جنگ کے آثارگریٹراسرائیل کی تکمیل کیلئے ہیں‘ مولانا شیرانی

15 اپریل ، 2024

کوئٹہ(پ ر) رہبر جمعیت مولانا محمد خان شیرانی نے کہا ہے کہ شام میں ایک مسلم مملکت کے مرکز پر غیر مسلم ملک کا حملہ مجبوری نہیں بلکہ منصوبے کے تحت کیا گیا تھا جنگ کے دائرے میں توسیع کی خواہش کو تدبر اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرکے ہی لگام دیا جاسکتا ہے پہلی جنگ عظیم کے نتیجے میں امت مسلمہ کی سیاسی وحدت اور اقتدار کے مرکز خلافت عثمانیہ کا زوال عمل میں آیا تھا دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں دنیا کے سیاسی جغرافیے میں مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی ریاست وجود میںآئی اور اب ایک ایسے کثیر الجہتی جنگ کے وقوع کے آثار نمایاں ہورہے ہیں جس کے ذریعے گریٹر اسرائیل کا راستہ ہموار ہواس لیے خطے کے ممالک کو فوری ہیجان اور جذباتی ردعمل کی بجائے جوابی اقدامات کے دوررس اثرات اور مضمرات کو سامنے رکھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگ کے شعلوں کو ہوا دینا اس وسیع المدت اور وسیع البنیاد منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت لبنان، سعودی عرب، شام اور اردن کے بعض حصوں کو عظیم تر اسرائیل میں شامل کرانا ہے اس مقصد کے لئے پہلے مرحلے میں خطے کے ممالک کے بین الاقوامی سرحدات کی حیثیت کو ختم کیا جارہا ہے جبکہ اپنے خلاف مسلمان ملک کی جارحیت کو بنیاد بناکر مسلم اور غیر مسلم ممالک اور مشرق و مغرب کی تقسیم کو واضح کیا جارہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اثر رسوخ رکھنے والے تمام امن پسند ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشتعال کو کم کرنے اور خطے کے حالات کو 7 اکتوبر 2023 سے پہلے کے معمول پر واپس لانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔