنالوجی کی صلاحیت پر نہیں۔